سیدنا علی رضی اللہ عنہ
سبائیوں کی گمراہی
بلوائیوں اور سبائیوں نے اس قاصد کو گالیاں دے کر مارنا چاہا لیکن اہل مدینہ کے بعض اشخاص نے اس کو آزار پہنچنے سے بچایا اور وہ مدینہ سے روانہ ہو کر دمشق پہنچا‘ جریر بن عبداللہ کی نسبت بھی بلوائیوں کے سرداروں نے معاویہ رضی اللہ عنہ سے ساز باز کرنے کا الزام لگایا‘ کیونکہ وہ دیر تک شام میں رہے تھے‘ اور فوراً واپس نہ آ سکے تھے‘ جریر اس الزام کو سن کر کبیدہ خاطر ہوئے‘ اور مدینہ سے قرقیسیا کی طرف چلے گئے‘ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو جب یہ خبر لگی تو انہوں نے قرقیسیا میں اپنے قاصد بھیج کر باصرار جریر رضی اللہ عنہ کو اپنے پاس بلوایا۔