معتصم باللہ
افشین کی ہلاکت
مندرجہ بالا واقعہ سے افشین کے متعلق خلیفہ معتصم کا شبہ اور بھی زیادہ یقین سے بدل گیا اور افشین کو بھی اس بات کا احساس ہو گیا کہ خلیفہ مجھ سے بد گمان ہو گیا ہے‘ چنانچہ افشین نے دارالخلافہ سے نکلنے اور بھاگ جانے کی تدبیریں سوچنی شروع کیں۔ اول اس نے ارادہ کیا کہ میں خود اپنے صوبہ آذربائیجان و ارمینیا کی طرف جا کر وہاں سے بلاد خرز کی طرف ہوتا ہوا اپنے وطن اشروسنہ (ماوراء النہر) چلا جائوں‘ لیکن اس ارادے میں اس لیے کامیابی نہ ہوئی کہ خلیفہ معتصم نے منکجور کی جگہ خود اپنی طرف سے افشین کا قائم مقام تجویز کر کے بھیج دیا تھا اور افشین جانتا تھا کہ میں آذربائیجان میں محفوظ نہیں رہ سکتا۔
آخر اس نے ارادہ کیا کہ میں خلیفہ اور تمام اراکین و سرداران سلطنت کی ضیافت کروں‘ تمام دن ان لوگوں کو کھانے پینے میں مصروف رکھوں‘ شام ہوتے ہی یہ سب لوگ دن بھر مصروف و مشغول رہنے کے سبب سو جائیں گے اور میں موقعہ پا کر شام ہی سے نکل جائوں گا اور پھر کسی کے ہاتھ نہ آئوں گا۔ ابھی وہ کوئی مستقل رائے قائم نہ کرنے پایا تھا کہ اتفاقاً اس کو اپنے راز دار خادم پر کسی وجہ سے غصہ آیا اور اس کو سخت سست کہا‘ اس خادم نے فوراً ایتاخ کے پاس آ کر افشین کے تمام ارادوں کی اطلاع کر دی‘ ایتاخ اسی وقت اس خادم کو لے کر خلیفہ معتصم کے پاس آیا اور کہا کہ افشین فرار ہونے کی تیاری کر رہا ہے۔ معتصم نے اسی وقت افشین کو طلب کیا اور درباری لباس اتروا کر قید خانہ میں بھیجوا دیا۔ اور کسی قسم کی کوئی بے تابی ظاہر نہیں کی۔ اس کے بعد خلیفہ معتصم نے فوراً عبداللہ بن طاہر گورنر خراسان کو لکھا کہ تم فوراً افشین کے بیٹے حسن بن افشین کو جو ماوراء النہر کے علاقے کا والی اور اشروسنہ میں مقیم ہے گرفتار کر کے بھیج دو۔ حسن بن افشین اکثر نوح بن اسد والی بخارا کی شکایت کیا کرتا تھا۔
عبداللہ بن طاہر نے حسن بن افشین کو لکھا کہ ہم نے بخارا کی حکومت بھی تم کو سپرد کی تم بخارا میں جا کر اور ہمارا یہ حکم دکھا کر نوح بن اسد سے بخارا کی حکومت کا چارج لے لو۔ حسن بن افشین اس تحریر کو دیکھ کر بہت خوش ہوا اور فوراً بخارا کی طرف چل دیا۔ عبداللہ بن طاہر نے نوح بن اسد والی بخارا کو پہلے ہی لکھ دیا تھا کہ ہم نے اس بہانے سے حسن بن افشین کو تمہارے پاس بھیجا ہے۔ تم اس کو بخارا میں داخل ہوتے ہی گرفتار کر لینا اور گرفتار کر کے ہمارے پاس بھیج دینا۔ چنانچہ اس ترکیب سے حسن بن افشین گرفتار ہو کر مرو میں عبداللہ بن طاہر کے پاس آیا۔
عبداللہ بن طاہر نے اس کو معتصم کی خدمت میں روانہ کر دیا۔ جب حسن بن افشین گرفتار ہو کر آ گیا تو خلیفہ معتصم نے اپنے وزیراعظم محمد بن عبدالملک‘ قاضی احمد بن ابی دئواد‘ اسحاق بن ابراہیم اور دوسرے اراکین سلطنت کی ایک جماعت مرتب کر کے حکم دیا کہ تم سب مل کر افشین کے معاملہ کی تحقیقات کرو اور وہ جس سزا کا مستحق ہو وہی سزا اس کو دو۔ اگرچہ خلیفہ معتصم اپنے حکم سے اسے فوراً قتل کرا سکتا تھا۔ لیکن اس میں اندیشہ تھا کہ کہیں در پردہ بعض سردار اس کے شریک سازش نہ ہوں۔ لہٰذا اس نے یہ نہایت ہی عاقلانہ روش اختیار کی‘ اس طرح افشین کے قتل پر فوج میں کسی قسم کا جوش معتصم کے خلاف پیدا نہیں ہو سکتا تھا۔
معتصم افشین کی بد نیتی سے خوب واقف ہو چکا تھا اور جنگ بابک کے دوران ہی میں اس کو اس بات کی اطلاع ہو چکی تھی کہ افشین اپنے بیٹے کے پاس جس کو وہ پہلے سے اپنے وطن اشروسنہ کا عامل مقرر کرا چکا تھا شاہی مال و اسباب چرا کر اور چھپا کر بھجوا رہا ہے‘ لیکن اس وقت افشین ایک ایسے دشمن سے مقابلے پر معرکہ آرا تھا جو بیس سال سے مغلوب نہ ہو سکا تھا۔ لہٰذا معتصم بالکل خاموش رہا۔ جنگ بابک کی کامیابی کوئی معمولی کارنامہ نہ تھا۔ لہٰذا جنگ بابک کے بعد افشین کو انعام و اکرام سے محروم رکھنا اور اس کی بد دیانتی کا مواخذہ کرنا خود معتصم کے لیے زہر ہلاہل کا حکم رکھتا تھا۔ اور اس کی بدنامی و ناقدردانی کی شہرت کو کوئی طاقت نہیں روک سکتی تھی۔ نیز یہ کہ افشین کی نسبت اصلاح کی بھی توقع تھی۔ مگر جب افشین کے خطوط اور طرز عمل نے اس کی غداری کو ثابت کر دیا تو معتصم کے لیے یہی مناسب تھا جو اس نے کیا۔
وزیراعظم اور دوسرے سرداروں کی مجلس نے افشین کے مقدمہ کو بڑی احتیاط اور باقاعدگی کے ساتھ سننا اور تحقیق کرنا شروع کیا۔ قید خانے سے روزانہ افشین اس کچہری میں لایا جاتا اور اس کی موجودگی میں گواہوں کے بیانات ثبوت کے کاغذات پیش کیے جاتے تھے‘ مازیار جو اب تک قید میں تھا افشین کے سامنے لایا گیا اور افشین کے خطوط افشین کو دکھائے اور سنائے گئے۔ افشین نے سب کا اقرار کیا۔ اور مازیار نے بھی صاف صاف حقیقت بیان کر دی۔ پھر افشین کے متعلق وہ باتیں پیش ہوئیں جن سے اس کا منافق ہونا ثابت ہوا۔ مثلاً اس کا قرآن‘ مساجد اور آئمہ مساجد کی بے حرمتی کرنا‘ زردشتی صحیفوں کی روزانہ تلاوت کرنا اور ان کو ہمہ اوقات اپنے ساتھ رکھنا‘ اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی شان میں گستاخی کرنا اور بظاہر مسلمانوں میں شامل رہ کر نمازیں بھی ادا کرنا اور تمام شعائر اسلامی پر عامل رہنا۔ غرض نہایت پختہ‘ قطعی اور یقینی طور پر یہ بات ثابت ہو گئی کہ افشین دل سے مسلمان نہیں ہوا تھا بلکہ وہ مسلمانوں کو دھوکہ دینے اور حکومت اسلامیہ کا تختہ الٹ کر مجوسی سلطنت قائم کرنے کی تدابیر میں مصروف و منہمک تھا۔
اس مقدمہ کی سماعت نہایت اطمینان کے ساتھ ختم ہوئی اور آخری فیصلہ یہ ہوا کہ مازیار کو چار سو درے لگائے جائیں اور افشین کو سزائے موت دی جائے۔ چنانچہ مازیار چار سو درے برداشت نہ کر سکا اور اسی سزا سے مر گیا۔ افشین کو سولی دے دی گئی۔ اور اس کی لاش عبرت دلانے کے لیے منظر عام پر لٹکائی گئی۔ یہ واقعہ ماہ شعبان ۲۲۶ھ کو وقوع پذیر ہوا۔ افشین کی جگہ اسحٰق بن معاذ کو سپہ سالاری کی خدمت سپرد کی گئی۔