معتصم باللہ
بغاوت آرمینیا و آذر بائیجان
افشین اپنے ایک رشتہ دار کو جس کا نام منکجور تھا اپنا قائم مقام بنا کر اور آذربائیجان کی حکومت سپرد کر کے خود دارالخلافہ میں سکونت پذیر تھا۔ منکجور کو آذربائیجان کے کسی قصبہ میں بابک خرمی کا بہت سا خزانہ مل گیا۔ منکجور نے اس کی اطلاع خلیفہ کو نہیں کی اور خود اپنا قبضہ کر لیا‘ معتصم کے پرچہ نویس نے اس کی اطلاع معتصم کو دی۔ منکجور کو اس کا حال معلوم ہوا تو وہ پرچہ نویس کے قتل پر آمادہ ہو گیا۔ پرچہ نویس نے باشندگان اردبیل سے پناہ طلب کی۔ اہل اردبیل نے منکجور کو اس حرکت سے باز رکھنا چاہا تو وہ ان کے بھی درپئے قتل ہو گیا۔ معتصم کو جب یہ حال معلوم ہوا تو اس نے منکجور کی معزولی کا فرمان افشین کے پاس بھیج دیا۔ اور بغاکبیر کو بجائے منکجور کے معہ فوج آذربائیجان کی طرف روانہ کر دیا۔
منکجور یہ سن کر کہ میں معزول ہو گیا ہوں اور میری بجائے بغاکبیر آ رہا ہے بغاوت پر آمادہ ہو گیا۔ اردبیل سے نکل کر معرکہ آرا ہوا۔ اس لڑائی میں منکجور کو شکست ہوئی اور بغا کبیر نے آگے بڑھ کر اردبیل پر قبضہ کیا۔ منکجور فرار ہو کر آذربائیجان کے کسی ایک قلعہ میں قلعہ بند ہو کر بیٹھ رہا۔ قریباً ایک مہینہ قلعہ بند رہا آخر اس کے ہمراہیوں میں سے ایک شخص نے بحالت غفلت اس کو گرفتار کر کے بغا کبیر کے سپرد کر دیا۔ بغا کبیر اس کو لیے ہوئے سامرا میں واپس آیا۔ اور خلیفہ معتصم کی خدمت میں پیش کر دیا۔ خلیفہ نے اس کو جیل خانے بھجوا دیا۔