سیدنا علی رضی اللہ عنہ

بیعت خلافت

ان کے علاوہ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ ‘ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ ‘ حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ ‘ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ ‘ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ ‘ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ ‘ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ‘ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ ‘ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ وغیرہ جلیل القدر حضرات نے بھی بیعت نہیں کی‘ بہت سے اشخاص بالخصوص بنی امیہ بیعت میں شامل نہ ہونے کے لیے مدینہ سے شام کی طرف فوراً روانہ ہو گئے ‘ بعض حضرات اسی غرض سے مکہ کی طرف چل دئیے‘ جو صحابی مدینہ منورہ میں موجود تھے اور پھر بھی انہوں نے بیعت نہیں کی ان کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے طلب کر کے وجہ دریافت کی تو انہوں نے صاف جواب دیا کہ ابھی مسلمانوں میں خوں ریزی کے اسباب موجود ہیں اور فتنہ کا کلی انسداد نہیں ہوا‘ اس لیے ابھی ہم رکے ہوئے ہیں اور بالکل غیر جانب دار رہنا چاہتے ہیں۔ اس کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مروان بن الحکم کو طلب کیا‘ مگر اس کا کہیں پتہ نہ چلا‘ سیدنا نائلہ زوجہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے قاتلوں کا نام دریافت کیا تو انہوں نے دو شخصوں کا صرف حلیہ بتایا اور نام نہ بتا سکیں‘ محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کی نسبت ان سے پوچھا کہ یہ بھی قاتلوں میں ہیں تو انہوں نے کہا کہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے قتل سے پہلے یہ دروازے سے باہر واپس جا چکے تھے‘ بنی امیہ کے بعض افراد زوجہ عثمان رضی اللہ عنہ سیدنا نائلہ رضی اللہ عنہ کی کٹی ہوئی انگلیاں اور خون آلود کرتا لے کر ملک شام کی طرف سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔