سلیمان بن عبدالملک

سلیمان بن عبدالملک کے اخلا ق و عادات

سلیمان بن عبدالملک نہایت فصیح البیان شخص تھا۔ عدل و انصاف کا شوقین اور جہاد کا حریص تھا۔ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی کو سلیمان نے اپنا وزیر و مشیر بنایا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ سلیمان کے اخلاق و عادات میں خوبیاں پیدا ہو گئی تھیں۔ عہد بنو امیہ میں ایک بری رسم جاری ہو گئی تھی کہ وہ نماز عموماً دیر کر کے آخر وقت میں پڑھتے تھے۔ سلیمان بن عبدالملک نے اس رسم کو مٹا کر نمازیں اول وقت میں پڑھنی شروع کیں۔ راگ اور گانے سے بھی سلیمان بن عبدالملک کو سخت نفرت تھی۔ چنانچہ اس نے گانے بجانے کی ممانعت کی۔ سلیمان نہایت خوبصورت اور وجیہہ شخص تھا۔ تنومند اور پر خور بھی تھا۔ ایک مرتبہ ستر انار‘ بہت سی کشمش‘ چھ مہینے کی عمر کا ایک بکرا اور چھ مرغ کھا گیا اور سب کو ہضم کر لیا۔