سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ
مدینہ منورہ میں بلوائیوں کی حکومت
مصر‘ کوفہ اور بصرہ کے باغیوں نے جب سے مدینہ منورہ میں داخل ہو کر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو گھر سے نکلنے اور مسجد میں آنے سے روک دیا تھا‘ اسی روز سے مدینہ منورہ میں ان کی حکومت تھی‘ لیکن چونکہ خلیفہ وقت (گو حالت محاصرہ ہی میں کیوں نہ ہو) موجود تھا‘ لہذا بلوائیوں کی ظالمانہ حکومت کو حکومت کے نام سے تعبیر نہیں کی جا سکتا‘ لیکن سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے شہید ہونے کے بعد مدینہ میں قریباً ایک ہفتہ غافقی بن حرب عکی بلوائیوں کے سردار کی حکومت رہی‘ وہی ہر ایک حکم جاری کرتا‘ اور وہی نمازوں کی امامت کراتا تھا۔
ان بلوائیوں میں بعض لوگ مآل اندیش اور سمجھدار بھی تھے‘ انہوں نے اپنے دل میں سوچا کہ اگر ہم لوگ اسی طرح قتل عثمان رضی اللہ عنہ کے بعد یہاں سے منتشر ہو گئے‘ تو ہمارے لیے بھی کوئی نیک نتیجہ نہیں پیدا ہو سکتا‘ ہم جہاں ہوں گے قتل کئے جائیں گے‘ اور یہ شورش محض فسادات اور بغاوت سمجھی جائے ‘گی‘ پھر اس طرح کبھی ہم جائز احتجاج کا جامہ نہیں پہنا سکیں گے‘ لہذا انہوں نے آپس میں مشورہ کر کے سب کو اس بات پر آمادہ کیا کہ اب کسی کو جلد خلیفہ منتخب کرائو‘ اور بغیر خلیفہ منتخب کرائے ہوئے یہاں سے واپس ہونے اور جانے کا نام نہ لو۔
انہیں ایام شورش کے دوران میں یہ اطمینان کر لینے کے بعد کوفہ و بصرہ سے بھی اس تجویز و قرار داد کے موافق لوگ روانہ ہو کر مدینہ پہنچ گئے‘ عبداللہ بن سبا بھی مصر سے روانہ ہوا اور نہایت غیرمشہور اور غیر معلوم طریقے پر مدینہ میں داخل ہو کر اپنے ایجنٹوں اور دوستوں میں شامل ہو گیا‘ چونکہ بلوائیوں کے اس تمام لشکر میں سب کے سب ہی ایسے اشخاص نہ تھے جو عبداللہ بن سبا کے راز دار ہوں بلکہ بہت سے بے وقوف و واقعہ پسند اور دوسرے ارادوں کے لوگ تھے‘ لہذا عبداللہ بن سبا نے یہاں آ کر خود کوئی سرداری یا نمبرداری کی شان مصلحتاً حاصل نہیں کی بلکہ اپنے دوسرے ایجنٹوں ہی کے ذریعہ تمام مجمع کو متحرک کر کے اپنے حسب منشاء کام لیتا رہا۔
یہ انتخاب خلیفہ کی تجویز بھی عبداللہ بن سبا ہی کی تھی‘ چنانچہ یہ لوگ جمع ہو کر سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس الگ الگ گئے‘ اور ان بزرگوں میں سے ہر ایک سے درخواست کی کہ آپ خلافت قبول فرما لیں اور ہم سے بیعت لے لیں‘ ہر ایک بزرگ نے خلافت کے قبول کرنے سے انکار کیا اور یہ مجبور و نامراد ہو کر رہ گئے۔
آخر عبداللہ بن سبا نے ایک تدبیر سمجھائی اور مدینہ منورہ میں ان باغیوں اور بلوائیوں نے ایک ڈھنڈورا پٹوا دیا کہ اہل مدینہ ہی ارباب حل و عقد ہیں‘ اور اہل مدینہ ہی میں ابتدا سے خلیفہ کا انتخاب کرتے آئے ہیں‘ اور اہل مدینہ ہی میں کے مشورے اور انتخاب سے منتخب کئے ہوئے خلیفہ کو مسلمانوں نے ہمیشہ خلیفہ تسلیم کیا ہے‘ لہذا ہم اعلان کرتے ہیں اور اہل مدینہ کو آگاہ کئے دیتے ہیں کہ تم کو صرف دو دن کی مہلت دی جاتی ہے اس دو دن کے عرصہ میں کوئی خلیفہ منتخب کر لو ورنہ دو دن کے بعد ہم علی رضی اللہ عنہ ‘ طلحہ رضی اللہ عنہ ‘ زبیر رضی اللہ عنہ تینوں کو قتل کر دیں گے۔
اس اعلان کو سن کر مدینہ والوں کے ہوش و حواس جاتے رہے وہ بے تابانہ اپنے اپنے گھروں سے نکل سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے‘ اسی طرح باقی دونوں حضرات کے پاس بھی مدینہ والوں کے وفود پہونچے‘ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ و زبیر رضی اللہ عنہ نے تو صاف انکار کر دیا اور کہا کہ ہم خلافت کا بار اپنے کندہوں پر لینا نہیں چاہتے‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بھی اول انکار ہی کیا تھا‘ لیکن جب لوگوں نے زیادہ اصرار و منت و سماجت کی تو وہ رضا مند ہو گئے‘ ان کے رضا مند ہوتے ہی لوگ جوق در جوق ٹوٹ پڑے‘ اہل مدینہ نے بھی اور بلوائیوں کی جمعیت نے بھی ان کے ہاتھ پر بیعت کی۔