دوسری فصل
ریاست ہواشم (مکہ)
سلیمانیوں کے بعد مکہ میں ابو ہاشم محمد بن حسن بن محمد بن موسیٰ بن عبداللہ بن ابی الکرام بن موسیٰ جون کی اولاد نے اپنی حکومت قائم کی‘ یہ لوگ بھی مثل بنو سلیمان کے مکہ کے حاکم رہے‘ دولت سلجوقیہ کے ابتدائی عہد حکومت میں ان لوگوں نے خلفاء بغداد کے نام کا خطبہ پڑھنا شروع کیا‘ آخر میں جب سلاطین سلجوقیہ کمزور ہو گئے تو ہواشم نے پھر عبیدیوں کے نام کا خطبہ پڑھنا شروع کر دیا‘ ۵۶۷ھ میں جب سلطان صلاح الدین ایوبی نے دولت عبیدیہ کا خاتمہ کر دیا‘ تو ہواشم مکہ کا بھی خاتمہ ہو گیا‘ یعنی حجاز و یمن پر بھی صلاح الدین کا قبضہ ہو گیا اور مکہ میں سلطان کی طرف سے عامل مقرر ہو کر آنے لگے۔
چند روز کے بعد مکہ پر بنو قتادہ نے اپنی حکومت قائم کی‘ ان کے بعد بنونمی نے حکومت کی‘ ان کے بعد اور لوگ قابض و متصرف رہے‘ یہاں تک کہ سلیم عثمانی نے حجاز پر قبضہ کیا‘ اس وقت سے مکہ کے حاکم شریف مکہ کے نام سے سلاطین عثمانیہ مقرر کرتے رہے‘ یہاں تک کہ ہمارے زمانہ میں شریف حسین۱؎ نے سلطنت عثمانیہ سے بغاوت کر کے حکومت اسلامیہ کو سخت نقصان پہنچایا اور عالم اسلام میں نہایت ذلت و حقارت کی نگاہ سے دیکھا گیا‘ بظاہر اس نے عیسائیوں کی سیادت تسلیم کر کے خاندان سادات کو بد نام کیا اور ہاشمیوں کے نام پر دھبہ لگا دیا۔
۱؎یہ خلافت عثمانیہ (ترکی) کی طرف سے مکہ پر گورنر تھا۔ مکہ کے گورنر کو شریف مکہ کے سرکاری خطاب سے یاد کیا جاتا تھا جبکہ اس کا اصل نام حسین بن علی تھا۔ اس نے خلافت عثمانیہ سے بغاوت کر کے خفیہ طور پر انگریزوں (سلطنت برطانیہ) سے تعلقات استوار کر کے ان سے خفیہ معاہدہ کر لیا اور خلافت عثمانیہ کے خاتمہ میں بھرپور کردار ادا کیا۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو‘ نجد و حجاز/ علامہ رشید رضا مصری‘ مترجم الشیخ عبدالرحیم … اور … محمد بن عبدالوہاب‘ ایک مظلوم اور بدنام مصلح مسعود عالم ندوی۔