یزید بن معاویہ
مکہ کا محاصرہ اور یزید کی موت
مدینہ سے فارغ ہو کر مسلم بن عقبہ اپنی فوج لے کر مکہ کی جانب روانہ ہوا‘ مسلم بیمار توتھا ہی راستے میں بیماری نے اور ترقی کی اور مقام ابواء میں اس کی حالت نازک ہو گئی‘ اس نے حصین بن نمیر کو بلا کر اپنی جگہ فوج کا سپہ سالار مقرر کیا اور خود مر گیا‘ مدینہ سے جو لوگ فرار ہوئے تھے وہ بھی مکہ میں آ کر جمع ہو گئے تھے‘ ادھر خوارج نے بھی عبداللہ بن زبیر کی مدد کرنا مناسب سمجھی اور وہ بھی مکہ میں آکر جمع ہو گئے تھے‘ اس سال حج کے موقعہ پر تمام اہل حجاز نے عبداللہ بن زبیر کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت کر لی تھی۔
حصین بن نمیر لشکر شام کو لیے ہوئے مکہ کے قریب پہنچا اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما کے پاس پیغام بھیجا‘ کہ یزید کی اطاعت کر لو ورنہ مکہ پر حملہ ہو گا‘ عبداللہ بن زبیر نے مقابلہ کی تیاری کی‘ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما کے بھائی منذر بن زبیر رضی اللہ عنہ جو مدینہ سے مکہ میں آگئے تھے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما کی فوج کے ایک حصے کے سردار مقرر ہوئے‘ سب سے پہلے انہوں نے میدان میں نکل کر لشکر شام کو للکارا‘ اول مبارزہ کی‘ جنگ میں منذر بن زبیر کے ہاتھ سے کئی شامی مارے گئے‘ پھر جنگ مغلوبہ شروع ہوئی‘ شام تک لڑائی جاری رہی اور کوئی فیصلہ شکست و فتح کا نہ ہوا‘ یہ لڑائی ۲۷ محرم ۶۴ھ کو شروع ہوئی تھی۔