امیران اندلس

عثمان لخمی کی بغاوت

اوپر ذکر ہو چکا ہے کہ عثمان لخمی نے بھی پانچ مہینے اندلس کی حکومت کی تھی‘ حکومت و امارت اندلس سے معزول ہو کر عثمان کو اندلس کے ایک شمالی صوبہ کی حکومت مل گئی تھی‘ یہ صوبہ وہی تھا جس میں جبل البرتات اور اس کے شمال کا وہ حصۂ ملک تھا جو مسلمانوں نے فتح کر لیا تھا‘ عثمان چونکہ تمام ملک اندلس کا حاکم ہو کر اب ایک چھوٹے سے حصۂ ملک کا عامل اور حاکم اندلس کا ماتحت تھا‘ لہٰذا وہ اپنی اس حالت میں قانع نہ تھا اور اس فکر میں رہتا تھا کہ کسی طرح اپنی خودمختار حکومت قائم کروں عثمان چونکہ بربری قبائل سے تعلق رکھتا تھا‘ لہٰذا اس کو عربوں اور شامیوں سے بھی کوئی ہمدردی نہ تھی بلکہ ان کو رقابت ونفرت کی نگاہ سے دیکھتا تھا‘ ڈیوک آف ایکیوٹین جو ملک فرانس کے ایک بڑے حصہ پر قابض و متصرف اور گاتھ قوم کا بادشاہ تھا‘ جنگ طولوز کے بعد ملک فرانس کے شمالی بادشاہ چارلس مارٹل سے برسر پرخاش تھا اور اپنے آپ کو چارلس مارٹل کے مقابلے میں طاقتور بنانے کے لیے اس بات کا خواہش مند ہوا کہ اپنے ہمسایہ مسلمان عامل کو اپنا ہمدرد بنا کر اپنے رقیب مارٹل کو نیچا دکھائے‘ چنانچہ ڈیوک آف ایکیوٹین نے عثمان سے خط و کتابت اور تحائف کے ذریعہ صلح و دوستی کی بنیاد قائم کی اور رفتہ رفتہ نوبت یہاں تک پہنچی کہ ڈیوک آف ایکیوٹین نے اپنی نہایت حسین و جمیل اور شہرئہ آفاق لڑکی کی شادی عثمان کے ساتھ اس شرط پر کر دی کہ لڑکی اپنے آبائی دین عیسوی پر قائم رہے گی اور عثمان اس کو مسلمان ہونے پر مجبور نہ کرے گا‘ ۱؎اس لڑکی کے معاوضہ میں ڈیوک آف ایکیوٹین نے عثمان سے یہ ۱؎تاریخ میں ہمیں بہت سے ایسے واقعات ملتے ہیں جب عیسائیوں نے حالات کے دبائو کے تحت یا جب انہیں شکست یا اپنے ملک پر مسلمانوں کے خوف لاحق ہوا تو انہوں نے مسلم امراء کو یہ پیشکش کر دی کہ ہم اپنی لڑکی  عہدنامہ بھی لکھوا لیا کہ عثمان اپنی فوجوں کو کبھی ڈیوک کے خلاف استعمال نہ کرے گا۔