سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ
خاتم نبوی
رسول اللہ کی انگشتری جس سے خطوط اور فرامین پر مہر کیا کرتے تھے وفات نبوی کے بعد سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کے پاس تھی‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے وہ انگوٹھی جبکہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ خلیفہ منتخب ہو گئے تو ان کو سپرد کر دی‘ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بعد وہ انگوٹھی فاروق اعظم کے پاس رہی‘ فاروق اعظم نے جب کہ انتخاب خلیفہ کا کام اصحاب شوریٰ کے سپرد کیا وہ انگوٹھی ام المومنین سیدنا حفصہ رضی اللہ عنہ کو سپرد کر دی کہ جو شخص خلیفہ منتخب ہو اس کو پہنچا دی جائے‘ جب سیدنا عثمان غنی خلیفہ منتخب ہوئے تو سیدنا حفصہ رضی اللہ عنہ نے وہ انگشتری ان کی خدمت میں پہنچا دی‘ اسی سال یعنی ۳۰ ھ میں مدینہ سے دو میل کے فاصلہ پر قباء میں ایک کنویں کے اندر جس کا نام بیراریس ہے وہ انگشتری سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے گر گئی‘ اس کنویں کا تمام پانی سینچ دیا گیا اور انگوٹھی کے لیے بڑی ہی تلاش و کوشش کی گئی لیکن وہ کہیں ہاتھ نہ آئی‘ خاتم نبوی کے اس طرح غائب ہو جانے سے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو سخت ملال ہوا‘ اسی وقت سے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ پر حادثات و فتن کا نزول شروع ہوا‘ سیدنا عثمان غنی نے اس انگوٹھی کے گم ہو جانے پر ایک اور انگوٹھی بالکل اسی نمونے اور اسی شکل و شمائل کی بنوائی تھی۔
اسی سال جب مسجد نبوی میں نمازیوں کی کثرت ہوئی اور جمعہ کے دن ایسی کثرت ہونے لگی کہ اذان کی آواز سب نمازیوں تک پہنچنی دشوار ہوئی تو سیدنا عثمان غنی نے حکم دیا کہ موذن بلند مقام پر چڑھ کر خطبہ کی اذان سے پہلے ایک اور اذان دیا کریں۔۱؎ اس طرح جمعہ کے دن دو اذانیں ہونے لگیں‘ اسی سال سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی عراق و شام کی جائیدادیں فروخت کر کے مدینہ‘ مکہ‘ طائف وغیرہ میں جائیداد دیں خرید لیں‘ چناں چہ اکثر صحابہ رضی اللہ عنھم نے اس پر عمل بھی کیا۔