سلیمان بن عبدالملک
ولی عہدی
سلیمان بن عبدالملک نے اپنے بیٹے ایوب کو اپنا ولی عہد بنایا تھا لیکن جب ایوب فوت ہوا اور مقام وابق میں وہ علیل ہوا تو اس نے رجاء بن حیوّۃ سے مشورہ کیا کہ میں کس کو اپنی جانشینی کے لیے نامزد کروں؟ اول سلیمان نے اپنے بیٹے دائود کا نام لیا۔ رجاء بن حیوٰۃ نے کہا کہ وہ قسطنطنیہ کے محاصرہ میں مصروف اور کفار سے لڑ رہا ہے۔ عرصہ سے وہاں کی کوئی خبر نہیں ملی۔ اللہ جانے وہ زندہ ہے یا شہید ہو گیا؟ ادھر فاصلہ زیادہ ہے۔ ایسے شخص کو ولی عہد بنانے کا مشورہ میں نہیں دے سکتا۔ پھر سلیمان نے کہا کہ میں اپنے چھوٹے بیٹے کو ولی عہد بنا دوں؟ رجاء بن حیوٰۃ نے کہا کہ وہ صغیر السن ہے‘ اس قابل نہیں کہ وہ بار خلافت اٹھا سکے۔ سلیمان نے کہا کہ پھر تم بتائو‘ میں کس کو اپنا جانشین مقرر کروں؟ رجاء بن حیوٰۃ نے کہا کہ مسلمانوں کی صلاح و فلاح اور آپ کی نیک و پاک باطنی اور دین داری کا تقاضا تو یہ ہونا چاہیے کہ آپ اپنے چچا زاد بھائی عمر بن عبدالعزیز کو اپنا ولی عہد بنائیں کیونکہ ان سے بہتر دوسرا شخص نہیں مل سکتا۔ نیز وہ آپ کے وزیراعظم ہونے کے سبب سے امور سلطنت کے متعلق ہر قسم کا کافی تجربہ بھی رکھتے ہیں۔ سلیمان نے کہا کہ میں بھی عمر بن عبدالعزیز کو سب سے بہتر سمجھتا ہوں لیکن مجھ کو ڈر یہ ہے کہ میرے بھائی یعنی فرزندان عبدالملک راضی نہ ہوں گے اور وہ عمر بن عبدالعزیز کی مخالفت پر اٹھ کھڑے ہوں گے۔ رجاء بن حیوٰۃ نے کہا کہ آپ عمر بن عبدالعزیز کو خلیفہ بنا کر ساتھ ہی یہ بھی وصیت کر دیجیے کہ ان کے بعد یزید بن عبدالملک خلیفہ ہو۔ سلیمان بن عبدالملک نے اس مشورہ کو پسند کیا اور عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی کے لیے ولی عہدی کا فرمان لکھ کر اس پر مہر لگا دی۔ اس کاغذ کو ایک لفافہ میں بند کر کے اس لفافہ کو بھی سر بمہر کر دیا اور رجاء بن حیوٰۃ کو دے کر کہا کہ باہر جائو اور یہ لفافہ دکھا کر کہو کہ امیر المومنین نے اس لفافہ میں اپنے بعد خلیفہ ہونے والے شخص کا تعین کر دیا اور فرمان لکھ کر رکھ دیا ہے‘ جس شخص کا نام اس فرمان میں ہے‘ اس کے لیے بیعت کرو۔ جب رجاء نے باہر جا کر لوگوں کو جمع کر کے یہ حکم سنایا تو لوگوں نے کہا کہ ہم بیعت اس وقت کریں گے جب کہ ہم کو اس شخص کا نام بتا دیا جائے گا۔ رجاء بن حیوٰۃ نے آ کر سلیمان سے یہ کیفیت بیان کی۔ سلیمان نے اسی وقت حکم دیا کہ کوتوال اور پولیس کو بلا کر حکم دو کہ لوگوں سے میرے حکم کے موافق بیعت لیں اور جو شخص انکار کرے‘ اس کی گردن اڑا دیں۔ یہ حکم سنتے ہی سب نے بیعت کی اور مطلق چوں و چرا نہ کیا۔
رجاء بن حیوٰۃ جب بیعت لے کر واپس آ رہے تھے تو راستے میں ہشام بن عبدالملک ملا اور اس نے کہا کہ مجھ کو خوف معلوم ہوتا کہ امیر المومنین نے کہیں مجھ کو محروم ہی نہ رکھا ہو۔ اگر ایسا ہے تو مجھے بتا دو تاکہ میں اپنا کچھ انتظام کروں۔ رجاء نے کہا کہ امیر المومنین نے مجھ کو سر بمہر لفافہ دیا ہے اور سب سے اس بات کو پوشیدہ رکھا‘ تم کو کیا جواب دے سکتا ہوں۔ آگے چل کر اتفاقاً عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی مل گئے۔ انہوں نے کہا کہ مجھ کو بڑا ہی خوف معلوم ہو رہا ہے کہ کہیں سلیمان نے ولی عہدی کے لیے میرا ہی نام نہ لکھ دیا ہو۔ اگر تم کو معلوم ہو تو مجھے بتا دو تاکہ میں کوشش کر کے اس مصیبت کو ٹالوں اور سبک دوشی حاصل کروں۔ رجاء نے ان کو بھی وہی جواب دیا جو ہشام بن عبدالملک کو دیا تھا۔