مسلمانوں سے پہلے اندلس کی حالت
موسیٰ بن نصیر
اس زمانہ میں خلیفہ ولید بن عبدالملک کی جانب سے شہر قیروان میں موسیٰ بن نصیر خلیفہ کے مقبوضات غربی کا وائسرائے تھا‘ موسیٰ بن نصیر کی طرف سے طارق بن زیاد‘ اس کا ایک بربری النسل غلام شہر طنجہ کی حکومت پر مامور اور ملک مراکش کی افواج اسلامیہ کا سپہ سالار تھا‘ طارق اگرچہ جولین سے قریب تھا لیکن جولین نے بجائے طارق سے گفتگو کرنے کے موسیٰ بن نصیر سے اپنا مقصود ظاہر کرنا مناسب سمجھا‘ وہ اشبیلیہ کے اسقف اعظم اور چند عیسائی سرداروں کو ہمراہ لے کر قیروان پہنچا‘ اور موسیٰ بن نصیر کی خدمت میں اپنے آنے کی اطلاع پہنچائی۔ موسیٰ بن نصیر اس عیسائی وفد سے بڑی تعظیم و تکریم کے ساتھ ملا۔
جولین اور اس کے ہمراہیوں نے عرض کیا کہ آپ اندلس پر فوج کشی کریں‘ فتح و نصرت یقینا آپ کے شامل حال ہو گی‘ موسیٰ یہ سن کر متامل ہوا اور کوئی تسکین بخش جواب نہ دے سکا۔ تب جولین اور اسقف اشبیلیہ نے کہا کہ آج کل اندلس میں ایک شخص غاصبانہ طور پر مسلط ہے‘ موجودہ حکومت اندلس کی رعایا کے لیے ایک قہرالٰہی ہے۔ بنی نوع انسان کے حقوق جو محض انسان ہونے کی وجہ سے آپ پر عائد ہوتے ہیں‘ آپ ان کو ادا کریں اور اہل اندلس کو اس جہنم سے جس میں آج کل وہ مبتلا ہیں نجات دلائیں‘ بجز آپ کے اور کوئی طاقت دنیا میں ایسی نہیں جس کے پاس ہم اپنی فریاد لے کر جائیں اور اس کے ذریعہ اس مصیبت سے آزادی پائیں‘ موسیٰ بن نصیر نے جولین کے اس اصرار کے بعد اندلس کے حالات اور حکومت کی فوجی طاقت کے متعلق سوالات کئے اور خلیفۂ دمشق ولید بن عبدالملک سے اجازت طلب کرنا ضروری سمجھ کر ایک عریضہ دمشق کی جانب روانہ کیا۔