یزید بن معاویہ

شامی لشکر کی مدینہ کی طرف روانگی

یزید نے مطلع ہو کر مسلم بن عقبہ کو طلب کیا اور کہا کہ ایک ہزار چیدہ جنگ جو ہمراہ لے کر مدینہ پہنچو‘ لوگوں کو اطاعت کی طرف بلائو اگر وہ اطاعت اختیار کر لیں تو بہتر ہے‘ نہیں تو جنگ کر کے سب کو سیدھا کر دو۔ مسلم نے کہا کہ میں فرماں بردار ہوں‘ لیکن آج کل بیمار ہوں‘ یزید نے کہا کہ تو بیمار بھی دوسرے تندرستوں سے بہتر ہے اور اس کام کو تیرے سوا دوسرا انجام دینے کی قابلیت نہیں رکھتا‘ مجبوراً مسلم نے فوج انتخاب کر کے اپنے ہمراہ لی اور تیسرے روز دمشق سے روانہ ہو گیا۔ یزید نے رخصت کرتے وقت مسلم کو نصیحت کی کہ جہاں تک ممکن ہو نرمی اور درگذر سے کام لے کر اہل مدینہ کو راہ راست پر لانے کی کوشش کرنا‘ لیکن جب یقین ہو جائے کہ نرمی اور نصیحت کام نہیں آسکتی تو پھر تجھ کو اختیار کامل دیتا ہوں کہ کشت و خون اور قتل و غارت میں کمی نہ کرنا‘ مگر اس بات کا ضرور خیال رکھنا کہ علی بن حسین رضی اللہ عنھما کو کوئی آزار نہ پہنچے‘ کیوں کہ وہ میرا وفادار اور خیر خواہ ہے اور اس کا خط میرے پاس آیا ہے جس میں لکھا ہے کہ مجھ کو اس شورش اور بغاوت سے کوئی تعلق نہیں ہے‘ یزید نے مسلم بن عقبہ سے یہ بھی کہا‘ کہ اگر تیری بیماری بڑھ جائے‘ اور تو فوج کی سپہ سالاری خود نہ کر سکے تو میں مناسب سمجھتا ہوں کہ حصین بن نمیر تیرا قائم مقام ہو‘ تو بھی اس کو اپنا نائب مقرر کر دے۔ اس فوج کو رخصت کرنے کے بعد اسی روز یزید نے عبیداللہ بن زیاد کے پاس ایک قاصد کو خط دے کر بھیجا‘ خط میں لکھا تھا کہ تو کوفہ سے فوج لے کر مکہ پر حملہ کر اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما کے فتنہ کو مٹا‘ عبیداللہ بن زیاد نے جواباً لکھا کہ دو کام مجھ سے نہیں ہوں گے۔ میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کرنے کا ایک کام کر چکا ہوں اب خانہ کعبہ کے ویران کرنے کا دوسرا کام مجھ سے نہ ہو گا‘ یہ کام کسی دوسرے شخص کو سپرد کرنا چاہیئے۔ مسلم بن عقبہ جب فوج لیے ہوئے مدینہ کے قریب پہنچا تو مدینہ والوں نے عبداللہ بن حنظلہ سے کہا کہ بنی امیہ جو مدینہ میں موجود ہیں یہ دمشق کی فوج آنے پر سب دشمنوں سے آملیں گے اور ہم کو اندرونی لڑائی میں مبتلا کر کے سخت نقصان پہنچائیں گے‘ مناسب یہ ہے کہ ان سب کو مسلم کے پہنچنے سے پہلے ہی قتل کر دیا جائے۔ عبداللہ بن حنظلہ نے کہا کہ اگر ہم نے بنی امیہ کو قتل کیا تو یزید تمام شامیوں کو اور عبیداللہ بن زیاد تمام عراقیوں کو لے کر چڑھ آئیں گے اور ہم سے ان کا قصاص طلب کریں گے‘ مناسب یہ ہے کہ ہم تمام بنی امیہ کو بلا کر ان سے اقرار لیں اور اس بات کی قسم دیں کہ وہ ہم سے نہ لڑیں گے اور ہمارے خلاف کسی قسم کی مدد حملہ آور فوج کو نہ دیں گے‘ یہ عہد و اقرار لے کر ہم ان کو مدینہ سے باہر نکال دیتے ہیں۔ سب نے اس رائے کو پسند کیا اور عبداللہ بن حنظلہ نے تمام بنی امیہ سے مذکورہ عہد و اقرار لے کر سب کو مدینہ سے رخصت کر دیا‘ بجز عبدالملک بن مروان کے کہ اس کو مدینہ میں رہنے کی آزادی حاصل رہی۔ ان لوگوں کی وادی القریٰ میں مسلم بن عقبہ کے لشکر سے ملاقات ہوئی‘ مسلم نے ان سے پوچھا کہ ہم کو مدینہ پر کس طرف سے حملہ آور ہونا چاہیئے‘ انہوں نے اپنے عہد و اقرار کا لحاظ کر کے مسلم کو جواب دینے سے انکار کیا اور اپنے عہد و اقرار کا عذر پیش کیا‘ مسلم نے پوچھا کہ تم میں کوئی ایسا بھی ہے جس نے کوئی عہد نہ کیا ہو‘ اور اس سے قسم نہ لی گئی ہو‘ انہوں نے کہا ہاں عبدالملک بن مروان ایک ایسا شخص ہے‘ اور وہ مدینہ میں موجود ہے۔ مسلم نے کہا کہ وہ نوجوان ہے ہم کو تجربہ کار بوڑھے کی ضرورت ہے‘ جو ضروریات جنگ سے واقف ہو‘ انہوں نے کہا کہ وہ نوجوان بوڑھوں سے بہت بہتر ہے‘ چنانچہ مسلم نے کسی کو بھیج کر مدینہ سے عبدالملک کو بلایا‘ اور اس کے مشوروں کو سن کر حیران رہ گیا اور ان ہی پر عامل ہوا۔ مسلم نے مدینہ کے قریب پہنچ کر اہل مدینہ کے پاس پیغام بھیجا‘ کہ امیر المومنین یزید تم کو شریف سمجھتے اور تمہاری خوں ریزی کو پسند نہیں کرتے ہیں‘ بہتر یہی ہے‘ کہ تم اطاعت اختیار کرو ورنہ مجبوراً مجھ کو شمشیر نیام سے نکالنی پڑے گی‘ یہ پیغام بھیج کر تین دن مسلم نے انتظار کیا‘ مگر اہل مدینہ لڑائی پر آمادہ ہو گئے۔ آخر مسلم نے حرہ شرقیہ کی جانب سے مدینہ پر حملہ کیا۔ اہل مدینہ نے بڑی بہادری سے مقابلہ کیا اور لشکر شام کا منہ پھیر دیا‘ لیکن مسلم بن عقبہ کی بہادری و تجربہ کاری سے اہل مدینہ کو شکست ہوئی۔ عبداللہ بن حنظلہ‘ فضیل بن عباس بن عبدالمطلب‘ محمد بن ثابت بن قیس‘ عبداللہ بن زید بن عاصم‘ محمد بن عمرو بن حزم انصاری‘ وہب بن عبداللہ بن زمعہ‘ زبیر بن عبدالرحمن بن عوف‘ عبداللہ بن نوفل بن حرث بن عبدالمطلب بہت سے سرداران مدینہ جنگ میں کام آئے۔ فتح مند فوج مدینہ میں داخل ہوئی‘ مسلم بن عقبہ نے تین دن تک قتل عام اور لوٹ مار کا سلسلہ جاری رکھا‘ اس لڑائی اور قتل عام میں ایک ہزار کے قریب آدمی مارے گئے جن میں تین سو سے زیادہ شرفائے قریش و انصار شامل تھے‘ چوتھے روز مسلم نے قتل عام کو موقوف کر کے بیعت کا حکم دیا‘ جس نے مسلم کے ہاتھ پر آکر بیعت کی وہ بچ گیا‘ جس نے بیعت سے انکار کیا وہ قتل ہوا۔ ۲۷ ذی الحجہ ۶۳ھ مسلم بن عقبہ فاتحانہ مدینہ میں داخل ہوا‘ اور قتل عام کا حکم دیا‘ اسی روز محمد بن عبداللہ بن عباس بن عبدالمطلب پیدا ہوا‘ یہی وہ محمد بن عبداللہ ہے‘ جو محمد ابوالعباس سفاح کے نام سے مشہور ہے‘ اور عباسیوں کا پہلا خلیفہ ہے منذر بن زبیر کو مسلم نے بہت تلاش کرایا‘ مگر وہ بچ کر مکہ کی طرف نکل گئے تھے۔