سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما
شہادت ابن زبیر رضی اللہ عنھما
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما اس خط کو پڑھ کر اپنی ماں سیدنا اسماء بنت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور عرض کیا کہ: ’’میرے پاس اب کوئی آدمی نہیں رہا‘ برائے نام صرف پانچ آدمی باقی ہیں جو میرا ساتھ دینے پر بظاہر اب تک آمادہ ہیں‘ لوگوں نے میرے ساتھ اسی طرح دھوکے کا برتائو کیا‘ جیسا حسین بن علی رضی اللہ عنھما کے ساتھ کیا تھا‘ لیکن ان کے بیٹے جب تک زندہ رہے باپ کے سامنے تلوار لے کر دشمنوں سے لڑتے رہے‘ میرے تو بیٹے بھی اس فاسق کی امان میں چلے گئے‘ اب حجاج کہتا ہے‘ کہ تم بھی امان میں آجائو‘ اور جو کچھ مانگو ہم دینے کو تیار ہیں‘ پس میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں کہ آپ کیا حکم دیتی ہیں‘‘۔
سیدنا اسماء رضی اللہ عنھا نے جواب دیا کہ:
’’تم اپنے معاملے کو مجھ سے بہتر سمجھتے ہو‘ اگر تم حق پر ہو‘ اور حق کی طرف لوگوں کو بلاتے ہو‘ تو اس کام میں برابر مصروف رہو‘ تمہارے ساتھی بھی راہ حق میں شہید ہوئے‘ اور تم بھی اسی راہ پر گامزن رہ کر شہادت حاصل کرو‘ اگر تم نے دنیا حاصل کرنے کا قصد کیا تھا‘ تو تم بہت ہی نالائق آدمی ہو‘ تم خود بھی ہلاکت میں پڑے‘ اور تم نے اپنے ہمراہیوں کو بھی ہلاکت میں ڈالا‘ میری رائے یہ ہے کہ تم اپنے آپ کو بنوامیہ کے حوالے نہ کرو‘ موت اپنے وقت پر ضرور آجائے گی‘ تم کو مردوں کی طرح جینا اور مردوں کی طرح مرنا چاہیئے‘ تمہارا یہ کہنا کہ میں حق پر تھا‘ اور لوگوں نے مجھ کو دھوکہ دے کرکمزور کر دیا ایک ایسی شکایت ہے جو نیک آدمیوں کی زبان پر نہیں آیا کرتی‘‘۔
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما نے کہا کہ:
’’مجھ کو اس بات کا خوف ہے کہ وہ لوگ قتل کرنے کے بعد مجھ کو مثلہ کریں گے اور صلیب پر لٹکائیں گے‘‘۔
سیدنا اسماء رضی اللہ عنھا نے جواب دیا کہ:
’’بیٹا بکری جب ذبح کر ڈالی گئی‘ تو اسے اس کی کیا پرواہ ہو سکتی ہے کہ اس کی کھال کھینچی جاتی ہے‘ تم جو کچھ کر رہے ہو بصیرت کے ساتھ کئے جائو اور اللہ تعالیٰ سے امداد طلب کرتے رہو‘‘۔
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما نے ماں کے سر کا بوسہ لیا اورعرض کیا کہ:
’’میری بھی یہی رائے تھی جو اپنی رائے آپ نے ظاہر فرمائی‘ مجھ کو دنیا کی خواہش اور حکومت کی تمنا بالکل نہ تھی‘ میں نے اس کام کو صرف اس لیے اختیار کیا تھا‘ کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی نہیں کی جاتی تھی اور ممنوعات سے لوگ بچتے نہ تھے‘ جب تک میرے دم میں دم ہے میں حق کے لیے لڑتا رہوں گا‘ میں نے آپ سے مشورہ لینا ضروری سمجھا اور آپ کی باتوں نے میری وصیت کو بہت کچھ بڑھا دیا‘ اور اماں جان میں آج ضرور مارا جائوں گا‘ تم زیادہ مغموم نہ ہونا‘ تم مجھ کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دو‘ میں نے کبھی ناجائز کام کا قصد نہیں کیا‘ اور نہ کسی سے بد عہدی کی‘ نہ کسی پر ظلم کیا‘ نہ ظالم کا معاون بنا‘ حتی الامکان اللہ تعالیٰ کی مرضی کے خلاف کوئی کام نہیں کیا‘ الٰہی میں نے یہ باتیں فخر کی راہ سے نہیں کہیں‘ بلکہ صرف اس لیے کہ میری ماں کو تسکین خاطر حاصل ہو‘‘۔
سیدنا اسماء رضی اللہ عنھا بولیں:
’’مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ تم کو اس کا اجر عطا فرمائے گا‘ تم اللہ تعالیٰ کا نام لے کر دشمنوں پر حملہ کرو‘‘۔
بیٹے کو رخصت کرتے وقت سیدنا اسماء رضی اللہ عنھا نے گلے سے لگایا‘ تو ہاتھ زرہ پر پڑا‘ پوچھا تم نے یہ زرہ کس ارادہ سے پہن رکھی ہے‘ کہا صرف اطمینان و مضبوطی کی غرض سے‘ اسماء رضی اللہ عنھا نے کہا اس کو اتار دو‘ اور معمولی کپڑے پہنے ہوئے دشمنوں سے لڑو‘ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنھما نے وہیں زرہ اتار کر پھینک دی‘ قمیص کے دامن اٹھا کر کمر سے باندھے‘ دونوں آستینیں چڑھائیں اور گھر سے باہر نکل آئے‘ اور اپنے ساتھیوں سے کہا کہ:
’’اے آل زبیر رضی اللہ عنھما تم تلوار کی جھنکار سے خوف زدہ نہ ہونا‘ کیوں کہ زخم میں دوا لگانے کی تکلیف زیادہ ہوتی ہے بمقابلہ اس تکلیف کے جو زخم پیدا ہونے سے ہوتی ہے‘ تم لوگ اپنی اپنی تلواریں تول لو‘ جس طرح اپنے چہرے کو بچاتے ہو‘ اسی طرح ان کو بھی خون ناحق سے بچائو‘ اپنی آنکھیں نیچی کر لو کہ تلواروں کی چمک سے چکا چوند نہ ہو جائیں‘ ہر شخص اپنے مقابل پر حملہ آور ہو‘ تم مجھے ڈھونڈتے نہ پھرنا‘ اور اگر میری تلاش ہی ہو تو میں سب سے آگے دشمنوں سے لڑتا ہوا ملوں گا‘‘۔
یہ کہہ کر شامیوں پر ایک سخت حملہ کیا‘ صفوں کو چیرتے لوگوں کو مارتے اور گراتے ہوئے شامیوں کی پچھلی صفوں تک پہنچ گئے‘ اور پھر اسی طرح لشکر شام کے سمندر میں تیرتے ہوئے واپس آگئے‘ حجاج ہر چند لوگوں کو ترغیب دے رہا تھا‘ مگر کوئی شخص سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما کے مقابل ہونے کی جرات نہ کرتا تھا‘ آخر حجاج نے خود پیدل فوج لے کر سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما کے علم بردار کو گھیر لیا‘ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما نے فوراً حملہ کر کے اپنے علمبردار کو دشمنوں کے نرغہ سے نکالا اور دشمنوں کو پیچھے ہٹا دیا‘ واپس آکر مقام ابراہیم پر دو رکعت نماز ادا کی‘ حجاج نے پھر حملہ کیا اور باب بنو شیبہ پر سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما کا علم بردار مارا گیا‘ مسجد حرام کے کل دروازوں پر شامی ڈٹے ہوئے تھے‘ مکہ معظمہ کی بھی انہوں نے ناکہ بندی کر لی تھی‘ حجاج و طارق نے ابطح کی جانب مروہ تک گھیر لیا تھا۔
ابن زبیر رضی اللہ عنھما کبھی ایک طرف کبھی دوسری طرف حملہ کر رہے تھے‘ نماز سے فارغ ہوکر پھر لڑنے لگے‘ باب صفا کی طرف آپ نے حملہ کیا‘ اور شامیوں کو ہٹاتے ہوئے دور تک لے گئے‘ کوہ صفا کے اوپر سے ایک شخص نے تیر مارا‘ پیشانی پر لگا‘ خون بہنے لگا‘ آپ اسی حالت میں برابر لڑتے رہے‘ غرض آپ نے اور آپ کے ہمرائیوں نے صبح سے بعد ظہر تک شامیوں کے قتل کرنے میں وہ چابک دستی اور حیرت انگیز شجاعت دکھائی کہ چشم فلک نے آج تک نہ دیکھی تھی‘ آخر ایک ایک کر کے تمام ہمراہی کام آئے۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما پر دشمنوں نے چاروں طرف سے پتھروں اور تیروں کی بارش شروع کر دی حالانکہ نیزے اور تلواریں اس سے پیشتر اپنی اپنی کاٹ دکھا چکے تھے۔
بالآخر یوم سہ شنبہ ماہ جمای الثانی ۷۳ھ کو یہ دنیا کا عظیم الشان بہادرو متقی انسان شہید ہوا‘ بہادری و شجاعت زہد و عبادت اور ہمت و شرافت وغیرہ کے سوا کوئی انسان اس میدان میں ان کی لاش پر کف افسوس ملنے والا نہ تھا‘ لشکر شام نے اس مردہ شیر ببر کا سرکاٹنے میں بڑی عجلت و چابک دستی سے کام لیا‘ حجاج کے سامنے لے گئے‘ تو اسی قوت اس نے سجدہ شکر ادا کیا‘ اور لشکر سے نعرہ تکبیر بلند ہوا‘ لاش اسی جگہ یعنی مقام حجون میں دار پر لٹکا دی گئی اور سر عبدالملک کے پاس بھیجا گیا‘ ایک دوسری روایت کے موافق سر عبدالملک کے پاس نہیں بھیجا گیا‘ بلکہ خانہ کعبہ کی دیواریا پرنالہ پر لٹکا دیا گیا۔
سیدنا اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنھا نے لاش کے دفن کرنے کی اجازت چاہی‘ مگر ان کو حجاج نے اس کی اجازت نہ دی‘ عبدالملک کو جب یہ حال معلوم ہوا تو اس نے حجاج کو ملامت کی اور لاش کو دفن کرنے کی اجازت دی‘ چند روز کے بعد سیدنا اسماء رضی اللہ عنھا کا بھی انتقال ہو گیا۔
حجاج شہادت ابن زبیر رضی اللہ عنھما کے بعد خانہ کعبہ میں داخل ہوا‘ پتھروں کی بڑی کثرت تھی جو باہر سے خانہ کعبہ پر پھینکے گئے تھے‘ فرش مبارک پر خون کے جابجا نشانات تھے‘ پتھروں کو اٹھوایا‘ اور خون کو دھلوایا‘ اہل مکہ سے خلافت عبدالملک کی بیعت لی‘ اس کے بعد مدینہ منورہ کو واپس ہوا‘ وہاں دو مہینے تک ٹھہرا رہا‘ وہاں تمام اہل مدینہ کو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا قاتل سمجھ کر سختیاں شروع کیں‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو سخت آزار پہنچائے‘ وہاں سے پھر مکہ معظمہ کی جانب آیا‘ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما کے بنائے ہوئے خانہ کعبہ کو ڈھا کر پھر از سر نو خانہ کعبہ کی تعمیرکی‘ عبدالملک بن مروان نے حجاج کو ملک حجاز کا گورنر مقرر کیا اوراس نے طارق کی جگہ مدینہ منورہ میں رہنا شروع کیا۔