سیدنا علی رضی اللہ عنہ

عماربن یاسر رضی اللہ عنہ اور حسن رضی اللہ عنہ بن علی رضی اللہ عنہ کوفہ میں

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اشترو ابن عباس رضی اللہ عنہ کے واپس آنے پر اپنے بیٹے حسن رضی اللہ عنہ اور عمار بن یاسر کو کوفہ کی طرف روانہ کیا‘ جب یہ دونوں کوفہ میں پہنچے‘ تو ان کے آنے کی خبر سن کر ابوموسیٰ مسجد میں آئے‘ حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے معانقہ کیا‘ اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے مخاطب ہو کر کہا کہ تم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی کوئی امداد نہیں کی اور فاجروں کے ساتھ شامل ہو گئے۔ عمار رضی اللہ عنہ نے کہا نہیں میں نے ایسا نہیں کیا اتنے میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ بول پڑے‘ کہ لوگوں نے ہم سے اس معاملہ میں کوئی مشورہ نہیں کیا اور اصلاح کے سوا ہمارا کوئی دوسرا مقصود نہیں ہے اور امیر المومنین اصلاح امت کے کاموں میں کسی دوسرے سے ڈرتے نہیں ہیں۔ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے نہایت ادب کے ساتھ جواب دیا کہ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں‘ آپ نے سچ فرمایا‘ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے‘ کہ عنقریب فتنہ برپا ہونے والا ہے‘ اس میں بیٹھا ہوا شخص کھڑا ہونے والے سے‘ کھڑا ہوا پیادہ چلنے والے سے‘ پیادہ چلنے والا سوار سے بہتر ہوگا۱؎ اور کل مسلمان آپس میں ایک دوسرے کے بھائی ہیں‘ ان کا خون و مال حرام ہے۔ ۲؎ عمار رضی اللہ عنہ بن یاسر رضی اللہ عنہ کو ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی باتوں سے کچھ ایسی برافروختگی ہوئی کہ وہ ابو موسی رضی اللہ عنہ کو گالی دے بیٹھے‘ ابو موسیٰ گالی سن کر خاموش ہو گئے‘ مگر حاضرین میں سے کسی نے ترکی بترکی جواب دیا بات بڑھی اور لوگ عمار رضی اللہ عنہ پر ٹوٹ پڑے‘ مگر ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے عمار رضی اللہ عنہ کو بچا لیا۔ انہیں ایام میں سیدنا ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا نے بصرہ سے اہل کوفہ کے نام خطوط روانہ کئے‘ جن میں لکھا تھا کہ اس زمانہ میں تم لوگ کسی کی مدد نہ کرو‘ اپنے اپنے گھروں میں بیٹھ رہو یا ہماری مدد کرو کہ ہم عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کا بدلہ لینے نکلے ہیں‘ اسی جلسہ میں زید بن صوحان نے ام المومنین رضی اللہ عنھا کا خط مسجد میں لوگوں کوپڑھ کر سنانا شروع کیا‘ شبث بن ربعی گالی دے بیٹھا‘ اس سے حاضرین میں ایک جوش پیدا ہو گیا اور علانیہ سیدنا ام المومنین رضی اللہ عنہ کی طرف داری کا اظہار کرنے لگے‘ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ اس جوش و خروش کو کم کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ فتنہ کے فرو ہونے تک گھروں میںبیٹھ رہو‘ میری اطاعت کرو‘ عرب کے ٹیلوں میں سے ایک ٹیلہ بن جائو‘ تاکہ مظلوم تمہارے سایہ میں آ کر پناہ گزیں ہوں‘ تم لوگ اپنے نیزوں کی نوکیں نیچی کر لو‘ اور اپنی تلواروں کو نیام میں کر لو۔ ان باتوں کو سن کر زید بن صوحان نے کھڑے ہو کر لوگوں کو سیدنا امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ کی مدد کرنے کی ترغیب دی‘ اس کے بعد اور کئی شخص یکے بعد دیگرے تائید کرنے کو کھڑے ہو گئے‘ اس کے بعد عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بولے کہ لوگو! سیدنا علی رضی اللہ عنہ تم کو حق دیکھنے کے لیے بلایا ہے چلو اور ان کے ساتھ ہو کر لڑو‘پھر سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ لوگو! ہماری دعوت قبول کرو اور ہماری اطاعت کرو‘ اور جس مصیبت میں تم اور ہم سب مبتلا ہو گئے ہیں اس میں ہماری مدد کرو‘ امیرالمومنین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اگر ہم مظلوم ہیں تو ہماری مدد کرو اور اگر ہم ظالم ہیں تو ہم سے حق لو‘ وہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ طلحہ رضی اللہ عنہ اور زبیر رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے میرے ہاتھ پر بیعت کی اور سب سے پہلے بدعہدی کی‘ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی تقریر سن کر لوگوں کے دلوں پر ایک فوری اثر ہوا اور سب نے اپنی آمادگی ظاہرکر دی۔ عماربن یاسر رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو روانہ کرنے کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مالک اشتر کو بھی روانہ کر دیا تھا‘ اشتر کوفہ میں اس وقت پہنچا‘ جب کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہ تقریر کر رہے تھے‘ اشتر کے آ جانے سے اور بھی تقویت ہوئی اور ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی بات پھر کسی نے نہ سنی‘ حالانکہ وہ آخر تک اپنی اسی رائے کا اظہار کرتے رہے کہ گوشہ نشینی اور غیر جانب داری اختیار کرو‘ مالک اشتر نے پہنچ کر قبائل کو آمادہ کرنے میں خوب کار نمایاں کیا‘ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ تم کل تک دارالامارۃ کو خالی کردو۔ غرض یہ کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہ ‘ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ‘ اشتر کوفہ سے نوہزار کی جمعیت لے کر روانہ ہوئے‘ جس وقت اہل کوفہ کا یہ لشکر مقام ذی قار کے متصل پہنچا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کا استقبال کیا اور ان لوگوں کی ستائش کی‘ پھر فرمایا کہ اے اہل کوفہ ہم نے تم کو اس لیے تکلیف دی ہے کہ تم ہمارے ساتھ مل کر اہل بصرہ کا مقابلہ کرو‘ اگر وہ لوگ اپنی رائے سے رجوع کر لیں تو سبحان اللہ اس سے بہتر اور کوئی بات نہیں‘ اور اگر انہوں نے اپنی رائے پر اصرار کیا تو ہم نرمی سے پیش آئیں گے‘ تاکہ ہماری طرف سے ظلم کی ابتدا نہ ہو لیکن ہم کسی کام کو بھی جس میں ذرا سا بھی فساد ہو گا‘ بغیر اصلاح نہ چھوڑیں گے‘ یہ باتیں سننے کے بعد اہل کوفہ بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ مقام ذی قار میں قیام پذیر ہو گئے۔ دوسرے دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ کو بصرہ کی طرف روانہ کیا‘ اسی مقام ذی قار میں سیدنا اویس قرنی رضی اللہ عنہ مشہور تابعی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی