مقدمہ
تاریخ کی ضرورت
تاریخ ہم کو بزرگوں کے حالات سے واقف کر کے دل و دماغ میں ایک بابرکت جوش پیدا کر دیتی ہے‘ انسانی فطرت میں ایک خاص قسم کی پیاس اورخواہش ہے جو ممالک کی سیاحی‘ باغوں کی سیر اور کوہ و صحرا کے سفر پر آمادہ کر دیتی ہے یہی فطری تقاضا ہے جو بچوں کو رات کوچڑے چڑیا کی کہانی اور جوانوں کو طوطا مینا کی داستان سننے پر آمادہ کرتا ہے‘ اوریہی تقاضا ہے جو {فَسْئَلُوْٓا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ} ۱؎ کے حکم کی تعمیل اور تاریخی کتابوں کے مطالعہ کی طرف انسان کو متوجہ کرتا ہے‘ اس فطری تقاضے پر نظر فرما کر فطرتوں کے خالق نے کتب سماویہ میں چاشنی رکھی ہے‘ نبی اسرائیل کیسی عظیم الشان قوم تھی کہ {نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰہِ وَ اَحِبَّآؤُہٗ} ۲؎ تک کہہ گذرے‘ لیکن جب اپنے بزرگوں کے حالات سے بے خبر ہوتے گئے‘ قعر مذلت میں گرتے گئے‘ اسی لیے خدائے تعالے نے {یٰـآ بَنِیْ اِسْرَآئِیْلَ اذْکُرُوْا} ۳؎ کے الفاظ سے بار بار ان کو مخاطب فرمایا اور ان کے بزرگوں کے حالات کو یاد دلایا۔