سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما
شہادت ابن زبیر رضی اللہ عنھما
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعد ان کابیٹا یزید اس بات کا مستحق نہ تھا کہ مسلمانوں کا خلیفہ بنایا جائے‘ کیوں کہ اس کے سوا بہت سے لوگ مسلمانوں میں ایسے موجود تھے جو یزید سے زیادہ حکومت و خلافت کی قابلیت رکھتے تھے‘ ان ہی میں ایک سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما بھی تھے‘ یزید کی عملی زندگی بہت ہی قابل اعتراض تھی اور اسی لیے بعض حضرات نے اس کی بیعت سے انکار کیا تھا۔
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعد اگر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ زندہ ہوتے‘ تو بہت زیادہ ممکن تھا‘ کہ وہ مسلمانوں کے خلیفہ یا شہنشاہ تسلیم کر لیے جاتے‘ یزید کے مقابلہ میں اگر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما مدعی خلافت بن کر کھڑے ہوتے تو نہ صرف تمام دوسرے طبقات اہل اسلام ان کے شریک ہوتے‘ بلکہ خود بنی امیہ میں سے بھی ایک بڑی جماعت ان کی حمایت میں سرگرم نظر آتی‘ مگر انہوں نے کبھی اس طرف توجہ ہی نہ کی‘ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے خود خلافت کے حصول کی بہت کوشش کی مگر ان کو کوفہ والوں نے دھوکہ دیا‘ مکہ و مدینہ کے لوگوں کا مشورہ انہوں نے قبول نہ کیا اور اہل حجاز ان کی کوئی امداد نہ کر سکے‘ اب ان کے بعد سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما سے بہتر کوئی شخص نہ تھا‘ جو مستحق خلافت ہو۔