سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ

انتخاب

سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے انتخاب خلیفہ کے لیے تین دن کی مہلت مقرر فرما کر سیدنا مقداد کو حکم دے دیا تھا کہ نامزد شدہ چھ اشخاص کی مجلس میں جب تک کہ وہ اپنے آپ میں سے کسی کو خلیفہ منتخب نہ کر لیں‘ کسی دوسرے کو نہ جانے دینا‘ صرف عبداللہ بن عمر کو رائے دینے کے لیے شریک ہونے کی اجازت تھی تاکہ اس طرح رائے دہندوں کی تعداد طاق یعنی سات ہو جائے‘ لیکن عبداللہ بن عمر کے لیے پہلے سے آپ نے یہ حکم صادر فرما دیا تھا کہ ان کو ہرگز خلیفہ منتخب نہ کیا جائے‘ اس وقت کسی نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے لیے کہا تو آپ نے فرمایا تھا کہ بار خلافت کی ذمہ داری میرے لیے ہی کیا کم ہے کہ میں اپنے خاندان میں دوسروں پر بھی یہ محنت ڈالوں‘ اور ان کو بہت سی آسائشوں سے محروم کر دوں‘ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے جب کسی شخص نے خلیفہ کے متعین و نامزد فرما دینے کے لیے کہا تو آپ نے جواب دیا کہ میں صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی سنت پر عمل کر کے کسی کو اپنے بعد نامزد کروں تو یہ میرے لیے جائز ہے‘ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت پر عمل کر کے کسی کو اپنے بعد نامزد نہ کروں تو یہ بھی میرے لیے جائز ہے‘ میں اگر اپنے بعد کسی کو خلیفہ مقرر کرتا تو وہ ابوعبیدہ ابن الجراح تھے جو مجھ سے پہلے فوت ہو گئے‘ یا پھر میں ابو حذیفہ کے غلام سالم کو خلیفہ بناتا وہ بھی مجھ سے پہلے فوت ہو گئے‘ یہ فرما کر پھر آپ نے ان چھ شخصوں کے نام لیے جو اوپر درج ہو چکے ہیں۔ سیدنا مقدادالاسود اور سیدنا ابوطلحہ انصاری نے وصیت فاروقی کے موافق فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی تجہیز و تکفین سے فارغ ہو کر سیدنا صہیب کو تو عارضی طورپر تین دن کے لیے تا انتخاب خلیفہ مدینہ کا حکمراں اور امام مقرر کیا اور خود اپنے آدمیوں کی جمعیت لے کر سیدنا علی ‘ سیدنا عثمان‘ سیدنا زبیر ‘ سیدنا سعد عبدالرحمن‘ اور سیدنا عبداللہ بن عمر کو مسور بن مخرمہ اور بقول دیگر سیدنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کے مکان میں جمع کر کے دروازے پر حفاظت کی غرض سے بیٹھ گئے‘ سیدنا طلحہ مدینہ میں موجود نہ تھے‘ کوئی اور اس مکان میں داخل نہیں ہو سکتا تھا‘ سیدنا عمرو بن العاص اور سیدنا مغیرہ بن شعبہ دروازے پر آکر بیٹھ گئے تھے‘ سیدنا سعد بن ابی وقاص کو معلوم ہوا تو انہوں نے ان دونوں کو دروازے پر بھی نہ بیٹھنے دیا‘ اور وہاں سے اٹھوا دیا تاکہ وہ کہیں یہ نہ کہہ سکیں کہ ہم بھی اصحاب شوریٰ میں شامل تھے۔ جب سب صاحب اطمینان سے آ کر بیٹھ چکے تو سب سے اول سیدنا عبدالرحمن بن عوف نے کھڑے ہو کر کہا کہ جو لوگ خلافت کے لیے نامزد کئے گئے ہیں ان میں سے کون ایسا ہے جو اپنے آپ کو خلافت سے دست بردار قرار دیتا ہے‘ اسی کو یہ اختیار دیا جائے گا کہ وہ جس کو تم میں سب سے افضل و لائق سمجھے اس کو خلیفہ مقرر کر دے‘ اس بات کو سن کر اس مختصر مجمع میں سے کسی نے کوئی جواب نہ دیا‘ سب خاموش رہے‘ تھوڑی دیر انتظار کرنے کے بعد سیدنا عبدالرحمن بن عوف نے پھر اعلان کیا کہ میں اپنے آپ کو خلافت سے دست بردار قرار دیتا ہوں اور انتخاب خلیفہ کے کام کو انجام دینے پر تیار ہوں‘ یہ سن کر سب نے تائید کی اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف کو اختیار دیا کہ آپ جس کو چاہیں ہم میں سے خلیفہ منتخب فرما دیں مگر سیدنا علی بن ابی طالب بالکل خاموش رہے‘ انہوں نے ہاں یا ناں کچھ نہیں کہا‘ تب سیدنا عبدالرحمن بن عوف نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف مخاطب ہو کر کہا آپ نے کچھ نہیں فرمایا‘ آپ بھی اپنی رائے کا اظہار کیجئے‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا میں بھی اس رائے سے متفق ہوں‘ لیکن شرط یہ ہے کہ تم پہلے یہ اقرار کر لو کہ جو فیصلہ کرو گے بلا رو رعایت‘ اور نفسانیت کو دخل دئیے بغیر محض حق پرستی اور امت کی خیر خواہی کے لیے کرو گے‘ سیدنا عبدالرحمن بن عوف نے کہا کہ میں تم سے عہد کرتا ہوں کہ بلا رو رعایت بلا نفسانیت اور محض امت کی بہتری و بھلائی کے لیے حق پرستی کی بنا پر فیصلہ کروں گا‘ لیکن تم سب اس بات کا اقرار کرو کہ جس کو میں منتخب کروں گا اس پر رضا مند ہو جائو گے اور جو میری رائے اور میرے فیصلے کی مخالفت کرے گا تم سب اس کے مقابلہ میں میری مدد کرو گے‘ یہ سن کر سیدنا علی اور تمام مجمع نے اقرار کیا کہ ہم سب تمہارے فیصلہ کی تائید اور اس کے نفاذ میں تمہاری امداد کریں گے۔ یہ عہد و پیمان ہو جانے کے بعد مجمع منتشر ہوا اور لوگ اپنے اپنے گھروں کو چلے آئے کیونکہ ابھی تین دن کی مہلت باقی تھی‘ اس دن کے عرصہ میں سیدنا عبدالرحمن بن عوف برابر صاحب الرائے اور جلیل القدر صحابہ کرام سے ان کی رائیں دریافت کرتے رہے‘ خود بھی غور و خوض میں مصروف رہے‘ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف سے روایت ہے‘ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے الگ لے جا کر دریافت کیا کہ اگر میں آپ سے بیعت نہ کروں تو تو آپ مجھے کس کی بیعت کرنے کی رائے دیتے ہیں‘ انہوں نے کہا کہ آپ کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کرنی چاہیے‘ پھر میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی تنہائی میں یہی سوال کیا تو انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا نام لیا‘ پھر میں نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ سیدنا علی یا سیدنا عثمان دونوں میں سے کسی ایک کے ہاتھ پر بیعت کر لو‘ پھر میں نے سیدنا سعد سے تنہائی میں دریافت کیا تو انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا نام لیا‘ پھر میں نے اور صاحب الرائے حضرات سے دریافت کیا‘ تو کثرت رائے سیدنا عثمان ہی کی نسبت ظاہر ہوئی‘ سہ روزہ مہلت کی آخری شب کو پھر مذکورہ بالا حضرات کا مجمع اسی مذکورہ مکان میں ہوا‘ سیدنا عبدالرحمن بن عوف نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو الگ بلا کر کہا کہ عام طور پر علی و عثمان کی نسبت لوگوں کی زیادہ رائیں ظاہر ہوئی ہیں‘ ان دونوں حضرات نے بھی انہیں دونوں کی نسبت اپنی رائے ظاہر کی‘پھر سیدنا سعد بن ابی وقاص نے کہا کہ آپ ہم سے تو بیعت لے لیں اور ہم کو ان جھگڑوں سے آزاد کر دیں‘ سیدنا عبدالرحمن بن عوف نے فرمایا یہ کیسے ممکن ہے‘ میں تو ان لوگوں کے دائرہ سے آزاد ہو چکا ہوں جو خلافت کے لیے نامزد ہوئے تھے۔ پھر سیدنا عبدالرحمن نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو الگ لے جا کر کچھ باتیں کیں‘ انہیں مشوروں اور باتوں میں صبح ہوگئی‘ یہی صبح انتخاب خلیفہ کے اعلان ہونے کی صبح تھی‘ لوگ منتظر تھے‘ نماز فجر کے بعد تمام مسجد نبوی آدمیوں سے کھچا کھچ بھر گئی‘ تمام حضرات مسجد میں تشریف رکھتے تھے اور منتظر تھے کہ دیکھئے سیدنا عبدالرحمن بن عوف کیا فیصلہ سناتے ہیں۔ سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کے کچھ فرمانے سے پہلے بعض لوگوں نے اپنی اپنی رائے ظاہر بھی کرنی شروع کر دی‘ یہ لوگ اصحاب شوریٰ میں نہ تھے مثلاً سیدنا عمار نے کہا کہ میں سیدنا علی کو مستحق خلافت سمجھتا ہوں‘ ابن ابی سرح اور عبداللہ بن ابی ربیعہ نے کہا کہ ہم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو زیادہ مستحق و مناسب پاتے ہیں‘ اس قسم کی چہ می گوئیاں شروع ہوئیں تو سیدنا سعد بن ابی وقاص نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف سے کہا کہ تم اب دیر کیوں کر رہے ہو‘ اندیشہ ہے کہ مسلمانوں میں کوئی فتنہ نہ پیدا ہو جائے‘ تم جلد اپنی رائے کا اظہار کر کے اس مسئلہ کو ختم کر دو‘ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اٹھے اور تمام مجمع کو مخاطب کر کے کہا کہ جہاں تک میری طاقت میں تھا‘ میں نے ہر طبقہ اور ہرگروہ کی رائے معلوم کر لی ہے اور اس کام میں کسی غفلت و کم التفاتی کو مطلق راہ نہیں دی ‘ میرے فیصلے سے اب کسی کو انکار کا موقع حاصل نہیں ہے‘ کیونکہ بہ رضاورغبت تمام اصحاب شوریٰ اور نامزدگان خلافت نے میرے فیصلے کو ناطق تسلیم کر لیا ہے‘ اور میں اپنی تمام طاقت صحیح فیصلے تک پہنچنے کے لیے صرف کر چکا ہوں‘ یہ کہہ کر انہوں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو اپنے پاس بلایا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ اور رسولؐ کے احکام اور سنت شیخین پر چلنے کا اقرار کرو‘ انہوں نے اقرار کیا کہ میں اللہ تعالیٰ اور رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے حکم اور صدیق رضی اللہ عنہ و فاروق رضی اللہ عنہ کے نمونے پر چلنے کی کوشش کروں گا‘ اس کے بعد سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ غنی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ ان کے بعد سب لوگ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کرنے لگے‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اول اس نظارہ سے کچھ دل گرفتگی ہوئی اور مسجد سے اٹھ کر باہر جانے لگے‘ لیکن پھر کچھ خیال آیا تو فوراً بڑی عجلت و بے تابی کے ساتھ صفوں کو چیرتے ہوئے بڑھے اور سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی‘ سیدنا طلحہ اس روز یعنی یکم محرم کو مدینہ میں موجود نہ تھے اور اسی لیے وہ شریک مشورہ نہ ہو سکے تھے‘ سیدنا طلحہ اگلے روز یعنی ۲ محرم ۲۴ ھ کو مدینہ میں تشریف لائے اور یہ سن کر کہ تمام لوگوں نے بالاتفاق سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر لی ہے سیدنا عثمان کی خدمت میں بغرض بیعت حاضر ہوئے‘ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ غنی نے ان سے کہا کہ آپ کی غیر موجودگی میں میرا انتخاب ہو گیا ہے اور زیادہ دنوں آپ کا انتظار نہیں ہو سکتا تھا‘ اگر آپ مدعی خلافت ہوں تو میں آپ کے حق میں خلع خلافت کرنے کو تیار ہوں‘ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جب تمام لوگوں نے آپ کی خلافت پر بیعت کر لی ہے تو میں بھی آپ کی خلافت پر رضا مند ہوں‘ میں مسلمانوں میں کوئی فتنہ اور اختلاف ڈالنا نہیں چاہتا‘ یہ کہہ کر انہوں نے بھی سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ بیعت کے بعد سیدنا عثمان غنی منبر پر کھڑے ہوئے اور لوگوں کو مخاطب کر کے اعمال صالحہ کی رغبت دلائی‘ مال و دولت کی فراوانی سے جو غفلت پیدا ہوتی ہے اس سے ڈرایا اور رضائے الٰہی کو ہمیشہ مقدم رکھنے کی نصیحت کی‘ اس کے بعد صوبوں کے عاملوں اور حاکموں کے نام ایک حکم جاری کیا جس میں فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی وفات اور اپنے انتخاب کا تذکرہ تھا‘ نیز ان کو تاکید کی گئی تھی کہ جس طرح فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں دیانت اور امانت کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتے رہے ہو اسی طرح انجام دیتے رہو۔