سیدنا علی رضی اللہ عنہ
محاربات صفین کا دیباچہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کوفہ میں تشریف لا کر ملک شام پر چڑھائی کی تیاری شروع کی‘ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اپنا لشکر لے کر بصرہ سے روانہ ہو گئے‘ اس خبر کے سنتے ہی سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی کوفہ میں ابومسعود انصاری کو اپنا قائم مقام بنا کر مقام نخیلہ کی طرف تشریف لے گئے اور ترتیب لشکر میں مصروف ہو گئے‘ یہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بھی اہل بصرہ کا لشکر لیے ہوئے آ پہنچے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہاں زیاد بن نصر حارثی کو آٹھ ہزار فوج دے کر بطور مقدمۃ الجیش آگے روانہ کیا‘ اس کے بعد شریح بن ہانی کو چار ہزار کی جمعیت دے کر زیاد کے پیچھے بھیجا‘ اور خود نخیلہ سے کوچ کر کے مدائن تشریف لائے‘ مدائن میں سعد بن مسعود ثقفی کو عامل مقرر کر کے معقل بن قیس کو تین ہزار لشکر کے ساتھ روانہ کیا‘ اور اس کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ مدائن سے روانہ ہو کر رقہ کی طرف چلے‘ رقہ کے قریب دریائے فرات کو عبور کیا اور یہاں زیاد‘ شریح‘ معقل وغیرہ تمام سرداروں کا لشکر مجتمع ہو گیا۔
ادھر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو جب یہ معلوم ہوا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ لشکر عظیم لیے ہوئے ملک شام کے قصد سے آ رہے ہیں تو انہوں نے ابو الاعور سلمی کو ایک دستہ فوج دے کر بطور مقدمۃ الجیش روانہ کیا‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دریائے فرات کو عبور کرنے کے بعد زیادہ و شریح دونوں سرداروں کو پھر بطور مقدمۃ الجیش آگے روانہ کیا‘ زیاد‘ شریح کو حدود شام میں داخل ہو کر معلوم ہوا کہ ابو الاعور السلمی لشکر شام لیے ہوئے آ رہا ہے‘ انہوں نے فوراً سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اطلاع دی‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اشتر کو روانہ کیا اور حکم دیا کہ تم جب زیادہ شریح تک پہنچنا‘ تو تمام لشکر کی سرداری اپنے ہاتھ میں لے کر زیاد و شریح کو میمنہ و میسرہ کی سرداری پر متعین کر دینا‘ اور جب تک لشکر شام تم پر حملہ آور نہ ہو اس پر حملہ آور نہ ہونا۔
اشتر نے پہنچ کر تمام لشکر کی کمان اپنے ہاتھ میں لے کر زیاد و شریح کو میمنہ و میسرہ سپرد کیا‘ ادھر ابوالاعور بھی مقابل آ کر خیمہ زن ہوا‘ صبح سے شام تک دونوں لشکر خاموش ایک دوسرے کے مقابل خیمہ زن رہے‘ لیکن شام کے وقت ابوالاعور نے حملہ کیا‘ تھوڑی دیر لڑ کر فریقین ایک دوسرے سے جدا ہو گئے‘ اگلے دن صبح کو ابوالاعور صف لشکر سے نکل کر میدان میں آیا‘ ادھر سے ہاشم بن عتبہ نے نکل کر مقابلہ کیا‘ عصر کے وقت تک دونوں لڑتے رہے‘ پھر ایک دوسرے سے جدا ہو کر اپنے اپنے لشکر کو واپس آ رہے تھے کہ اشتر نے اپنی فوج کو حملہ کا حکم دیا‘ ابوالاعور نے بھی اپنے آدمیوں کو حملہ آور کیا‘ شام تک کشت و خون جاری رہا‘ رات کی تاریکی نے حائل ہو کر لڑائی کو ملتوی کیا‘ فریقین اپنے اپنے خیموں میں رات بسر کرنے کے لیے چلے گئے۔
اگلے دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی پہنچ گئے اور معلوم ہوا کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بھی اپنا لشکر لیے ہوئے قریب آ پہنچے ہیں‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لڑائی اور حملہ آوری موقف کرا کر اشتر کو حکم دیا کہ تم بہت جلد دریائے فرات کے ساحل پر پہنچ کر پانی پر قبضہ کر لو‘ اشتر جب فرات کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے پہلے ہی آ کر پانی پر قبضہ کر لیا ہے‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو جب یہ بات معلوم ہوئی‘ تو انہوں نے صعصعہ بن صوحان کو سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس پیغام دے کر بھیجا‘ کہ ہم تم سے اس وقت تک نہ لڑتے جب تک کہ تمہارے عذرات نہ سن لیتے اور بذریعہ تبلیغ حق تم پر پوری حجت نہ کر لیتے‘ لیکن تمہارے آدمیوں نے شتاب زدگی کر کے لڑائی چھیڑ دی‘ اب ہم مناسب یہی سمجھتے ہیں‘ کہ تم کو اول راہ حق کی دعوت دیں اور جب تک حجت پوری نہ کر لیں لڑائی شروع نہ کریں‘ مگر افسوس ہے کہ تم نے فرات پر قبضہ کر کے ہمارے لیے پانی بند کر دیا‘ لوگوں کا پیاس سے برا حال ہو رہا ہے‘ تم اپنے ہمرائیوں کو حکم دو کہ پانی لینے سے ہم کو نہ روکیں یہاں تک کہ نزاعی امور کا فیصلہ ہو جائے‘ اور اگر تم یہ چاہتے ہو کہ جس غرض سے ہم یہاں آئے ہیں اس کو فراموش کر کے پانی پر لڑیں اور جو غالب ہو وہی پانی پی سکے‘ تو ہم اس کے لیے بھی تیار ہیں۔
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسی وقت اپنے مشیروں کو طلب کر کے یہ مسئلہ ان کے سامنے پیش کیا‘ عبداللہ بن سعد سابق گورنر مصر اور ولید بن عقبہ نے کہا کہ ہم کو پانی سے قبضہ نہیں اٹھانا چاہیے‘ اور ان کو پیاسا ہی مارنا چاہیے‘ کیونکہ ان لوگوں نے بھی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا پانی بند کر دیا تھا‘ اور ان کو پیاسا شہید کیا تھا‘ عمروبن العاص رضی اللہ عنہ نے ان کے خلاف رائے دی کہ پانی ہرگز بند نہ کیا جائے‘ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لشکر کو پیاس کی تکلیف نہ دی جائے‘ اسی مجلس میں صعصعہ اور ولید بن عقبہ کے درمیان ذرا سخت گفتگو ہوئی‘ اور بڑھتے بڑھتے گالی گلوچ تک نوبت پہنچ گئی‘ صعصعہ وہاں سے ناراض اٹھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے‘ اور کہا کہ وہ ہم کو پانی لینے کی اجازت نہیں دیتے‘ سیدنا علی نے اشعث بن قیس کو سواروں کا دستہ دے کر بھیجا‘ کہ زبردستی پانی پر قبضہ کرو‘ ادھر سے ابوالاعور سلمی نے مقابلہ کی تیاری کی اور طرفین سے تیر بازی بھی ہوئی‘ نیزے بھی چلے‘ تلواریں بھی چمکیں‘ خون بھی بہا اور سر بھی جسم سے جدا ہوئے‘ لیکن یہ فیصلہ ابھی نہ ہونے پایا تھا کہ پانی پر کون فریق قابض و متصرف رہ سکے گا‘ اتنے میں سیدنا عمروبن العاص رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو سمجھایا کہ اگر تم نے پانی کے اوپر سے اپنا قبضہ نہ اٹھایا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے لشکر کو پانی کی تکلیف پہنچی اور وہ پیاس کے مارے تڑپنے لگے تو خود تمہارے لشکر کے بہت سے آدمیوں کا جذبہ رحم متحرک ہوگا اور وہ تمہارا ساتھ چھوڑ چھوڑ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں جا ملیں گے‘ اور تم کو قساوت قلبی اور ظلم سے متہم کر کے سیدنا علی کی طرف سے لڑیں گے‘ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسی وقت اعلان کرا دیا کہ فریق مخالف کو پانی سے نہ روکا جائے اور پانی کی تکلیف نہ دی جائے‘ اسی طرح یہ ہنگامہ بھی مشتعل ہو کر جلد فرو ہو گیا۔۱؎
اس کے بعد دو دن تک دونوں لشکر بلا جدال و قتال خاموشی کے ساتھ ایک دوسرے کے مقابل پڑے رہے‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس حجاز و یمن اور عرب کے مختلف حصوں‘ نیز ہمدان وغیرہ ایرانی صوبوں سے بھی جمیعتیں آ گئی تھیں‘ اور کل تعداد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لشکر کی نوے ہزار تھی۔
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس کل تعداد اسی ہزار آدمیوں کی تھی ۲؎ ان دونوں لشکروں کے سپہ سالار اعظم سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ تھے‘ فوج کے بڑے بڑے حصوں کی سرداریاں اس طرح تقسیم ہوئی تھیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں سواران کوفہ پراشتر‘ سواران بصرہ پر سہل بن حنیف‘ کوفہ کی پیادہ فوج پر سیدنا عمار بن یاسر بصرہ کی پیادہ فوج پر قیس بن سعد بن عبادہ افسر تھے‘ اور ہاشم بن عتبہ کو لشکر کا علم دیا گیا تھا‘ باقی قبائل اور صوبوں کی جماعت کے اپنے اپنے الگ الگ افسر اور علم تھے۔
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے لشکر میں میمنہ کی سرداری ذوالکلاح حمیری کو‘ میسرہ کی حبیب بن مسلمہ کو‘ مقدمہ کی ابوالاعور سلمی کو سپرد ہوئی تھی‘ سواران دمشق پر عمروبن العاص رضی اللہ عنہ ‘ پیادہ فوج پر مسلم بن عقبہ سردار مقرر کئے گئے تھے‘ ان کے علاوہ اور چھوٹے چھوٹے حصوں پر عبدالرحمن بن خالد‘ عبیداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ‘ بشیر بن مالک کندی‘ وغیرہ افسر مقرر ہوئے تھے۔
دونوں کی خاموشی کے بعد تیسرے دن یکم ذی الحجہ ۳۶ ھ کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بشیر بن عمروبن محصن انصاری رضی اللہ عنہ ‘ سعید بن قیس‘ اور شبث بن ربعی تمیمی کا ایک وفد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا‘ کہ ان کو سمجھائیں‘ اور اطاعت قبول کرنے پر آمادہ کریں‘ یہ لوگ جب امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پہنچے‘ تو اول بشیر بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے معاویہ رضی اللہ عنہ تم مسلمانوں کی جماعت میں تفریق پیدا نہ کرو‘ اور خوں ریزی کا موقع آپس میں نہ آنے دو۔
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ تم نے اپنے دوست علی رضی اللہ عنہ کو بھی نصیحت کی یا نہیں‘ بشیر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ وہ سابق بالاسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے قریبی رشتہ دار ہونے کی وجہ سے خلافت و امارت کے زیادہ حق دار ہیں‘ تم کو چاہیے کہ ان کی بیعت اختیار کر لو‘ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ یہ کسی طرح ممکن نہیں کہ ہم خون عثمان رضی اللہ عنہ کا مطالبہ چھوڑ دیں‘ شبث بن ربعی نے کہا اے معاویہ خون عثمان رضی اللہ عنہ کے مطالبہ کے متعلق ہم تمہارے اصل مدعا کو خوب سمجھتے ہیں‘ تم نے اسی لیے عثمان رضی اللہ عنہ کی مدد کرنے میں تاخیر کی تھی کہ وہ شہید ہو جائیں‘ اور تم ان کے خون کے مطالبہ کو بہانہ بنا کر خلافت و امارت کا دعویٰ کرو‘ اے معاویہ رضی اللہ عنہ تم اپنے خام خیال سے درگذر کرو اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے جھگڑا نہ کرو‘ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس کا سختی سے جواب دیا‘ شبث نے بھی ویسا ہی ترکی بترکی جواب دیا اور یہ سفارت بلا نتیجہ واپس چلی آئی۔