سیدنا علی رضی اللہ عنہ
خلافت کا دوسرا دن
سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ دونوں اگلے دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے‘ اور کہا کہ ہم نے تو بیعت اسی شرط پر کی ہے کہ آپ قاتلین عثمان سے قصاص لیں اگر آپ نے قصاص لینے میں تامل کیا تو ہماری بیعت فسخ ہو جائے گی‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ سے ضرور قصاص لوں گا اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے معاملہ میں پورا پورا انصاف کروں گا لیکن ابھی تک بلوائیوں کا زور ہے اور ادھر امر خلافت پورے طور پر مستحکم نہیں ہوا‘ میں اطمینان و سہولت حاصل ہونے پر اس طرف توجہ کروں گا‘ فی الحال اس معاملہ میں کچھ نہیں کیا جا سکتا‘ یہ دونوں صاحب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی گفتگو سن کر اور اٹھ کر اپنے اپنے گھروں کو چلے آئے‘ لیکن لوگوں میں اس کے متعلق سرگوشیاں اور چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں۔
قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ اور بلوائیوں کو تو یہ فکر ہوئی‘ کہ اگر قصاص لیا گیا تو پھر ہماری خیر نہیں ہے اور ان لوگوں کو جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو مظلوم سمجھتے اور بلوائیوں سے سخت نفرت رکھتے تھے ان کو اس بات کا یقین ہوا کہ یہ لوگ جنہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو ظالمانہ طور پر شہید کیا ہے‘ اپنے کیفر کردار کو نہ پہنچیں گے اور مزے سے فاتحانہ گل چھڑے اڑاتے ہوئے پھریں گے‘ اس قسم کے خیالات کا لوگوں کے دلوں میں پیدا ہو جانا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے لیے مضر تھا‘ مگر ان کے پاس اس کے لیے کوئی چارہ کار بھی نہ تھا اور وہ حالات موجودہ میں جب کہ پہلے ہی نظام حکومت درہم برہم ہو کر دارالخلافہ کی ہوا بگڑ چکی تھی کچھ کر بھی نہ سکتے تھے۔