ہشام بن عبدالملک
ہشام بن عبدالملک
ابوالولید ہشام بن عبدالملک ۷۲ھ میں پیدا ہوا‘ اس کی والدہ عائشہ بنت ہشام بن اسماعیل مخزومی تھی‘ جب یزید بن عبدالملک کا انتقال ہوا تو ہشام حمص میں مقیم تھا‘ وہیں قاصد یہ خبر اور یزید کا عصا اور انگوٹھی لے کر گیا‘ ہشام حمص سے دمشق میں آیا اور لوگوں سے اپنی خلافت کی بیعت لی۔
ہشام بن عبدالملک نے تخت نشین ہونے کے بعد ابن ہبیرہ کو عراق کی حکومت سے معزول کر کے اس کی جگہ خالد بن عبداللہ قسری کو حکومت عراق کی سند دے کر روانہ کیا‘ اوپر ذکر ہو چکا ہے کہ مسلم بن سعید خراسان کا حاکم مقرر ہوا تھا‘ مسلم نے فوج لے کر ترکوں پر چڑھائی کی اور ۱۰۵ھ کے آخر تک مصروف جنگ رہ کر اکثر ترک سرداروں کو مغلوب کر کے ان سے خراج وجزیہ وصول کیا۔
واقعات خراسان
۱۰۶ھ میں مسلم بن سعید نے جہاد کے ارادے سے بہت بڑی فوج جمع کر لی اور بخارا وفرغانہ کی طرف جا کر باغیوں کو سزائیں دیں‘ خاقان چین نے اہل فرغانہ کی مدد کی اور خاقان سے مسلم کی کئی زبردست اور خون ریز لڑائیاں ہوئیں‘ انجام کار خاقان کو شکست ہوئی‘ اور ترکوں کے بڑے بڑے سردار مسلمانوں نے گرفتار کر لیے‘ اسی سال ہشام بن عبدالملک خلیفۂ دمشق نے خالد بن عبداللہ کو خط لکھا کہ مسلم بن سعید کو خراسان کی گورنری سے معزول کر کے اپنے بھائی اسد بن عبداللہ قسری کو خراسان کا گورنر بنا کر بھیج دو‘ چنانچہ خالد بن عبداللہ نے اسد بن عبداللہ اپنے بھائی کو خراسان کی سند حکومت دیکر روانہ کیا اور مسلم بن سعید نے بخوشی خراسان کی حکومت اس کے سپرد کر دی خالد بن عبداللہ نے جب اپنے بھائی اسد بن عبداللہ کو خراسان کا حاکم بنا کر بھیجا تو اس کے ساتھ ہی عبدالرحمن بن نعیم کو اس کا نائب بنا کر بھیج دیا تھا۔
اسد بن عبداللہ نے خراسان کی حکومت سنبھالتے ہیں جبال ہرات یعنی غور وغیرہ کی طرف حملہ کیا اور وہاں سے مسلمانوں کو بہت سا مال غنیمت حاصل ہوا‘ ان لڑائیوں میں نصر بن سیار اور مسلم بن احور نے بہت نام وری حاصل کی‘ اسد بن عبداللہ نے چند ہی روز کے بعد ایسے اخلاق کا اظہار کیا کہ لوگ اس سے پریشان ودحشت زدہ ہونے لگے‘ اس نے نصر بن سیار کے سودرے لگوائے۔ عبدالرحمن بن نعیم کا سرمنڈوایا اور ان لوگوں کو اپنے بھائی خالد بن عبداللہ کے پاس بھیج دیا کہ یہ میرے قتل کی سازش میں شریک تھے۔
اسی طرح وہ اہل خراسان کو بھی بہت لعن وطعن کرتا اور سختی سے پیش آتا تھا‘ ان باتوں کا حال ہشام بن عبدالملک کو معلوم ہوا تو اس نے دمشق سے خالد بن عبداللہ کو لکھا‘ کہ اسد بن عبداللہ کو خراسان کی حکومت سے معزول کر دو‘ پھر خود ہی براہ راست اشرس بن عبداللہ سلمی کو خراسان کی حکومت پر مامور کر کے بھیج دیا اور خالد کو اطلاع دے دی۔
اشرس نے خراسان میں پہنچ کر اپنے نیک سلوک اور خوش اخلاقی سے سب کو خوش کر لیا‘ اشرس نے ۱۱۰ھ میں ابوالصیداء‘ صالح بن ظریف اور ربیع بن عمران تمیمی کو سمرقند وماوراء النھر کی طرف اس غرض سے روانہ کیا کہ وہاں جا کر لوگوں کو سلام کی خوبیاں سمجھائیں اور شرک کی برائیوں سے آگاہ کر کے راہ راست پر لائیں‘ اس علاقے میں آئے دن بغاوتیں ہوتی رہتی تھیں اور حکومت اسلامیہ نوک شمشیر کے ذریعہ قائم تھی‘ اشرس نے اس کا بہترین علاج یہی تجویز کیا کہ ان لوگوں کو اسلام سے آگاہ کر کے مسلمان بنایا جائے تو ان کے اندر جس قدر عیوب ہیں وہ خود بخود دور ہوجائیں گے اور حکومت اسلامیہ کے لیے پھر کوئی خطرہ باقی نہ رہے گا‘ چنانچہ اس دعوت اسلام کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہونے شروع ہوئے۔
سمر قند کے علاقہ پر حسن بن عمرطہ کندی صیغۂ مال کا افسر مقرر تھا۔ جب لوگ اسلام میں داخل ہونے لگے تو اس سے جزیہ کی آمدنی جو ذمیوں سے لیا جاتا تھا کم ہونے لگی‘ ذمیوں کے نومسلم ہونے سے جو آمدنی میں کمی ہوئی تو حسن بن عمرطہ نے اس کی شکایت اشرس بن عبداللہ سلمی گورنر خراسان کو لکھی‘ اشرس بن عبداللہ نے جواب دیا کہ بہت سے لوگ ممکن ہے کہ محض جزیہ کی وجہ سے مسلمان ہوگئے ہوں اور دل سے انہوں نے اسلام قبول نہ کیا ہو۔ لہٰذا تم دیکھو کہ جس نے ختنہ کرالی ہو اور نماز پڑھتا ہو اس کو جزیہ معاف کر دو‘ ورنہ چاہے وہ اپنے آپ کو مسلمان کہے اس سے ضرور جزیہ وصول کرو۔
اشرس اگرچہ خود اس کو پسند نہ کرتا تھا‘ مگر خالد اور ہشام کا منشاء یہی تھا‘ کہ نو مسلموں کے ساتھ سختی سے محاسبہ ومعاملہ کیا جائے‘ اشرس کے پاس سے اس جواب کے آنے پر حسن بن عمرطہ نے اس حکم کی تعمیل میں اس لیے تامل کیا‘ کہ یہ شریعت اسلام کے موافق نہ تھا‘ اشرس بن عبداللہ نے حسن بن عمرطہ کو صیغۂ مال سے معزول کر کے ہانی ابن ہانی کو مامور کیا اور سمر قند کی حکومت و سپہ سالاری پر اس کو قائم رکھا۔
ہانی ابن ہانی نے نومسلموں سے آکر جزیہ وصول کرنا شروع کیا‘ ابوالصیداء نے نومسلموں کو جزیہ دینے اور ہانی کو جزیہ لینے سے روکا‘ ہانی نے اشرس کو خط لکھا‘ کہ یہ لوگ مسلمان ہوگئے ہیں‘ انہوں نے مسجدیں بھی بنالی ہیں‘ ان سے جزیہ کیسے وصول ہوسکتا ہے‘ اس کے جواب میں ہانی کے پاس حکم پہنچا‘ کہ تم ان تمام لوگوں سے جو جزیہ دیا کرتے تھے جزیہ وصول کرو‘ چاہے وہ مسلمان ہی کیوں نہ ہوگئے ہوں۔
یہ دیکھ کر ابوالصیداء نے نومسلموں کی سات ہزار جمیت لے کر سمر قند سے چند فرسنگ کے فاصلے پر قیام کیا اور مقابلے پر مستعد ہوگیا‘ چوں کہ ابوالصیداء کے پاس وجہ مخالفت معقول تھی‘ لہٰذا بہت سے مسلمان سردار حاکم سمر قند کی فوج میں سے ابوالصیداء کے پاس نومسلموں کی حمایت کے لیے چلے گئے‘ اشرس نے یہ حالت دیکھ کر حسن بن عمرطہ کو سمرقند کی حکومت سے معزول کر کے محشر بن حزاحم سلمی کو مامور کیا‘ محشر بن مزاحم نے سمرقند پہنچ کر ابوالصیداء اور اس کے ہمراہی سرداروں کو صلح کے بہانے دھوکے سے بلا کر قید کر دیا اور اشرس کے پاس روانہ کر دیا۔
نومسلموں نے ابوفاطمہ کو اپنا سردار بنا لیا‘ آخر مجبور ہو کر ان مسلمانوں کو جزیہ کی معافی کا وعدہ دیا گیا‘ اور جب ان کی جمعیت اور اتفاق جاتا رہا تو بتدریج ان پر سختی شروع کی گئی‘ اور طرح طرح سے ذلیل کیا گیا‘ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ لوگ جو مسلمان ہوچکے تھے پھر مرتد ہو کر باغی ہوگئے اور از سرنو مقابلہ پر آمادہ ہو کر خاقان سے خواہاں امداد ہوئے‘ خاقان اپنی زبردست فوجیں لے کر آیا اور مسلمانوں کے ساتھ ایک جدید سلسلۂ جنگ شروع ہوگیا‘ اشرس خود مقابلہ پر پہنچا‘ طرفین سے خوب داد شجاعت دی گئی‘ بہت سے مسلمان اور بہت سے ترک تہ تیغ ہوئے آخر اس خوں ریز سلسلۂ جنگ کا خاتمہ صلح پر ہوا۔اس جگہ ان لوگوں کو جو اسلام کی اشاعت کو بزور شمشیر بتاتے ہیں غور وتامل کرنا چاہیئے‘ کہ مسلمانوں نے اپنے زور شمشیر کو اسلام کی اشاعت میں صرف کیا یا ان کے بعض نادان حکمران نے زور شمشیر کو اسلام کی اشاعت کے روکنے میں صرف کیا ہے۔
۱۱۱ھ میں ہشام بن عبدالملک نے اشرس بن عبداللہ کو جب کہ وہ ترکوں اور سمرقندیوں سے مصروف پیکار تھا معزول کر کے جنید بن عبدالرحمن بن عمر بن حرث بن خارجہ بن سنان بن ابی حارثہ مری کو مامور کیا‘ جنید جب خراسان کے دار الصدر شہر مرو میں پہنچا تو اس نے وہاں بجائے اشرس کے اس کے نائب خطاب بن محزر سلمی کو پایا‘ وہ ایک روز قیام کر کے ماوراء النہر کی طرف روانہ ہوا اور اپنی جانب سے محشر بن مزاحم سلمی کو مرو میں چھوڑ کر اور خطاب کو اپنے ہمراہ لے کر روانہ ہوا‘ اور اشرس کے ساتھ خاقان واہل بخارا پر فتح یاب ہو کر مرو کی جانب ۱۱۱ ھ کے آخری ایام میں واپس آیا‘ مرو میں آکر اس نے قطن بن قتیبہ بن مسلم کو بخارا پر‘ ولید بن قعقاع عبسی کو ہرات پر‘ اور مسلم بن عبدالرحمن باہلی کو بلخ کی حکومت پر مامور کیا‘ لیکن چند ہی روز کے بعد مسلم بن عبدالرحمن کو معزول کر کے یحیٰ بن ضبیعہ کو بلخ کا حاکم بنایا۔
۱۱۲ ھ میں جنید نے طخارستان کے باغیوں کی سرکوبی وسزا دہی کے لیے عمارہ بن مریم کو ایک طرف سے اٹھارہ ہزار کی جمعیت کے ساتھ اور ابراہیم بن بسام کو دس ہزار کی جمعیت کے ساتھ دوسری طرف سے روانہ کیا اور خود بھی اس روانہ ہونے کی تیاری کرنے لگا‘ ترکوں کو جب اس کا حال معلوم ہوا تو وہ خاقان کو اپنا سپہ سالار اعظم بنا کر اور بہت بڑا لشکر جمع کر کے سمرقند پر حملہ آور ہوئے‘ اس زمانہ میں سمر قند کا عامل سورہ بن الجبر تھا‘ اس نے جنید کے پاس خبر بھیجی کہ خاقان نے اپنے زبردست لشکر کے ساتھ سمرقند کی طرف حرکت کی ہے‘ میری مدد کے لیے جلد فوج بھیجے۔ محشر بن مزاحم وغیرہ نے جنید کو مشورہ دیا‘ کہ سمرقند کی طرف آپ کو کم از کم پچاس ہزار فوج کے ساتھ جانا چاہئے‘ کیونکہ ترکوں کا مقابلہ آسان نہیں ہے‘ لیکن آج کل تمام فوج منتشر ہوچکی ہے‘ آپ کے پاس بہت ہی تھوڑے سے آدمی ہیں‘ اس حالت میں آپ سمرقند کا ارادہ نہ کریں‘ جنید نے سرد آہ کھینچ کر کہا‘ کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میرا بھائی سورہ بن الجبر وہاں مصیبت میں گرفتار ہو اور میں یہاں پچاس ہزار فوج کی فراہمی کے انتظار میں بیٹھا ہوں‘ یہ کہہ کر سمرقند کی طرف روانہ ہوا۔
خاقان اور ترکوں کو معلوم ہوا کہ جنید خود سمرقند کی طرف آرہا ہے تو وہ تھوڑی سی فوج سمرقند کے محاصرہ پر چھوڑ کر جنید کے سد راہ ہوئے‘ راستے ہی میں روک کر لڑائی کا بازار گرم کیا‘ جنید اور اس کے مٹھی بھر ہمرائیوں نے وہ کارہائے نمایاں انجام دیئے اور ایسی چیقلش مردانہ دکھائی کہ ترکوں کے چھکے چھوٹ گئے‘ بڑے بڑے نامی سردار مسلمانوں میں سے بھی شہید ہوئے اور ترکوں کی لاشوں کے تو انبار لگ گئے۔
ترکوں کی فوج اور خاقان کے لشکر کی تعداد بہت زیادہ تھی‘ جنید نے پہاڑ کو پس پشت رکھ کر خاقان اور اس کے لشکر کو کئی مرتبہ پیچھے ہٹایا‘ اور ترکوں کو میدان سے بھگایا‘ آخر سرداروں کے مشورے سے سورہ بن الجبر کے پاس سمرقند میں پیغام بھیجا۔ کہ ہم تم سے صرف دو منزل کے فاصلے پر مصروف جنگ ہیں‘ تم ہمت کر کے سمرقند سے نکل آئو اور نہر کے کنارے کنارے سفر کرتے ہوئے ہم تک پہنچو اور دوسری طرف سے ترکوں پر حملہ کر دو‘ سورہ بن الجبر سمرقند سے روانہ ہوا‘ لیکن جس راستے کی نسبت ہدایت کی گئی تھی اس راستے سے نہیں آیا‘ بلکہ ایک دوسرے راستے سے آیا‘ نتیجہ یہ ہوا کہ قریب ہی پہنچ کر ترکوں کے لشکر میں گھر گیا اور لڑکر بہت سے لشکر کو قتل کرا دیا‘ اس طرح جنید کو کوئی امداد نہ پہنچ سکی‘ آخر مسلمانوں نے جی توڑ کر ایسے ایسے سخت حملے کئے کہ خاقان اور ترکوں کو بھگا دیا اور سمرقند میں داخل ہوگئے۔
یہاں سے ایک تیز رفتار قاصد کے ہاتھ مفصل کیفیت لکھ کر ہشام بن عبدالملک کے پاس دمشق کو بھیجی‘ خلیفہ نے کوفہ اور بصرہ کو احکام بھیجے‘ کہ دس دس ہزار فوج دونوں مقاموں سے جنید کی مدد کے لیے روانہ کرو اور جنید کو لکھا کہ تم مصروف جہاد رہو‘ میں بیس ہزار فوج‘ تیس ہزار نیزے اور تیس ہزار تلواریں تمہاری امداد کے لیے کوفہ اور بصرہ سے بھجوا رہا ہوں‘ یہ پیغام خلیفہ کا جنید کے پاس سمرقند میں پہنچا‘ جنید سمرقند میں مقیم رہا۔
لیکن چند ہی روز کے بعد سنا کہ خاقان نے جو جنید کے مقابلے سے بھاگ گیا تھا فوجیں جمع کر کے بخارا پر قبضہ کرنے کا ارادہ کیا ہے‘ بخارا کی حکومت قطن بن قتیبہ کے سپرد تھی‘ جنید کو اندیشہ ہوا کہ کہیں قطن کی بھی وہی حالت نہ ہو جو سورہ کی سمرقند میں ہوئی تھی‘ اس نے عثمان بن عبداللہ کو چار سو سواروں کے ساتھ سمرقند میں چھوڑا اور ہر قسم کا کافی سامان رسد اس کے لیے فراہم کر دیا اور خود عورتوں اور بچوں اور ضروری سامان کو لے کر سمرقند سے بخارا کی طرف روانہ ہوا‘ طواویس کے قریب مقام کومینیہ میں یکم رمضان ۱۱۲ ھ کو خاقان سے مقابلہ ہوگیا‘ خاقان کو شکست ہوئی اور جنید اپنے سامنے راستہ صاف پا کر بخارا کی جانب سرگرم سفر ہوا‘ راستے ہی میں ایک مرتبہ پھر ترکوں نے مقابلہ کیا اس میں بھی مسلمانوں نے فتح پائی‘ اس کے بعد جنید بخارا میں داخل ہوگیا اور یہیں کوفہ وبصرہ کی فوجیں بھی جنید کے پاس پہنچ گئیں۔
جنید نے ترکوں کو متواتر اور پیہم شکستیں دے دے کر خراسان میں ہر طرف امن وامان قائم کر دیا‘ جنید کو جب خراسان کی طرف سے اطمینان حاصل ہوگیا تو اس نے ۱۱۶ ھ میں فاضلہ بنت یزید بن مہلب کے ساتھ نکاح کیا‘ ہشام بن عبدالمللک کو خاندان مہلب کے ساتھ سخت عداوت تھی‘ یہ خبر پہنچی‘ تو اس کو بہت ناگوار گزرا اور جنید کو خراسان کی حکومت سے معزول کر کے عاصم بن عبداللہ بن یزید ہلالی کو خراسان کی سند گورنری دے کر روانہ کیا‘ ادھر عاصم خراسان کی طرف روانہ ہوا‘ ادھر جنید کے مرض استسقاء نے خطرناک صورت اختیار کی‘ جس روز عاصم مرو میں داخل ہوا‘ اسی روز اس کے آنے سے پہلے فوت ہوچکا تھا‘ عاصم نے خراسان پہنچ کر جنید کے عاملوں کو معزول کر کے اپنے جدید عامل مقرر کئے۔