یزید بن عبدالملک
یزید بن عبدالملک
ابو خالد یزید بن عبدالملک بن مروان اپنے بھائی سلیمان بن عبدالملک کی وصیت کے موافق سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی کے بعد تخت خلافت پر بیٹھا‘ تخت نشین ہونے کے بعد اس نے کہا‘ کہ جتنا میں خدائے تعالیٰ کا محتاج ہوں اس قدر سیدنا عمر بن عبدالعزیز بھی نہ تھے‘ چنانچہ وہ چالیس روز تک سیدنا عمر بن عبدالعزیز ہی کے نقش قدم پر چلا۔
بنو امیہ نے جب دیکھا کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی کے بعد بھی کشود کارکی کوئی صورت پیدا نہ ہوئی‘ تو انہوں نے یزید بن عبدالملک کو اپنے منشاء کے موافق طرز عمل اختیار کرنے کی ترغیب دینے کی کوشش کی‘ اس قسم کی تمام کوششیں سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی کے سامنے تو بے کار ثابت ہوتی رہی تھیں‘ لیکن یزید بن عبدالملک عمر بن عبدالعزیز نہ تھا وہ ایک ذرا سی کوشش کے مقابلہ میں بہہ گیا۔
تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ چالیس سفید ریش لوگوں نے حاضر ہو کر اس بات کی شہادت دی کہ خلیفہ وقت جو کچھ کرے اس کا حساب اس سے نہ لیاجائے گا اور نہ اس پر عذاب ہو گا‘ ایسی تدبیروں کاخاطر خواہ نتیجہ برآمد ہوا‘ اور یزید بن عبدالملک کی جہالت نے اس کو بتدریج یزید اول کی طرح فسق و فجور کی طرف مائل کر دیا‘ حتی کہ وہ شراب و مسکرات کا بھی استعمال کرنے لگا‘ اور یہی سب سے پہلا خلیفہ تھا جس نے علانیہ شراب استعمال کی اور گانے بجانے میں بھی اپنا وقت ضائع کرنے لگا‘ اس کے بعد بنو امیہ کو کافی موقع مل گیا انہوں نے دربار خلافت پر مستولی ہو کر سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی کے زمانہ کی تمام اصلاحات کو منسوخ کرا دیا اور خلافت بنو امیہ کے اسی طرح غاصبانہ طور پر املاک و جاگیرات پر قابض و متصرف ہو گئے‘ اور اس بے انصافی میں پہلے سے زیادہ ترقی کر گئے‘ سیدنا عمر بن عبدالعزیز کے بعد ہی سے خلافت بنو امیہ کے زوال کا زمانہ سمجھنا چاہیئے‘ اسی زمانہ میں بنو عباس اور ہاشمیوں کو بنی امیہ کے خلاف کوششیں اور تدبیریں عمل میں لانے کا موقع مل گیا۔
محمد بن یوسف بردار حجاج بن یوسف ثقفی نے اپنے عہد امارت میں اہل یمن پرایک جدید ٹیکس لگا دیا تھا‘ جس کو سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی نے اپنے عہد خلافت میں معاف کر کے عشر (دسواں حصہ) قائم کیا اور فرمایا کہ مجھے اس جدید خراج کے قائم کرنے سے یہ پسند ہے کہ یمن سے ایک ذرہ برابر خراج بھی نہ آئے‘ جب یزید بن عبدالملک خلیفہ ہوا تو اس نے گورنر یمن کو لکھ بھیجا‘ کہ اس ٹیکس کو اہل یمن سے ضرور وصول کرو‘ چاہے وہ کتنے ہی ناراض کیوں نہ ہوں‘ یزید بن عبدالملک کا چچا محمد بن مروان جو جزیرہ و آذربائیجان کا گورنر تھا انہیں دنوں میں فوت ہوا‘ یزید نے اس کی جگہ اپنے دوسرے چچا مسلمہ بن عبدالملک کو جزیرہ و آذر بائیجان کا گورنر بنا کر بھیج دیا۔
اوپر ذکر ہو چکا ہے کہ یزید بن مہلب کو سیدنا عمر بن عبدالعزیز نے خراج جرجان کے ادا نہ کرنے کی وجہ سے قید کر دیا تھا‘ وہ اب تک قید میں تھا‘ جب اس نے سنا کہ سیدنا عمر بن عبدالعزیز کو بنو امیہ نے زہر دے دیا ہے اور وہ شاید جانبر نہ ہو سکیں تو وہ قید خانے سے فرار ہو کر بصرہ کی طرف چل دیا‘ یزید بن مہلب اور یزید بن عبدالملک کے درمیان سلیمان بن عبدالملک کے زمانہ سے شکر رنجی اور ناراضی چلی آتی تھی‘ جب یزید بن مہلب کو یہ معلوم ہوا کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی کی زندگی معرض خطر میں ہے اور ان کے بعد یزید بن عبدالملک تخت نشین ہونے والا ہے تو وہ قید خانے کے محافظین کو بھاری رشوت دے کر فرار ہو گیا کہ یزید بن عبدالملک اس پر دسترس نہ پا سکے‘ جاتے ہوئے ایک عریضہ سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی کے نام لکھ کر ان کے پاس بھجواتا گیا‘ اس میں لکھا تھا‘ کہ اگر مجھے آپ کی زندگی کا یقین ہو جاتا تو میں ہر گز آپ کے قید خانے سے نہ بھاگتا‘ مگر اس اندیشہ سے کہ آپ کے بعد یزید بن عبدالملک مجھے قتل کر ڈالے گا اور بری طرح قتل کرے گا‘ میں یہاں سے فرار ہو رہا ہوں‘ یہ تحریر سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی کے پاس اس وقت پہنچی‘ جب ان کا آخری وقت آپہنچا تھا‘ آپ نے اس کو پڑھ کر فرمایا کہ الٰہی اگر یزید بن مہلب مسلمانوں کے ساتھ برائی کرنے کو بھاگا ہے تو تو اس کو سزا دے‘ کیونکہ اس نے مجھے دھوکہ دیا ہے۔
یزید بن عبدالملک نے خلیفہ ہو کر عدی بن ارطاۃ والی بصرہ کو یزید کے بھاگ جانے کا حال لکھ کر لکھا‘ کہ یزید بن مہلب کے اہل و عیال کو گرفتار کر لو‘ چنانچہ عدی نے مفضل و مروان پسران مہلب کو گرفتار کر کے قید کر دیا‘ اسی اثناء میں یزید بن مہلب بصرہ میں پہنچ گیا‘ اہل بصرہ نے یزید بن مہلب کی طرف داری کی اور عدی بن ارطاۃ کو بصرہ سے بھاگنا پڑا‘ یزید بن مہلب نے بصرہ پر قابض ہو کر اہواز تک اپنا قبضہ جما لیا‘ اور اپنی ایک الگ حکومت قائم کر کے ایک زبردست فوج تیار کی اور اہل عراق کو ترغیب دی کہ ترک و دیلم کے جہاد سے اہل شام پر جہاد کرنا افضل ہے‘ سیدنا امام حسن بصری رحمہ اللہ تعالی نے اس کی مخالفت کی مگر لوگوں نے ان کو اس خیال سے خاموش رہنے پر مجبور کیا کہ یزید بن مہلب سن کر کہیں ان کو قتل نہ کر دے۔
یزید اس فوج کو لے کر کوفہ کی طرف روانہ ہوا‘ یزید بن عبدالملک نے اس فوج کشی کا حال سنا تو اپنے بھائی مسلمہ بن عبدالملک کو فوج دے کر مقابلہ کے لیے روانہ کیا‘ مقام عقبہ میں دونوں فوجوں کا مقابلہ ہوا‘ بڑی خون ریز لڑائی ہوئی‘ طرفین سے خوب خوب داد شجاعت دی گئی‘ بالآخر میدان جنگ میں یزید اور اس کا بھائی حبیب دونوں مارے گئے اور مسلمہ بن عبدالملک کو فتح حاصل ہوئی۔
بقیہ آل مہلب کو جب یزید و حبیب کے مارے جانے اور فوج کے شکست کھانے کا حال معلوم ہوا تو وہ بصرہ سے فرار ہوئے اور مشرق کی طرف کشتیوں میں بیٹھ بیٹھ کر روانہ ہو گئے‘ ان کے تعاقب میں ایک دستہ فوج کا روانہ کیا گیا‘ مقام قندابیل میں اس دستہ فوج سے مقابلہ ہوا‘ بجز دو بچوں ابو عتبہ بن مہلب اور عثمان بن مفضل بن مہلب کے خاندان مہلب سے کوئی متنفس باقی نہیں بچا‘ سب کے سب قتل کر دیئے گئے۔
اس فتح کے بعد یزید بن عبدالملک نے مسلمہ بن عبدالملک کو عراق کا گورنر بنا دیا‘ پھر عمرو بن ہبیرہ کو مسلمہ کی جگہ حاکم عراق مقرر کیا‘ اہل صغد اور اہل سمر قند نے بغاوت کی تو عمرو بن ہبیرہ نے سعید حرشی کو خراسان کا امیر مقرر کر کے معہ فوج خراسان کی طرف روانہ کیا‘ اس نے وہاں پہنچ کر اہل صفد اور اہل سمر قند کو قرار واقعی سزا دے کر درست کیا۔
بلاد خزرو آرمینا میں بغاوت ہوئی اور وہاں کے لوگوں نے اہل قبچاق سے مدد لے کر مسلمانوں پر حملہ کیا اور وہاں کی اسلامی فوج کے اکثر حصہ کو قتل کر ڈالا‘ ہزیمت خوردہ اور بقیۃ السیف بھاگ کر دمشق میں یزید بن عبدالملک کے پاس آئے‘ یزید نے جراح بن عبداللہ حکمی کو فوج دے کر اس طرف روانہ کیا‘ جراح نے وہاں پہنچ کر لڑائی چھیڑ دی‘ اہل خزر نے مقابلہ کیا‘ مگر سخت لڑائی کے بعد مسلمانوں سے شکست کھائی‘ اس کے بعد جراح نے اپنی پیش قدمی کو جاری رکھا‘ اور دور تک علاقہ فتح کرتا ہواچلا گیا‘ وہاں کے بادشاہ اور امراء نے اطاعت اختیار کی اور تمام علاقے پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا۔
عبدالرحمن بن ضحاک سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی کے زمانے سے حجاز کی گورنری پر مامور تھا۔ وہ تین برس تک اس عہدے پر مامور رہا‘ اس کے بعد اس کے دل میں یہ شوق پیدا ہوا کہ میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی پوتی سے شادی کروں‘ چنانچہ اس نے فاطمہ بنت الحسین رضی اللہ عنہ یعنی لڑکی کی ماں کے پاس پیغام بھیجا‘ انہوں نے انکار کر دیا‘ عبدالرحمن بن ضحاک نے دھمکی دی کہ میں تمہارے لڑکے کو شراب خوری کے جرم میں متہم کر کے درے لگوائوں گا‘ فاطمہ بنت الحسین رضی اللہ عنہ نے یزید بن عبدالملک کے پاس شکایت کہلا کر بھجوائی‘ یزید یہ سن کر سخت برا فروختہ ہوا‘ اور عبدالواحد بن عبداللہ قسری کو اپنے ہاتھ سے خط لکھا‘ کہ میں نے تجھ کو مدینہ کی گورنری پر مامور کیا‘ تو اس خط کو دیکھتے ہی ابن ضحاک کے پاس جا اور اس کو معزول کر دے اور اس سے چالیس ہزار دینار جرمانہ وصول کر اور اس کو اس قدر اذیت دے کہ اس کی آواز مجھے سنائی دے‘ درآں حالیکہ میں اپنے بستر استراحت پر ہوں۔
قاصد نے یہ خط لے جاکر عبدالواحد کو دیا‘ عبدالواحد نے مدینہ کی گورنری کا چارج لے کر ابن ضحاک کو طرح طرح کی تکلیفیں دیں‘ لوگ ابن ضحاک سے کچھ خوش نہ تھے‘ اس لیے اب اس کے معزول ہونے کے بعد اس کی ہجو میں قصیدے لکھے گئے‘ عبدالواحد کا برتائو انصار مدینہ کے ساتھ بہت اچھا تھا‘ سب اس سے خوش رہے اور قاسم‘ سالم پسران عبداللہ بن عمر ہر کام میں ان کے مشیر تھے‘ ابن ضحاک کی معزولی اور عبدالواحد کی تقرری ماہ شوال ۱۰۴ھ میں وقوع پذیر ہوئی تھی۔
سعید حرشی خراسان کا عامل تھا‘ جیساکہ اوپر لکھا جاچکا ہے چند روز کے بعد ابن ہبیرہ نے حرشی کو معزول کر کے اس کی جگہ مسلم بن سعید بن اسلم بن زرعہ کلابی کو خراسان کی حکومت سپرد کی‘ ابن ہبیرہ یزید بن عبدالملک کے آخر عہد خلافت تک گورنر رہا۔
یزید بن عبدالملک نے اپنے بعد اپنے بھائی ہشام بن عبدالملک اور اس کے بعد اپنے بیٹے ولید بن یزید کو ولی عہد بنایا تھا‘ چار سال ایک ماہ خلیفہ رہ کر ۲۵ شعبان ۱۰۵ھ کو بمقام بلقاء بعمر ۳۸ سال یزید بن عبدالملک فوت ہوا اور اس کی وصیت کے موافق ہشام بن عبدالملک تخت خلافت پر بیٹھا۔