خلفائے اندلس

ترک وطن

۱۳۴ھ میں جب خلافت بنو امیہ کا خاتمہ ہو کر خلافت عباسیہ شروع ہوئی تو عبدالرحمن بن معاویہ کی عمر بیس سال کے قریب تھی‘ دریائے فرات کے کنارے عبدالرحمن کی ایک جاگیر تھی‘ جب عباسی لشکر ملک شام میں داخل ہو کر دمشق پر قابض و متصرف ہوا اور بنو امیہ کا قتل عام ہونے لگا تو اس زمانے میں عبدالرحمن بن معاویہ دمشق میں موجود نہ تھا‘ بلکہ اپنی جاگیر کے گائوں میں آیا ہوا تھا۔ عبدالرحمن کو جب یہ معلوم ہوا کہ بنو امیہ اور ان کے ہمدردوں کو چن چن کر قتل کیا جا رہا ہے تو وہ احتیاط کی نظر سے گائوں کے باہر درختوں کے کنج میں خیمہ نصب کر کے رہنے لگا‘ کیوں کہ گائوں پر اگر کوئی آفت آئے تو وہ خطرہ سے واقف ہو کر اپنی جان بچانے کی فکر کر سکے۔ ایک روز وہ اپنے خیمہ میں بیٹھا تھا کہ اس کا تین چار سال کا لڑکا جو باہر کھیل رہا تھا خوف زدہ ہو کر خیمہ کے اندر آیا‘ عبدالرحمن اس کے خوف زدہ ہونے کا سبب معلوم کرنے کے لیے خیمہ سے باہر نکلا تو اس نے دیکھا کہ عباسیوں کا سیاہ جھنڈا ہوا میں لہرا رہا ہے اور اس کی جانب آ رہا ہے‘ تمام گائوں میں ہلچل مچی ہوئی ہے۔ یہ دیکھ کر کہ عباسی لشکر بنو امیہ کے قتل کرنے کو پہنچ گیا ہے‘ وہ اپنے بیٹے کو گود میں اٹھا کر دریا کی طرف بھاگا‘ ابھی وہ دریا تک نہ پہنچنے پایا تھا کہ دشمنوں نے اس کا تعاقب کیا‘ اور چلا چلا کر کہنے لگے کہ تم بھاگو مت‘ ہم تم کو کوئی آزار نہ پہنچائیں گے اور ہر طرح تمھاری امداد و اعانت بجا لائیں گے‘ عبدالرحمن کے پیچھے پیچھے اس کا بھائی بھی تھا‘ عبدالرحمن نے دشمنوں کی ان باتوں کی جانب مطلق التفات نہ کیا اور دریا کے کنارے پہنچتے ہی دریا میں کود پڑا‘ عبدالرحمن کا بھائی دشمنوں کی تشفی آمیز باتوں سے فریب کھا کر دریا کے کنارے کھڑا ہو کر اور رک کر کچھ سوچنے اور پیچھے کو دیکھنے لگا‘ دشمنوں نے فوراً پہنچتے ہی اس کا سر تلوار سے اڑا دیا عبدالرحمن نے مطلق پس و پیش نہ کیا‘ اور دریا میں تیرتا ہوا اپنے بیٹے کو چھاتی سے لگائے ہوئے دریا کے دوسرے کنارے پر پہنچ گیا‘ دشمنوں نے دریا میں تیرنے کی جرأت نہ کی‘ بلکہ اسی کنارے پر کھڑے ہوئے تماشا دیکھتے رہے۔