سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما
فتنہ مختار
مختار بن عبید بن مسعود ثقفی کا ذکر اوپر آچکا ہے کہ جب سلیمان بن صرد توابین کے گروہ کو لے کر خون حسین رضی اللہ عنہ کا بدلہ لینے کے لیے کوفہ سے نکلا تو کوفہ کے گورنر نے انتظاماً مختار کو قید کر دیا تھا۔ توابین کے بقیۃ السیف جب کوفہ میں واپس آئے‘ تو مختار نے جیل خانہ سے تعزیہ کے طور پر ایک خط لکھ کر بھیجا‘ کہ تم لوگ بالکل غم نہ کرو اور مطمئن رہو‘ اگر میں زندہ رہا تو ضرور تمہارے تمام شہداء اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے خون کا عوض قاتلین سے لوں گا‘ ایک کو بھی نہ چھوڑوں گا اورایسا خون بہائوں گا کہ لوگوں کو بخت نصر کا زمانہ یاد آجائے گا کہ اس نے بنی اسرائیل کو کس طرح قتل کیا تھا‘ پھر لکھا تھا‘ کہ کیا دنیا میں کوئی شخص ایسا باقی ہے جو خون حسین رضی اللہ عنہ کا قصاص لینا چاہتا ہو اور وہ اس کام کے لیے مجھ سے عہد کرے۔
اس خط کو رفاعہ بن شداد‘ مثنی بن مخربہ عبدی‘ سعد بن حذیفہ بن الیمان‘ یزید بن انس‘ احمر بن سمیط حمسی‘ عبداللہ بن شداد بجلی‘ عبداللہ بن کامل وغیرہ توابین نے پڑھا اور بے حد مسرور ہوئے‘ کہ اللہ کا شکر ہے ابھی ایک ایسا شخص موجود ہے جو اپنے دل میں خون حسین رضی اللہ عنہ کے لیے اس قدر جوش اوراولولعزمی رکھتا ہے‘ چنانچہ رفاعہ بن شداد چار پانچ آدمیوں کو لے کر جیل خانہ میں گیا‘ اور اجازت حاصل کرنے کے بعد مختار سے ملا اورکہا کہ ہم آپ کو جیل خانہ توڑ کر نکال لے جائیں گے‘ اور قید سے آزاد کر دیں گے‘ مختار نے کہا کہ نہیں آپ بالکل تکلیف نہ فرمائیں‘ میں خود جب چاہوں آزاد ہو سکتا ہوں اور کوفہ کا گورنر عبداللہ بن یزید مجھ کو آپ ہی رہا کرے گا‘ ابھی وہ وقت نہیں آیا‘ تم چند روز اور صبر کرو۔
توابین کے ہزیمت خوردہ واپس آنے سے پہلے مختار ایک خط جیل خانہ ہی سے کسی کے ہاتھ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما کے پاس روانہ کر چکا تھا‘ اس میں لکھا تھا‘ کہ مجھ کو عبداللہ بن یزید حاکم کوفہ نے قید کر رکھا ہے‘ آپ عبداللہ بن یزید کو میری سفارش کا خط لکھ دیں میں مظلوم ہوں‘ آپ کو اللہ تعالیٰ سفارش کا ثواب عطا فرمائے گا‘ مختار کو یقین تھا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما ضرور سفارش فرمادیں گے‘ اور میں قید سے آزاد ہو جائوں گا‘ اس حقیقت کو چھپا کر رفاعہ سے اس نے اس انداز میں اپنی رہائی کی نسبت باتیں کیں‘ جس سے اس کی کرامت کا سکہ بیٹھے‘ چنانچہ چند روز کے بعد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما کا سفارشی خط عبداللہ بن یزید کے پاس آیا اور اس نے ان کی سفارش کی تکریم میں مختار بن عبید کو جیل خانہ سے بلا کر کہا کہ میں تم کو قید سے آزاد کرتا ہوں‘ مگر شرط یہ ہے کہ کسی قسم کی شورش کوفہ میں نہ پھیلائو‘ اور اپنے گھر ہی میں بیٹھے رہو‘ مختار نے اقرار کر لیا‘ اور قید سے آزاد ہو کر اپنے گھر آ بیٹھا۔
شیعان حسین رضی اللہ عنہ نے اس کی اس اچانک آزادی کو اس کی کرامت پر محمول کیا اور اس کے پاس عقیدت و نیاز مندی کے ساتھ آنے جانے لگے‘ عقیدت مندوں کی یہ آمد و رفت پوشیدہ طور پر ہوتی تھی‘ کچھ دن اسی حالت میں گذرے‘ کہ اتنے میں سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما نے عبداللہ بن یزید کو معزول کر کے عبداللہ بن مطیع کو کوفہ کی حکومت پر بھیج دیا۔
عبداللہ بن مطیع ۲۵ رمضان ۶۶ھ کو کوفہ پہنچا‘ اس عزل و نصب کو بھی مختار نے اپنی کرامت پر محمول کیا اور پرانے حاکم کے کوفہ سے چلے جانے کے بعد اپنی پابندی کو توڑ کر اور بھی آزادی برتنی شروع کر دی لوگوں کی آمد و رفت اس کے پاس زیادہ ہونے لگی‘ اور اس کے متبعین کی جماعی حیرت انگیز طور پر ترقی کر گئی‘ عبداللہ بن مطیع نے ایاس بن ابی مضارب کو کوتوال شہر مقرر کیا تھا‘ ایاس نے ایک روز عبداللہ بن مطیع گورنر کوفہ سے کہا کہ مختار کی جماعت خطرناک اور بہت طاقتور ہو گئی ہے‘ مجھ کو اندیشہ ہے کہ کہیں یہ خروج نہ کرے‘ مناسب یہ معلوم ہوتا ہے کہ مختار کو بلا کر قید کر دیا جائے‘ جیسا کہ وہ پہلے بھی قید تھا۔
عبداللہ بن مطیع نے مختار کے چچا زید بن مسعود ثقفی کو حسین بن رافع اژدی کے ہمراہ بھیجا کہ مختار کو ذرا میرے پاس بلا لائو‘ اس سے مجھ کو کچھ ضروری باتیں کرنی ہیں‘ یہ دونوں مختار کے پاس گئے اور امیر کوفہ کا پیغام پہنچایا‘ مختار فوراً کپڑے پہن کر چلنے کے لیے تیار ہونے لگا‘ زید نے اس وقت یہ آیت پڑھی {وَاِذْیَمْکُرُبِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِیُثَبِّتُوْکَ اَوْ یَقْتُلُوْکَ اَوْ یُخْرِجُوْکَ} (الانفال : ۸/۳۰) ’’اور (اے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ! وہ وقت یاد کرو) جب کافر آپ کے متعلق خفیہ تدبیریں سوچ رہے تھے کہ آپ کو قید کر دیں یا مار ڈالیں یا جلا وطن کر دیں…‘‘ مختار اس آیت کو سنتے ہی سمجھ گیا کہ زید کا مطلب کیا ہے‘ اسی وقت بولا‘ جلدی لحاف لائو‘ مجھ کو جاڑا چڑھ آیا ہے اور لحاف اوڑھ کر پڑ گیا‘ کہ مجھ کو سردی معلوم ہوتی ہے‘ پھر حسین بن رافع کو مخاطب کر کے کہا کہ دیکھئے میں تو چلنے کے لیے تیار تھا‘ مگر کیا کروں مجھ پر مرض کا حملہ یکایک ہوا‘ اور اب میں حرکت نہیں کر سکتا‘ میری تمام حالت جو آپ دیکھ رہے ہیں امیر سے بیان کر دیں‘ کل صبح جب حالت درست ہو جائے گی‘ تو حکم کی تعمیل میں ضرور حاضر ہوں گا۔
یہ دونوں شخص وہاں سے رخصت ہوئے‘ راستے میں حسین بن رافع نے زید سے کہا کہ تم نے یہ آیت اسی لیے پڑھی تھی‘ کہ مختار امیر کے پاس نہ جائے‘ ورنہ وہ جانے کے لیے تیار تھا تمہارے روکنے سے رک گیا ہے‘ اور اس نے محض بہانہ بنایا ہے‘ یہ کہہ کر حسین نے پھر زید سے کہا کہ تم اطمینان رکھو‘ اس کا تذکرہ عبداللہ بن مطیع سے نہ کروں گا‘ کیوں کہ ممکن ہے کہ مختار کے ہاتھوں سے مجھ کو کوئی فائدہ پہنچے‘ عبداللہ بن مطیع کے پاس دونوں نے جا کر کہہ دیا کہ مختار سخت بیمار ہے‘ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آئے ہیں‘ وہ اس وقت آنے کے قابل نہیں ہے‘ کل ان شاء اللہ ضرور حاضر ہو جائے گا۔
مختار نے زید اور حسین کے جاتے ہی اپنے مریدوں یعنی بیعت شدہ لوگوں میں سے خاص خاص اور بااثر لوگوں کو بلوایا اور کہا کہ اب زیادہ توقف اور انتظار کا موقع باقی نہیں ہے‘ ہم کو فوراً خروج پر آمادہ ہو جانا چاہیئے‘ ان لوگوں نے کہا کہ ہم آپ کے تابع فرمان ہیں‘ جو حکم ہو اس کی تعمیل کے لیے آمادہ ہیں‘ لیکن ہم کو ایک ہفتہ کی مہلت ملنی چاہیئے‘ تاکہ ہم اپنے ہتھیاروں کو درست کر لیں اوراپنی جنگی تیاریوں سے فارغ ہو جائیں‘ مختار نے کہا کہ عبداللہ بن مطیع مجھ کو ایک ہفتہ کی کہاں مہلت دینے لگا ہے‘ سعد بن ابی سعد نے کہا کہ آپ مطمئن رہیں اگر عبداللہ بن مطیع نے آپ کو بلا کر قید کر دیا تو ہم بلا تکلف آپ کو جیل خانہ سے نکال لائیں گے‘ مختار یہ سن کر خاموش ہو گیا‘ اور لوگوں نے اس کو اس مکان سے لے جا کر ایک دوسرے غیر معروف مکان میں روپوش کر دیا۔
اس کے بعد سعد بن ابی سعد نے اپنے ہم خیال لوگوں سے کہا کہ ہم کو خروج کرنے سے پیشتر یہ تحقیق کر لینا چاہیئے‘ کہ آیا محمد بن حنفیہ رضی اللہ عنہ نے مختار کو اپنا نائب اس کام کے لیے بنایا ہے یا نہیں؟ اگر واقعی یہ محمد بن حنفیہ کی طرف سے بیعت لینے کے لیے مامور ہے‘ تو ہم کو بلا تکلف مختار کی ماتحتی میں خروج کرنا چاہیئے‘ اور اگر محمدبن حنیفہ نے مامور نہیں کیا ہے اوراس نے ہم کو دھوکہ دیناچاہا ہے تو پھر ہم کو اس سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہیئے‘ چنانچہ اسی وقت سعد بن ابی سعد تین چار اور آدمیوں کو ہمراہ لے کر مدینہ کی طرف روانہ ہوا‘ وہاں پہنچ کر محمد بن حنفیہ سے دریافت کیا‘ تو انہوں نے کہا کہ ہاں مختار کو خون حسین رضی اللہ عنہ کا بدلہ لینے کی ہم نے اجازت دی ہے‘ یہ سن کر سعد بن ابی سعد معہ ہمراہیوں کے کوفہ میں آیا اور سب کو یہ حال سنایا‘ اس خبر کے سنتے ہی لوگ مختار کی بیعت اور متابعت پر آمادہ ہو گئے۔
مختار کو جب معلوم ہوا کہ میری بات کی تصدیق ہوگئی ہے‘ تو وہ بہت خوش ہوا‘ کہ لوگوں کا شک بھی دور ہو گیا‘ مختار نے کہا کہ ہم کو کامیابی حاصل کرنے کے لیے ابراہیم بن مالک بن اشتر کو بھی جو کوفہ کے رئوساء میں شمار ہوتا ہے‘ ضرور شامل کر لینا چاہیئے‘ چنانچہ مختار کے مریدوں میں سے عامر بن شرجیل فوراً ابراہیم بن مالک کے پاس گیا‘ اور کہا کہ تیرے باپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی حمایت میں بڑے بڑے کارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں‘ اب لوگوں نے مصمم ارادہ کیا ہے‘ کہ خون حسین رضی اللہ عنہ کا معاوضہ طلب کریں‘ چنانچہ ایک معقول جمعیت اس ارادہ پر متفق ہو چکی ہے۔ تجھ کو تو سب سے پہلے اس کام میں شریک ہونا چاہیئے تھا۔ ابراہیم نے کہا کہ میں اس شرط پر لوگوں کا شریک ہو سکتا ہوں کہ مجھ کو امیر بنایا جائے‘ عامر نے کہا‘ کہ محمد بن حنفیہ در حقیقت ہمارے امام ہیں اور انہوں نے مختار کو اپنا خلیفہ مقرر فرمایا ہے لہٰذا ہم نے مختار کے ہاتھ پر بیعت کی ہے‘ ابراہیم نے کہا کہ اچھا میں خود ہی مختار سے ملوں گا۔
عامر نے واپس آکر یہ حال مختار کو سنایا‘ مختار اگلے دن پندرہ آدمیوں کوہمراہ لے کر خود ابراہیم بن مالک کے مکان پر پہنچا‘ اس وقت ابراہیم مصلے پر بیٹھا تھا‘ مختار نے جاتے ہی کہا کہ تیرا باپ شیعان علی رضی اللہ عنہ میں سے بہت نامور شخص تھا‘ ہم تجھ کو بھی اپنی جماعت میں سے سمجھتے ہیں‘ امام مہدی محمد بن الحنفیہ رضی اللہ عنہ نے مجھ کو اپنا نائب بنا کر بھیجا ہے‘ تجھ کو میرے ہاتھ پر بیعت کرنی چاہیئے‘ میں وعدہ کرتا ہوں کہ کامیابی کے بعد جو منصب اور عہدہ تو پسند کرے گا‘ تجھ کو دیا جائے گا‘ ہمراہیوں نے اس وعدہ کی ضمانت اور تصدیق کی‘ ابراہیم فوراً اپنے مصلے سے اٹھا‘ اور مختار کو اپنی جگہ بٹھا کر اس کے ہاتھ پر بیعت کی اور مختار بیعت لے کر واپس چلا آیا‘ اگلے روز ۱۴ ربیع الاول ۶۶ھ کو رات کے وقت مختار نے ابراہیم بن مالک کے پاس آدمی بھیجا‘ کہ اس وقت ہم خروج کا ارادہ کر چکے ہیں‘ تم بھی اپنی جمعیت لے کر ہمارے پاس پہنچو‘ ابراہیم کے پاس آدھی رات تک اس کی جماعت کے لوگ آ آکر جمع ہوئے۔
ایاس بن مضارب کو جاسوسوں نے یہ خبر دے دی تھی‘ کہ آج شب میں بغاوت پھوٹنے والی ہے‘ اس نے عبداللہ بن مطیع کو اطلاع دی ‘ عبداللہ بن مطیع نے تدبیر پوچھی تو اس نے مشورہ دیا‘ کہ کوفے کے سات محلے ہیں‘ ہر محلہ میں پانچ سو آدمیوں کا ایک دستہ متعین کر دیا جائے‘ کہ جب اس محلہ میں کسی کو رات کے وقت نکلتے دیکھے‘ گرفتار یا قتل کر دے‘ چنانچہ اس رائے پر عمل ہوا‘ اور ہر محلہ میں ایک ایک سردار بھیج دیا گیا کہ راستوں اور سڑکوں پر لوگوں کو جمع نہ ہونے دیں‘ اتفاقاً جب ابراہیم اپنی جمعیت کو لے کر مختار کی طرف چلا ہے‘ تو راستے میںایاس بن مضارب ہی سے مقابلہ ہو گیا‘ طرفین سے ایک دوسرے پر حملے ہوئے‘ اور ایاس بن مضارب ابراہیم کے ہاتھ مارا گیا۔
ادھر مختار کے مکان پر بھی چار ہزار آدمی اس کے گرد جمع ہو چکے تھے‘ وہاں سرکاری فوج کے دوسرے دستہ سے جنگ چھڑ گئی‘ ادھر سے ابراہیم لڑتا بھڑتا مختار کے مکان کے قریب پہنچا‘ ادھر ہر محلے کی فوجیں آگئیں‘ اورمختار کی قیام گاہ کے سامنے جنگ ہونے لگی‘ ابراہیم نے سرکاری فوج کو شکست دے کر بھگایا‘ ادھر سے عبداللہ بن مطیع اور تازہ دم فوج لے کر آیا‘ کبھی ابراہیم و مختار عبداللہ بن مطیع کو دھکیل کر دارالامارۃ میں داخل کر دیتے‘ کبھی عبداللہ بن مطیع ان کو پیچھے ہٹاتا ہوا کوفے سے باہر نکال دیتا رات بھر یہ لڑائی جاری رہی‘ جوں جوں لڑائی نے طول کھینچا مختار کی جماعت ترقی کرتی رہی‘ یعنی لوگ آ آ کر شامل ہوتے رہے‘ بالآخر عبداللہ بن مطیع کو دارالامارۃ میں محصور ہونا پڑا‘ مختار نے تین دن محاصرہ جاری رکھا‘ چونکہ اندر آدمی زیادہ تھے‘ جگہ تنگ تھی اور کھانے پینے کا سامان بھی نہیں تھا‘ لہٰذا عبداللہ بن مطیع کسی پوشیدہ راستے سے نکل کر ابو موسیٰ اشعری کے مکان میں جا کرچھپ گیا‘ اور باقی لوگوں نے امان طلب کر کے دارالامارۃ کا دروازہ کھول دیا۔
مختار نے دارالامارۃ اور بیت المال پر قبضہ کر کے بہت سا روپیہ اپنے آدمیوں میں تقسیم کیا‘ جامع کوفہ میں اہل کوفہ جمع ہوئے‘ مختار نے خطبہ دیا‘ اور محمد بن حنفیہ کی بیعت و امامت تسلیم کرنے کی ترغیب دی‘ چنانچہ اہل کوفہ نے کتاب و سنت کی پیروی اور اہل بیت کی ہمدردی کا بیعت کے ذریعہ اقرار کیا‘ مختار نے بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کا وعدہ کیا‘ اس بیعت عام کے بعد مختار نے سنا‘ کہ عبداللہ بن مطیع ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے مکان میں روپوش ہے‘ اس نے ایک لاکھ درہم اس کے پاس بھجوائے اور کہلا بھیجا‘ کہ مجھ کو معلوم ہوا ہے کہ تم سامان سفر کے نہ ہونے کی وجہ سے ابوموسیٰ کے مکان میں ٹھہرے ہوئے ہو‘ لہٰذا یہ ایک لاکھ درہم قبول کرو‘ اور تین دن کے اندر اپنا سامان درست کر کے کوفہ سے روانہ ہو جائو۔ عبداللہ بن مطیع شرم کی وجہ سے مکہ معظمہ کی طرف نہیں گیا‘ بلکہ کوفہ سے بصرہ چلا آیا۔
جس زمانہ میں سلیمان بن صرد کے ہمراہی ہزیمت خوردہ کوفہ میں آئے تھے‘ ان ہی میں مثنیٰ بن مخرمہ عبدی نامی ایک شخص بصرہ کا رہنے والاتھا۔ مختار کے خط کو پڑھ کر یہ لوگ جیل خانہ میں اس سے ملنے گئے تھے‘ اوپر اس کا ذکر آچکا ہے‘ اسی وقت مثنیٰ نے مختار کے ہاتھ پر بیعت کر لی تھی‘ اور مختار نے اس کو یہ وصیت کر کے بصرہ کی طرف رخصت کیا تھا کہ تم وہاں جا کر شیعان علی رضی اللہ عنہ سے میری نیابت میں بیعت کر لو‘ اور اپنی جمعیت کو بڑھائو‘ جس وقت میں کوفہ میں خروج کروں گا‘ اسی وقت تم بھی بصرہ میں خروج کرنا‘ چنانچہ مثنیٰ بن مخرمہ نے بصرے میں لوگوں سے خفیہ بیعت لینی شروع کی اور ایک گروہ کو اپنے ساتھ شامل کر لیا۔
مختار نے جب کوفہ میں خروج کا ارادہ کیا تو بصرہ میں مثنیٰ کے پاس بھی اطلاع بھیج دی‘ اس نے بھی وہاں تاریخ مقررہ پر خروج کیا‘ لیکن بصرہ میں اس وقت سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما کی طرف سے حرث بن ابی ربیعہ حاکم بصرہ تھا‘ حرث بن ابی ربیعہ نے ان باغیوں کے منصوبوں کو پورا نہ ہونے دیا‘ اور سب کو ایک محلہ میں گھیر کر محصور کر لیا‘ پھر سب کو بصرہ سے نکال دیا‘ یہ لوگ بصرہ سے نکل کر کوفہ میں مختار کے پاس چلے آئے‘ اس طرح بصرہ تو بچ گیا مگر کوفہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما کی حکومت سے نکل گیا۔
کوفہ میں مختار نے اپنا تسلط قائم کر کے شرفاء کوفہ کو اپنا مصاحب بنایا اور دوسرے بلاد اسلامیہ پر قبضہ کرنے کے لیے چند جھنڈے بنائے‘ ایک علم عبداللہ بن حرث بن اشتر کو دے کر آرمینیا کی طرف بھیجا‘ ایک علم محمد بن عمیر بن عطارد کو دے کر آذر بائیجان کی طرف روانہ کیا‘ ایک علم عبدالرحمن بن سعید بن قیس کودے کو موصل کی طرف رخصت کیا‘ اسحاق بن مسعود کو مدائن کا علم اور سعد بن حذیفہ بن الیمان کو حلوان کا علم سپرد کیا‘ عبداللہ بن کامل کو کوفہ کا کوتوال اور شریح کا قاضی کوفہ بنایا‘ بعد میں شریح کو معزول کر کے عبداللہ بن مالک طائی کو کوفہ کا قاضی مقرر کیا۔
ہر طرف مختار کے فرستادہ سرداروں کو کامیابی حاصل ہوئی‘ اور لوگوں نے مختار کی حکومت کو تسلیم کر کے بیعت کر لی‘ صرف موصل پرعبدالرحمن بن سعید کو کوئی قابو نہ ملا‘ کیوں کہ وہاں عبدالملک بن مروان کی طرف سے عبیداللہ بن زیاد بطور گورنر مامور تھا‘ عبدالرحمن بن سعید نے بجائے موصل کے تکریت میں جاکر قیام کیا‘ اور مختار کو حالات سے اطلاع دی‘ مختار نے موصل کی مہم یزید بن انس کو سپرد کی اور تین ہزار سوار دے کو موصل کی جانب رخصت کیا‘ عبیداللہ بن زیاد نے جب یزید بن انس کے آنے کی خبر سنی‘ تو ربیعہ بن مختار غنوی کو یزید بن انس کے مقابلہ پر روانہ کیا‘ بابل کے مقام پر دونوں کا مقابلہ ہوا‘ یہ لڑائی ۹ ذی الحجہ ۶۶ھ کو ہوئی‘ ربیعہ مارا گیا‘ اور شامی لشکر کو شکست ہوئی۔
شکست خوردہ شامی واپس جا رہے تھے کہ راستے میں عبداللہ بن جملہ خثعمی تین ہزار کی جمعیت سے آتا ہوا ملا‘ جس کو عبیداللہ بن زیاد نے ربیعہ کی امداد کے لیے روانہ کیا تھا‘ عبداللہ نے منہزمین کو روک کر اپنے ساتھ لیا‘ اور اگلے دن ۱۰ ذی الحجہ بروز عیدالاضحیٰ کوفی لشکر پر حملہ کیا‘ اس لڑائی میں بھی کوفیوں کو فتح اور شامیوں کو شکست ہوئی‘ کوفیوں نے کئی ہزار شامیوں کو گرفتار کیا‘ اور یزید بن انس کے حکم سے قتل کئے گئے‘ اسی روز شام کے وقت یزید بن انس بھی جو پہلے سے بیمار تھا فوت ہو گیا اور مرتے وقت ورقاء بن عازب کو امیر لشکر بنا گیا۔
اگلے روز ورقہ بن عازب کے جاسوس نے خبر دی‘ کہ عبیداللہ بن زیاد خود مقابلہ پر آنے والا ہے‘ ورقہ نے عبیداللہ کا نام سنتے ہی بابل سے کوچ کیا اور عراق کی حدود کے اندر واپس آکر قیام کیا اور مختارکو لکھا کہ میرے پاس تھوڑی فوج تھی‘ لہٰذا میں پیچھے ہٹ آیا ہوں‘ اس خبر کو سن کر کوفہ میں لوگوں نے ورقہ کو ملامت سے یاد کیا کہ فتح مند ہو کر شکست یافتوں کا طرز عمل کیوں اختیار کیا گیا‘ مختار نے کوفہ سے سات ہزار فوج دے کر ابراہیم بن مالک بن اشتر کو روانہ کیا اورحکم دیا‘ کہ یزید بن انس کا تمام لشکر بھی ورقاء کی سرداری سے نکال کر تم اپنے ماتحت کر لینا۔
ابراہیم کے رخصت ہونے کے بعد اہل کوفہ نے شیث بن ربیع کے پاس آکر شکایت کی کہ مختار ہماری پوری پوری قدر دانی نہیں کرتا اور ہمارے حقوق غصب کرتا ہے۔
شیث بن ربعی نے کہا کہ میں مختار سے مل کر گفتگو کر لوں‘ اور دیکھوں کہ وہ کیا جواب دیتا ہے‘ شیث جب مختار کے پاس آیا تو اس نے کہا کہ میں ہر ایک کام اہل کوفہ کی مرضی کے موافق کرنے کو تیار ہوں‘ اور مال غنیمت میں بھی ان کو حصہ دینے کا اقرار کرتا ہوں‘ بشرطیکہ وہ مجھ سے اس بات کا اقرار کریں کہ ہم بنو امیہ اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما سے لڑیں گے‘ یہاں تک کہ دونوں کی طاقت کو نابود کر دیں‘ شیث بن ربعی نے کہا اچھا میں اہل کوفہ سے دریافت کر لوں‘ شیث بن ربعی مختار کے پاس سے اٹھ کر آیا۔
کوفہ میں کچھ لوگ ایسے تھے‘ جو مختار کے ہاتھ پر اس کی حکومت سے پہلے ہی بیعت کر چکے تھے‘ وہ اس کے ہم عقیدہ و ہم خیال تھے ان کے ساتھ مختار بڑی بڑی رعایتیں کرتا تھا‘ کچھ ایسے تھے جنہوں نے صرف اس کی حکومت کو تسلیم کر کے بیعت اطاعت کی تھی‘ وہ اس کے ہم خیال اور خون حسین کے مطالبہ میں اس کے ہم نوا نہ تھے‘ انہیں کو مختار سے شکایات تھیں۔
چنانچہ شیث بن ربعی کے واپس آنے پر ان لوگوں نے مختار کے خلاف ہجوم کیا اور دارالامارۃ میں پہنچ کر مختار سے کہا کہ ہم نے تم کو معزول کر دیا‘ تم حکومت چھوڑ کر الگ ہو جائو‘ کیوں کہ تم محمد بن حنفیہ کے نائب اور خلیفہ نہیں ہو‘ مختار نے اس وقت بڑی چالاکی اور دور اندیشی سے کام لیا‘ لوگوں کو سمجھایا کہ میں تم پر کوئی سختی نہیں کرنا چاہتا‘ میں نے تم سب کو خون حسین رضی اللہ عنہ بھی معاف کردیا‘ ہر قسم کی رعایت بھی تم کو دی جائے گی‘ اس وقت بنو امیہ کا مقابلہ درپیش ہے‘ تم کو چاہیئے کہ ایسے وقت میں فتنہ و فساد برپا نہ کرو‘ ورنہ نتیجہ اچھا نہ ہو گا‘ جائو سوچو اور خوب غور کرو‘ کہ تم جس کام پر آمادہ ہوئے ہو وہ تمہارے لیے اچھا نتیجہ پیدا نہ کرے گا۔
ان لوگوں کے سرداروں نے اس وقت مختار کی ان باتوں کو منظور کرلیا‘ اور کہا کہ اچھا ہم غور کریں گے‘ ان کا مدعا یہ تھا کہ ابراہیم بن مالک جو کوفہ سے روانہ ہوا ہے دور چلا جائے اور ہمارے لیے کوئی خطرہ باقی نہ رہے۔ ادھر مختار نے بھی ابراہیم کی غیر موجودگی میں اپنی بے بسی کو محسوس کر لیا تھا‘ لہٰذا اس نے فوراً ایک تیز رفتار سانڈنی پر اپنا قاصد ابراہیم کے پاس بھیجا کہ فوراً اپنے آپ کو کوفہ میں واپس پہنچائو‘ اور خود دارالامارۃ میں مضبوطی کر کے بیٹھ گیا‘ لوگوں نے اگلے روز دارالامارۃ کا محاصرہ کر لیا‘ تیسرے روز ابراہیم راستے سے لوٹ کر کوفہ میں معہ اپنی فوج کے داخل ہوا اور ان لوگوں کو جو مختار کی مخالفت میں اٹھے تھے‘ قتل کرنا شروع کیا‘ غرض کوفہ میں کوئی گھر ایسا نہیں بچا جس سے ایک دو یا زیادہ آدمی قتل نہ کئے گئے ہوں۔
مختار نے لوگوں کو جمع کر کے ان تمام لوگوں کی فہرستیں مرتب کرائیں جو ابن زیاد کے لشکر میں قتل حسین رضی اللہ عنہ کے وقت موجود تھے‘ یا جنہوں نے کسی قسم کا کوئی حصہ میدان کربلا میں لیا تھا‘ عمرو بن سعد اور شمر ذی الجوشن بھی گرفتار ہو کر مقتول ہوئے‘ عمرو بن سعد نے مختار سے امن حاصل کر لیا تھا‘ لیکن مختار نے اپنے قول و اقرار کا لحاظ نہ کر کے اس کا سر اتروا لیا‘ عمرو بن سعد کا لڑکا حفص بن عمرو مختار کی مصاحبت میں تھا‘ جس وقت عمرو بن سعد کا سر دربار میں آیا تو مختار نے حفص بن عمرو سے کہا کہ تم اس کو پہچانتے ہو‘ کس کا سر ہے‘ حفص نے کہا کہ ہاں میں پہچانتا ہوں‘ لیکن اب اس کے بعد زندگی کا لطف جاتا رہا‘ مختار نے اسی وقت حکم دیا کہ حفص کا سر بھی کاٹ لو۔ چنانچہ حفص کا بھی سر اتار لیا گیا‘ غرض اس قتل و گرفتاری کا سلسلہ کئی روز تک جاری رہا‘ لوگ گھروں سے گرفتار ہو کر آتے تھے‘ اور قتل کئے جاتے تھے‘ عمروبن سعد اور شمر وغیرہ کے سر مختار نے محمد بن حنفیہ کے پاس مدینہ بجھوا دیئے تھے۔
مختار بہت ذی ہوش اور چالاک آدمی تھا‘ اس نے کوفہ پر قابض و متصرف ہو کر ایک خط سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما کو لکھا‘ کہ میں دارالامارۃ کوفہ میں آج کل مقیم ہوں‘ مجھ کو دل سے آپ کی اطاعت منظور اور آپ کی خلافت تسلیم ہے‘ آپ کوفہ کی گورنری مجھ کو عطا کر دیجئے‘ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما سمجھ گئے‘ کہ یہ مجھ کو دھوکہ دے کر اور اپنی طرف سے غافل رکھ کر حکومت و سلطنت حاصل کرنا چاہتا ہے‘ انہوں نے مختار کی اطاعت کا امتحان لینے کی غرض سے عمر بن عبدالرحمن بن حرث بن ہشام مخزومی کو کوفہ کی گورنری کا پروانہ دے کر کوفہ کی طرف روانہ کیا‘ مختار کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو اس نے زائد بن قدامہ کو پانچ سو سواروں کے ساتھ ستر ہزار درہم دے کر روانہ کیا‘ کہ راستے ہی میں عمر بن عبدالرحمن کو روک کر اور یہ رقم دے کر واپس کر دو‘ اگر وہ واپس ہونے سے انکار کرے‘ تو تم اپنے پانچ سو سواروں سے اس کو گرفتار کر لینا۔
عمر بن عبدالرحمن نے اول تو انکار کیا‘ لیکن پھر پانچ سو سواروں کی جمعیت دیکھ کر مناسب سمجھا‘ کہ ستر ہزار درم قبول کر لیے جائیں‘ چنانچہ ستر ہزار درہم لے کر بصرہ کی طرف روانہ ہو گیا‘ عبداللہ بن مطیع بھی بصرہ ہی میں چلا گیا تھا۔ اب عمر بن عبدالرحمن نے بھی بصرہ ہی کا رخ کیا‘ جہاں حرث بن ابی ربیعہ حکومت کر رہا تھا۔