امیران اندلس

حرب بن عبدالرحمن ثقفی

حرب بن عبدالرحمن نے اندلس میں پہنچ کر زمام حکومت اپنے ہاتھ میں لی اور موسیٰ و عبدالعزیز و ایوب کے زمانے کے تمام اہل کاروں کو بدگمانی کی نظر سے دیکھ کر ان پر سختی و تشدد شروع کیا‘ نیز عیسائیوں اور یہودیوں کے ساتھ بھی ایسا ہی سخت برتائو کیا۔ عیسائی اور یہودی اس سے پیشتر اپنے لیے مسلمان حکمرانوں کو بہت ہی رحیم و کریم دیکھ چکے تھے‘ انہوں نے اپنا ایک وفد قیروان روانہ کیا کہ محمد بن یزید سے گزارش کر کے اس امیر کو تبدیل کرائے‘ محمد بن یزید نے اس طرف توجہ نہ کی کیونکہ حرب بن عبدالرحمن کو اسی نے مقرر کر کے بھیجا تھا‘ اس وفد نے ہمت سے کام لے کر دمشق کا راستہ لیا یہ وہ زمانہ تھا کہ خلیفہ سلیمان بن عبدالملک کے بعد سیدنا عمر بن عبدالعزیز تخت خلافت پر متمکن تھے‘ چنانچہ وہ وفد خلیفۃ المسلمین سیدنا عمر بن عبدالعزیز کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ حرب بن عبدالرحمن کو اندلس کی حکومت سے تبدیل کر دیجئے اور کسی رحم دل حاکم کو مقرر کیجئے‘ سیدنا عمر بن عبدالعزیز نے حرب بن عبدالرحمن کو حکومت اندلس سے معزول کر کے سمح بن مالک خولانی کو جو صوبہ افریقہ کی افواج کا سپہ سالار تھا‘ اندلس کی حکومت پر مامور فرمایا‘ سمح بن مالک نے اندلس پہنچ کر حرب بن عبدالرحمن کو معزول کیا اورخود زمام حکومت اپنے ہاتھ میں لی‘ حرب بن عبدالرحمن بن عبدالرحمن ثقفی نے اندلس میں دو برس آٹھ مہینے حکومت کی۔