سیدنا علی رضی اللہ عنہ
سیدنا عمروبن العاص رضی اللہ عنہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس
سیدنا عمروبن العاص رضی اللہ عنہ نے خلافت فاروقی میں مصر کو فتح کر کے ممالک اسلامیہ میں شامل کیا تھا‘ جب بلوائیوں نے مدینہ میں داخل ہو کر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کیا تھا تو یہ مدینہ میں موجود تھے‘ بلوائیوں کے نا مناسب طرز عمل اور اس فساد کے نتیجے پر غور کر کے انہوں نے یہی مناسب سمجھا تھا کہ مدینہ سے نکل جائیں‘ چنانچہ وہ اپنے دونوں بیٹوں عبداللہ اور محمد کو ہمراہ لے کر مدینہ سے روانہ ہوئے اور بیت المقدس میں جا کر مقیم ہو گئے‘ وہاں نہایت خاموشی کے ساتھ حالات پر غور کرتے اور واقعات کی خبریں سنتے رہے‘ اول سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کا حال سنا‘ پھر خبر پہنچی کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت ہو گئی ہے مگر انہوں نے قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ سے قصاص لینے میں تامل فرمایا ہے‘ پھر سنا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا کو ہمراہ لے کر طلحہ رضی اللہ عنہ و زبیر بصرہ کی جانب روانہ ہوئے ہیں‘ اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے بیعت سے انکار کر کے خون عثمان رضی اللہ عنہ کا مطالبہ کیا ہے‘ پھر سنا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی بصرہ کی جانب روانہ ہو گئے‘ اس کے بعد سنا کہ جنگ جمل میں سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ دونوں شہید ہو گئے‘ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ بصرہ پر قابض و متصرف ہو کر اور وہاں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو عامل مقرر کر کے کوفہ میں تشریف لے آئے‘ اور ملک شام پر حملہ کی تیاری فرما رہے ہیں‘ نیز امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بھی مقابلہ پر آمادہ و مستعد ہو رہے ہیں۔
یہ سن کر سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں بیٹوں سے مشورہ لیا اور کہا کہ اب موقع آ گیا ہے کہ میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس چلا جائوں اور وہاں اس مسئلہ خلافت میں دخیل ہو کر اس کوطے کرا دوں‘ جنگ جمل سے پہلے مدعیان خلافت چار شخص تھے‘ اول سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہ وہ خلیفہ منتخب ہو ہی گئے تھے‘ اور لوگوں نے ان کے ہاتھ پر بیعت کر لی تھی‘ دوم سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کہ بصرہ والے ان کے حامی و مددگار تھے اور سوم سیدنا زبیر اور کوفہ میں ان سے عقیدت رکھنے اور ان کو مستحق خلافت سمجھنے والوں کی تعداد زیادہ تھی‘ چہارم سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور یہ ملک شام کے گورنر تھے‘ اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانہ سے ذمہ دارانہ عہدوں پر فائز اور عرصہ دراز سے شام کی حکومت پر مامور تھے‘ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے رشتہ دار اور وارث ہونے کی وجہ سے ان کے خون کا دعویٰ کرتے اور قصاص چاہتے تھے۔
اب سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ و زبیر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد صرف دو ہی شخص باقی رہ گئے تھے‘ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ صرف ان باغیوں کے بنائے ہوئے خلیفہ ہیں جنہوں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تھا‘ اکثر جلیل القدر صحابہ رضی اللہ عنہ نے جو مدینہ میں موجود تھے سیدنا علی کی بیعت سے انکار کیا‘ باقی جلیل القدر صحابہ کی ایک بڑی تعداد مدینہ سے باہر تھی‘ حالانکہ اس سے پہلے بیعت خلافت میں ان کی شرکت ضروری سمجھی جاتی رہی ہے‘ اس انتخاب میں ان سے مشورہ نہیں لیا گیا‘ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے لشکر میں پناہ دے رکھی ہے۔
اسی طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ خدمات اسلام میں‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے قرب میں‘ رشتے میں‘ سابق الاسلام ہونے میں ہرگز ہرگز میرا مقابلہ نہیں کر سکتے
غرض دونوں ایک دوسرے کے مقابل دعاوی رکھتے تھے‘ سیدنا عمروبن العاص رضی اللہ عنہ نے اب اپنے آپ کو بے تعلق رکھنا مناسب نہ سمجھا‘عبداللہ بن عمرو نے باپ کو مشورہ دیا کہ رسول اللہ‘ صلی اللہ علیہ و سلم ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ‘ عمر فاروق رضی اللہ عنہ ‘ عثمان غنی رضی اللہ عنہ سب آخر وقت تک آپ سے خوش رہے‘ لہذا اب مناسب یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ بالکل خاموش اور گوشہ نشین رہیں یہاں تک کہ لوگوں کا کسی ایک شخص پر اتفاق و اجماع ہو جائے‘ دوسرے بیٹے محمد بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ عرب کے عمائدین و با اثر اور صاحب الرائے لوگوں میں سے ہیں‘ جب تک آپ دخل نہ دیں گے معاملہ کیسے طے ہو سکتا ہے۔
عمروبن العاص رضی اللہ عنہ نے دونوں بیٹوں کی تقریریں سن کر کہا کہ عبداللہ کے مشورہ میں دین کی بھلائی اور محمد کے مشورہ میں دنیا کی بہتری ہے‘ اس کے بعد کچھ سوچ سمجھ کر سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیت المقدس سے روانہ ہو کر دمشق میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے‘ انہوں نے ان کے تشریف لانے کو بہت ہی غنیمت سمجھا‘ انہوں نے جاتے ہی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ مظلوم خلیفہ کا بدلہ لینا ضروری ہے اور آپ اس مطالبہ میں حق پر ہیں‘ ابتداً امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ان سے احتیاط کے ساتھ ملتے رہے‘ لیکن پھر ان پر پورے طور پر اعتماد کر کے ان کو اپنی حکومت کارکن رکین اور مشیرو وزیر بنا لیا۔
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو مشورہ دیا کہ عثمان رضی اللہ عنہ کا خون آلود قمیص‘ اور سیدنا نائلہ کی انگلیاں روزانہ لوگوں کے سامنے لانے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس طرح ان کا جوش بتدریج کم ہونے لگے گا‘ مناسب یہ ہے کہ ان چیزوں کی نمائش کبھی کبھی خاص خاص موقعوں پر کی جائے‘ اس رائے کو سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے پسند فرمایا اور وہ گریہ و زاری جو روزانہ قمیص کو دیکھ دیکھ کر لوگ کیا کرتے تھے موقوف ہوئی۔
عمروبن العاص رضی اللہ عنہ نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ بھی سمجھایا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ درحقیقت واقعہ جمل کے بعد اپنی فوجی طاقت کو بہت کچھ کمزور بنا چکے ہیں‘ کیونکہ جنگ جمل میں اہل بصرہ کے آٹھ نو ہزار آدمی مارے گئے‘ جن میں بڑے بڑے نامی سردار تھے‘ اب جو اہل بصرہ ان کے ہاتھ پر بیعت کر چکے ہیں‘ وہ اہل کوفہ کے ساتھ مل کر لڑائی میں پوری جانفشانی نہیں دکھائیں گے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی فوج میں سارے کے سارے سپاہی یک دل اور آپس میں پورے طور پر متفق نہیں ہیں‘ یہ اندازہ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کا غلط نہ تھا اور اس حقیقت سے سبائی فرقہ بھی نا آشنا نہ تھا۔