محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم
پہلی درس گاہ
اس زمانہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے دامن کوہ صفا میں ارقم بن ارقم کے مکان کو بطور اسلامی درس گاہ کے استعمال فرمانا شروع کیا‘ اسی مکان میں ہر نیا داخل اسلام ہونے والا شخص آتا اور اسلامی تعلیم سے آگاہ ہوتا‘ اس مکان میں ہر وقت مسلمانوں کا مجمع رہنے لگا‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اسی دار ارقم میں لوگوں کو اسلام سکھاتے اور یہیں مل کر سب نماز ادا کرتے تھے‘ تین سال یعنی نبوت کے چھٹے سال تک آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی قیام گاہ اور اسلامی دارالصدر یہی دارارقم رہا‘ ان تین سالوں میں جو لوگ مسلمان ہوئے ان کا مرتبہ بھی اول المسلمین کے برابر سمجھا جاتا ہے۔
دار ارقم میں مسلمان ہونے والوں کی فہرست میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ آخری شخص ہیں‘ ان کے مسلمان ہونے پر مسلمانوں کو بڑی تقویت پہنچی ۱؎اور دار ارقم سے باہر نکل آئے۔
قریش نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اور ان کی جماعت کا استیصال ضروری سمجھا تو ایذا رسانی اور تکلیف دہی کے نئے طریقے اختیار کئے۔