سیدنا علی رضی اللہ عنہ
شام کے ملک پر حملہ کی تیاری
مدینہ والوں کو جب امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے قاصدوں کے آنے جانے اور تعلقات کے منقطع ہونے کا حال معلوم ہوا‘ تو اب ان کو فکر ہوئی‘ کہ دیکھئے آپس میں کہیں اور عظیم الشان کشت و خون نہ ہو‘ چنانچہ اہل مدینہ نے زیاد بن حنظلہ تمیمی کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی مجلس میں بھیجا کہ ان کا عندیہ جنگ کے متعلق معلوم کر کے ہم کو مطلع کرے‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے زیاد سے مخاطب ہو کر کہا کہ تیار ہو جائو‘ اس نے کہا کہ کس کام کے لیے‘ آپ نے فرمایا ملک شام پر حملہ آور ہونے کے لیے‘ زیاد نے عرض کیا کہ نرمی اور مہربانی سے کام لینا تھا‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نہیں‘ باغیوں کی سزا دہی ناگزیر ہے۔
اہل مدینہ کو جب یہ معلوم ہوا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ضرور ملک شام پر چڑھائی کرنے والے ہیں تو سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اور زبیر رضی اللہ عنہ دونوں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہم عمرہ کرنے مکہ معظمہ کو جاتے ہیں ہم کو مدینہ سے جانے کی اجازت دی جائے‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان دونوں حضرات کا مدینہ میں زیادہ روکنا اورنظر بند رکھنا مناسب نہ سمجھ کر اجازت دے دی اور مدینہ میں اعلان کرا دیا کہ ملک شام پر فوج کشی کرنے کے لیے لوگ تیار ہو جائیں اور اپنا اپنا سامان درست کر لیں‘ پھر ایک خط عثمان بن حنیف کے پاس بصرہ کی جانب‘ ایک ابوموسیٰ کے پاس کوفہ کی جانب‘ اور قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کے پاس مصر کی جانب روانہ کیا کہ جہاں تک ممکن ہو‘ اپنی طاقت اور اثر کو کام میں لا کر لشکر فراہم کرو‘ اور جس وقت ہم طلب کریں فوراً ہمارے پاس بھیج دو۔