سیدنا علی رضی اللہ عنہ

آپ کی خصوصیات

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سب سے پہلے اسلام لانے والوں میں سے تھے‘ آپ ان لوگوں میں سے ہیں‘ جنہوں نے قرآن مجید کو جمع کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں پیش کیا تھا‘ آپ بنی ہاشم میں سب سے پہلے خلیفہ تھے‘ آپ نے ابتدائی عمر سے کبھی بتوں کی پرستش نہیں کی‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جب مکہ سے مدینہ کو ہجرت کی تو آپ کو مکہ میں اس لیے چھوڑ گئے کہ تمام امانتیں لوگوں کو پہنچا دیں‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے اس حکم کی تعمیل کرنے کے بعد آپ بھی ہجرت کر کے مدینہ میں پہنچ گئے‘ سوائے ایک جنگ بتوک کے اور تمام لڑائیوں میں آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ شریک ہوئے‘ جنگ تبوک جاتے وقت آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا عامل یعنی قائم مقام بنا گئے تھے‘ جنگ احد میں سیدنا علی کے جسم مبارک پر سولہ زخم آئے تھے‘ جنگ خیبر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جھنڈا آپ کے ہاتھ میں دیا تھا اور پہلے سے فرما دیا تھا کہ خیبر آپ کے ہاتھ پر فتح ہو گا۔۱؎ آپ کو اپنا نام ابوتراب بہت پسند تھا جب کوئی شخص اس نام سے آپ کو پکارتا تھا تو آپ بہت خوش ہوتے تھے‘ اس نام کی وجہ تسمیہ یہ ہے‘ کہ ایک روز آپ گھر سے نکل کر مسجد میں آئے اور وہیں پڑ کر سو گئے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم مسجد میں تشریف لائے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اٹھایا تو ان کے جسم سے مٹی پونچھتے جاتے تھے‘ اور فرماتے جاتے تھے کہ ابوتراب اٹھو۔۱؎