امیران اندلس

عبدالملک بن فہری

اس لڑائی کے انجام اور عبدالرحمن کی شہادت کا حال جب گورنر افریقہ عبید بن عبدالرحمن کو معلوم ہوا تو اس نے عبدالملک بن قطن فہری کو اندلس کا امیر مقرر کیا اور حکم دیا کہ فرانسیسیوں سے عبدالرحمن غافقی کا انتقام ضرور لینا چاہیئے‘ عبدالملک بن قطن فہری نے اندلس میں داخل ہو کر ۱۱۵ھ میں زمام حکومت اپنے ہاتھ میں لی اور ملک کے اندرونی انتظامات سے فارغ ہو کر فرانس کے ملک پر حملہ کی تیاری کی۔ عبدالملک بن قطن ایک تجربہ کار اور ہوشیار شخص تھا‘ اس لیے اس سے بڑی بڑی توقعات تھیں‘ وہ اپنے ساتھ کچھ فوج افریقہ سے بھی لایا تھا‘ مگر عبدالملک سے غلطی یہ ہوئی کہ اس نے موسم برشگال میں فرانس کی جانب کوچ کیا‘ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جبل البرتات سے گزرتے ہی ندی نالوں اور دریائوں نے فوج کے عبور کو دشوار کر دیا‘ اس حالت کو دیکھ کر عیسائی قزاقوں نے چھاپے مارنے شروع کر دیئے‘ فوج کو دریائوں اور ندی نالوں میں گھرا ہوا دیکھ کر عبدالملک نے واپسی کا ارادہ کیا اور بہ مشکل نقصان اٹھا کر فوج کو واپس لایا‘ اس آنے جانے میں وقت بھی ضائع ہوا‘ آدمیوں کا بھی نقصان ہوا اور کام بھی کچھ نہ ہوا۔