سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما

مختار کا دعویٰ نبوت اور کرسی علی رضی اللہ عنہ

سیدنا علی رضی اللہ عنہ جب کوفہ میں تشریف رکھتے تھے تو آپ کی ایک کرسی تھی‘ اسی پر بیٹھ کر اکثر حکم احکام جاری کیا کرتے تھے‘ آپ کا ایک بھانجا جعدہ بن ہبیرہ جو ام ہانی بنت ابی طالب کا بیٹا تھا کوفہ میں رہا کرتا تھا‘ وہ کرسی اسی کے قبضہ میں تھی‘ مختار نے کوفہ میں اپنا قبضہ بٹھا کر اس کرسی کے حاصل کرنے کی کوشش کی‘ جعدہ نے کہا اچھا مجھے ایک ہفتہ کی مہلت دیجئے کہ میں اس کو تلاش کر کے آپ کی خدمت میں پیش کروں‘ مختار نے کہا کہ میں تین دن سے زیادہ مہلت ہر گز نہ دوں گا‘ اگر اس عرصہ میں تم نے کرسی نہ پہنچائی‘ تو سختی و تشدد کا برتائو شروع کیا جائے گا۔ جعدہ کے محلہ میں ایک روغن فروش رہتا تھا‘ اس کے پاس بھی اسی قسم کی ایک کرسی تھی‘ جعدہ نے وہ کرسی اس سے خریدی اور پوشیدہ طور پر اپنے گھر لے گیا‘ اس کو خوب صاف کیا اور بڑے تکلف اور احتیاط کے ساتھ غلافوں میں لپیٹ کر مختار کے پاس لے گیا‘ مختار نے کرسی لے کر جعدہ کو خوب انعام و اکرام دیا‘ کرسی کو بوسہ دیا‘ اس کو سامنے رکھ کر دو رکعت نماز پڑھی‘ پھر اپنے مریدوں کو جمع کرکے کہا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے لیے تابوت سکینہ کو موجب نصرت و برکت بنایا تھا‘ اسی طرح شیعان علی رضی اللہ عنہ کے لیے اس کرسی کو نشانی قرار دیا ہے‘ اب ہم کو ہر جگہ فتح و نصرت حاصل ہو گی۔ اس کے مریدین نے اس کرسی پر آنکھیں ملیں‘ بوسے دیئے‘ اوراس کے آگے سر جھکائے‘ پھر مختار نے حکم دیا کہ ایک تابوت بنایا جائے‘ چنانچہ نہایت خوب صورت تابوت تیار ہوا اس کے اندر وہ کرسی رکھی گئی‘ چاندی کاایک قفل اس تابوت میں لگایا گیا‘ اوراس تابوت کی حفاظت کے لیے آدمی متعین کئے گئے۔ جامع مسجد کوفہ میں وہ تابوت رکھا گیا‘ ہرشخص نماز پڑھنے کے بعد اس تابوت کو بوسہ دیتا تھا‘ مختار نے کوفہ کی حکومت کرنے سے پہلے ہی اپنے مکرو تنویر کا جال پھیلانا اور اپنی غیر معمولی روحانی طاقتوں کا لوگوں کو معتقد بنانا شروع کر دیا تھا‘ حکومت کوفہ حاصل کرنے کے بعد اس کی چالاکی و ہوشیاری کو اور بھی زیادہ کامیابی کے مواقع میسر آنے لگے‘ اور رفتہ رفتہ وہ نبوت کے دعووں تک پہنچنے لگا۔ جس زمانہ نے میں مختار نے کوفہ پر قبضہ کیا اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما کو مذکورہ خط لکھا‘ اسی کے قریب زمانہ میں چند روز کے لیے عبدالملک بن مروان نے‘ عبدالملک بن الحکم بن ابی العاص کو ایک لشکر دے کر وادی القریٰ کی طرف روانہ کیا‘ یہ گویا عبدالملک بن مروان کی طرف سے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما پر پہلی چڑھائی تھی۔ اس چڑھائی کا حال سن کر مختار نے دوسرا خط سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما کو لکھا کہ اگر آپ چاہیں تو میں آپ کی مدد کے لیے فوج کوفہ سے۔۔۔۔۔۔ روانہ کروں‘ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما نے لکھا‘ کہ اگر تم میرے فرماں بردار و مطیع ہونے کی حیثیت سے فوج روانہ کرتے ہو تو فوراً ایک فوج وادی القریٰ کی طرف بھیج دو‘ مختار نے شرجیل بن دوس ہمدانی کو تین ہزار کی جمعیت سے یہ حکم دے کر روانہ کیا کہ سیدھے اول مدینہ میں جا کر قیام کرو‘ پھر وہاں سے حالات لکھ کر مجھ کو بھیجو‘ اس کے بعد جو حکم بھیجوں اس کی تعمیل کرو‘ مدعا اس سے مختار کا یہ تھا‘ کہ میں اس بہانہ سے مدینہ میں فوج بھیج کر محمد بن حنفیہ کی خوشنودی اس طرح حاصل کر سکوں گا‘ کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما کو بھی کوئی اعتراض نہ ہو گا اور میرا اثر شیعان علی میں ترقی کر سکے گا۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما مختار کی ان چالاکیوں کو سمجھتے تھے‘ انہوں نے مذکورہ جواب مختار کے پاس بھیج کر فوراً عباس بن سہل بن سعد کو دو ہزار آدمیوں کے ساتھ متعین کیا کہ اگر کوفہ سے مختار کوئی لشکر بھیجے‘ تواول یہ معلوم کرو‘ کہ وہ محکوم ہو کر آیا ہے یا خود مختار ہے‘ اگر محکوم ہو تو اس سے کام لو‘ اور اگر وہ محکوم ہو کر نہیں آیا تو اس کو واپس کر دو‘ واپس ہونے سے انکار کرے تو اس کا مقابلہ کرو‘ مقام قیم میں عباس وشرجیل کی ملاقات ہوئی‘ عباس نے کہا تم لوگ مقام وادی القریٰ کی طرف ہمارے ساتھ دشمن کے مقابلہ کو چلو‘ شرجیل نے کہا‘ ہم کو تو سیدھے مدینے جانے کا حکم ہے‘ وہاں ہم دوسرے حکم کا انتظار کریں گے‘ تب کہیں جا سکیں گے۔ عباس نے اول ان کوفیوں کو کھانے پینے کا سامان دے کر تواضع کی‘ پھر تعمیل حکم سے انکار کرنے کی پاداش میں حملہ کر کے اپنے دو ہزار آدمیوں سے ان تین ہزار کو مجبور کر دیا اور ستر آدمی قتل کر کے کوفہ کی طرف زبردستی لوٹا دیا‘ مختار نے اس سے بھی فائدہ اٹھایا اور محمد بن حنفیہ کو خط لکھ کر عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما کی شکایت کی کہ انہوں نے میری فوج کو آپ تک نہ پہنچنے دیا جو آپ کی حفاظت کے لیے میں نے روانہ کی تھی‘ اب مناسب یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ اپنا ایک معتمد خاص بھیج دیجئے‘ تاکہ میں اس کے ساتھ ایک زبردست فوج روانہ کر دوں اور لوگوں کو بھی آپ کے فرستادہ کی زیارت سے اطمینان حاصل ہو۔ محمد بن حنفیہ رضی اللہ عنہ نے مصلحتاً جواب لکھا کہ میں تمہاری حق پسندی سے واقف ہوں‘ تم مجھ کو گوشہ عافیت میں بیٹھا رہنے دو‘ اور مخلوق اللہ تعالیٰ کی خون ریزی سے پرہیز کرو‘ میں اگر حکومت و امارت کا خواہاں ہوتا‘ تو تم سے زیادہ لوگوں کو اپنے گرد جمع کر سکتا تھا‘ لیکن میں نے اپنے تمام دوستوں اور ہواخواہوں کو معطل کر رکھا ہے‘ اللہ تعالیٰ خود ہی جو چاہے گا فیصلہ کرے گا۔