سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ
اشاعت قرآن مجید
سیدنا حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ جب بصرہ‘ کوفہ‘ رے ‘ شام وغیرہ ہوتے ہوئے مدینہ منورہ میں واپس تشریف لائے تو انہوں نے کہا کہ یہ عجیب بات ہے کہ عراق والے قرآن مجید کو ایک اور قرات پر پڑھتے اور شام والے کسی دوسری قرات کو پسند کرتے ہیں‘ بصرہ والوں کی قرات کوفہ والوں سے اور کوفہ والوں کی قرات فارس والوں سے الگ ہے‘ مناسب یہ معلوم ہوتا ہے کہ سب کو ایک ہی قرات پر جمع کیا جائے‘ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام کو جمع کر کے مجلس مشاورت منعقد کی‘ سب نے حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کی رائے کو پسند کیا‘ اس کے بعد سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے سیدنا حفصہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے قرآن مجید کا وہ نسخہ منگوایا جو خلافت صدیقی میں سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اور دوسرے صحابہ کے زیر اہتمام جمع اور مرتب ہوا تھا‘ اور اول سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے پاس‘ پھر ان کے بعد فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے زیر تلاوت رہا‘ اور فاروق اعظم کی شہادت کے بعد سیدنا حفصہ کے پاس تھا‘ اس قرآن مجید کی نقل اور کتابت پر عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے کئی معقول و موزوں حضرات کو مامور کیا‘ جب بہت سی نقلیں تیار ہو گئیں تو ایک ایک نسخہ بڑے بڑے شہروں میں بھیج کر ساتھ ہی حکم بھیجا کہ سب اسی کے موافق قرآن مجید نقل کرائیں‘ اور پہلی جو نقل جس کسی کے پاس ہو وہ جلا دی جائے‘ کوفہ میں جب قرآن مجید پہنچا تو صحابہ کرام بہت خوش ہوئے‘ لیکن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنی ہی قرات پر اصرار کیا۔