محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم

علانیہ سعی تبلیغ

اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے عام طور پرلوگوں کو توحید اور اسلام کی طرف بلانا شروع کیا اور اسی زمانہ سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی کمزور اور قلیل جماعت پر عام مصائب کا نزول شروع ہوا ‘ مجلسوں میں میلوں میں‘ بازاروں میں‘ نشست گاہوں میں لوگوں کے گھر جا جا کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم توحید کی خوبی سمجھاتے اور بتوں کی پوجا سے لوگوں کو منع فرماتے تھے‘ زنا‘ قمار بازی‘ دروغ گوئی‘ خیانت چوری‘ ڈاکہ زنی وغیرہ رزائل سے لوگوں کو روکتے‘ قریش کی قوم بڑی مغرور تھی‘ اپنے اور اپنے آبائو اجداد کے مذہب اور طریق عمل کی مذمت سننا ان کے لیے آسان کام نہ تھا‘ ان لوگوں میں غلام اور آقا کا امتیاز بھی ایک ضروری چیز تھی‘ اسلام ایک عام اخوت قائم کر کے غلام اور آقا کو ایک ہی صف میں جگہ دیتا تھا‘ یہ مساوات بھی ان کوگوارانہ تھی۔ قریش اور اہل مکہ کی عزت و تعظیم جو تمام ملک عرب میں مسلم تھی وہ ان بتوں کی وجہ سے تھی جن کی پرستش کے لیے تمام قبائل عرب مکہ میں آتے اورمراسم بت پرستی بجا لاتے تھے‘ اسلام بت پرستی کا دشمن تھا جس کا بد یہی نتیجہ ان لوگوں کی عزت و عظمت کا زوال تھا بڑے بڑے سردار اور ذی عزت لوگ یہ کسی طرح گوارا نہیں کر سکتے تھے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو رسول اور نبی مان کر اپنی سرداری کے مقام سے دست بردار ہوں‘ اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی اطاعت کا بوجھ اپنی گردن پر رکھیں۔ قریش کے اکثر قبائل بنو ہاشم سے عداوت رکھتے تھے‘ اس لیے وہ گوارہ نہیں کر سکتے تھے کہ ایک حریف اور دشمن قبیلہ کے شخص کو نبی مان کر اس کی اطاعت اختیار کریں۔ اس اعلانیہ تبلیغ کا نتیجہ یہ ہوا کہ تمام قریش مخالفت پر مستعد اور درپے استیصال ہو گئے‘ کفر و اسلام کی یہ علانیہ کش مکش نبوت کے چوتھے سال کے ساتھ ہی خوب زور شور سے شروع ہو گئی تھی۔