سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ

متفرق حالات و خصوصیات

فاروق اعظم کی غذا نہایت سادہ ہوتی تھی‘ یہاں تک کہ بیرونی علاقوں اور صوبوں سے جو قاصد یا وفد آتے تھے وہ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے ساتھ بحیثیت مہمان کھانا کھاتے تھے تو ان کو اس لیے تکلیف ہوتی تھی کہ وہ ایسی سادہ غذا کے عادی نہ ہوتے تھے‘ لباس بھی آپ کا بہت سادہ اور بے تکلفانہ ہوتا تھا‘ کپڑوں میں اکثر پیوند لگے ہوئے ہوتے تھے‘ بعض اوقات کپڑے کی قمیص میں چمڑے کا پیوند بھی لگا لیتے تھے‘ ایک مرتبہ آپ دیر تک گھر میں رہے‘ جب باہر نکلے تو معلوم ہوا کہ بدن کے کپڑے جو میلے ہو گئے تھے ان کو دھو کر دھوپ میں ڈالا ہوا تھا‘ جب وہ سوکھ گئے تو پہن کر باہر آئے اور دوسرے کپڑے نہ تھے کہ ان کو پہن لیتے۔ ہجرت کے بعد ابتداء آپ مدینہ منورہ سے دو تین میل کے فاصلہ پر ایک گائوں میں رہتے تھے خلیفہ ہونے کے بعد آپ شہر مدینہ میں آ رہے تھے‘ مدینہ منورہ میں آپ کا مکان مسجد نبوی کے قریب باب السلام اور باب الرحمتہ کے درمیان تھا‘ مرتے وقت آپ مقروض تھے‘ آپ نے حکم دیا کہ میرا یہ مکان فروخت کر کے قرضہ ادا کیا جائے‘ چنانچہ اس مکان کو سیدنا معاویہ نے خریدا اور اس قیمت سے قرضہ ادا کیا گیا۔ ایک مرتبہ آپ نے خطبہ میں فرمایا کہ لوگو! ایک وقت ایسا تھا کہ میں لوگوں کو پانی بھر کر لا دیا کرتا تھا اور وہ اس کے عوض مجھ کو کھجوریں دیتے اور میں وہی کھا کر بسر کرتا تھا‘ بعد میں لوگوں نے کہا کہ اس تذکرے کی کیا ضرورت تھی؟ آپ نے فرمایا کہ میری طبیعت میں کچھ غرور پیدا ہو گیا تھا یہ اس کی دوا تھی۔ آپ نے بارہا مدینہ سے مکہ تک اور مکہ سے مدینہ تک سفر کیا‘ کبھی کوئی خیمہ یا چھولداری ساتھ نہ ہوتی تھی‘ کسی کیکر کے درخت پر چادر پھیلا دی اور اس کے نیچے آرام کی غرض سے ٹھہر گئے‘ لیٹنے یا سونے کی ضرورت پیش آتی تو زمین پر سنگریزوں اور پتھریوں کو ہموار کر کے اور پتھریوں کو ایک جگہ جمع کر کے تکیہ بنا کر اور کپڑا بچھا کر سو جاتے۔ آپ نے سیدنا ازواج مطہرات‘ اصحاب بدر‘ اصحاب بعیت الرضوان وغیرہ تمام جلیل القدر صحابیوں کی تنخواہیں بیت المال سے مقرر کر رکھی تھیں‘ جب سیدنا اسامہ کی تنخواہ اپنے بیٹے عبداللہ کی تنخواہ سے زیادہ مقرر کی تو سیدنا عبداللہ بن عمر نے اس پر عذر کیا‘ آپ نے اپنے بیٹے سے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اسامہ کو تجھ سے اور اسامہ کے باپ کو تیرے باپ سے زیادہ عزیز رکھتے تھے۔ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے مشیر و ندیم سب علماء ہوتے تھے خواہ وہ بوڑھے ہوں یا نو عمر‘ آپ علماء کی بڑی قدر و عزت کرتے تھے‘ مردم شناسی و جوہر شناسی آپ کی خصوصیات میں شامل ہے ہر ایک شخص کی خوبیوں کو آپ بہت جلد معلوم کر لیتے‘ اور پھر ان کی پوری پوری قدر کرتے‘ اسی طرح صحابہ کرام میں سے ہر ایک شخص میں جو جو خاص صفت تھی اسی کے موافق خدمات اور عہدے ان کو عطا کئے تھے‘ فاورق اعظم کسی شخص کے محض روزے نماز سے بھی کبھی دھوکا نہ کھاتے تھے‘ وہ اگرچہ خود بڑی زاہدانہ زندگی بسر کرتے تھے لیکن ذمہ داری کے کاموں پر یا فوجوں کی سرداری اور صوبوں کی حکومت پر جن لوگوں کو مقرر فرماتے‘ ان کے انتخاب میں محض زہد و اتقاء اور زاہدانہ زندگی ہی کو معیار قرار نہ دیتے‘ بلکہ جن کاموں پر جن لوگوں کو مقرر فرماتے ان میں ان کاموں کے سرانجام و اہتمام کی پوری قابلیت دیکھ لیتے‘ آپ کی دس سالہ خلافت کے زمانہ میں سینکڑوں بڑی بڑی لڑائیاں عراق و شام فلسطین اور مصر و خراسان وغیرہ ممالک میں ہوئیں‘ لیکن آپ خود کسی لڑائی میں بہ نفس نفیس شریک نہ ہوئے‘ تاہم ان لڑائیوں کا اہتمام اور ضروری انتظام فاروق اعظم رضی اللہ عنہ ہی کے ہاتھ میں ہوتا تھا‘ ہر ایک سردار کو آپ کی طرف سے نہایت معمولی معمولی باتوں کے متعلق بھی ہدایات پہنچ جاتیں اور اس کو ان ہدایات کے موافق ہی کام کرنا پڑتا تھا‘ کسی لڑائی اور کسی معرکہ میں یہ نہیں بتایا جا سکتا ہے کہ فلاں حکم فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے غلط اور غیر مفید دیا تھا‘ یا فلاں انتظام جو فاروق اعظم نے کیا وہ غیر ضروری تھا‘ آپ نے صوبوں کے تمام عمال کو لکھ بھیجا تھا کہ کوئی سپاہی میدان جنگ میں مسلسل چار مہینے سے زیادہ نہ روکا جائے‘ چار مہینے کے بعد اس کو اپنے اہل و عیال میں آنے کی رخصت دے دی جائے۔ ایک مرتبہ آپ کو کسی مرض کی وجہ سے کسی نے شہد کھانے کو بتایا‘ آپ کے یہاں شہد نہ تھا نہ کسی اور جگہ سے مل سکتا تھا‘ البتہ بیت المال میں تھوڑا سا شہد موجود تھا‘ لوگوں نے کہا کہ آپ اس شہد کو استعمال کریں‘ آپ نے کہا کہ یہ سارے مسلمانوں کا مال ہے‘ جب تک عام لوگ مجھ کو اجازت نہ دیں میں یہ استعمال نہیں کر سکتا۔ القصہ آپ نے شہد استعمال نہ کیا۔ ایک روز آپ اونٹ کے زخم دھوتے جاتے تھے اور فرماتے تھے کہ مجھ کو خوف معلوم ہوتا ہے کہ کہیں قیامت کے دن مجھ اس سے اس کی بابت بھی سوال نہ ہو‘ آپ نے ایک روز سیدنا سلمان سے دریافت کیا کہ میں بادشاہ ہوں یا خلیفہ‘ انہوں نے جواب میں فرمایا کہ اگر آپ کسی مسلمان سے ایک درہم یا اس سے کم و بیش وصول کر کے بے جا خرچ کریں تو آپ بادشاہ ہیں‘ ورنہ خلیفہ۔ آپ نے خلیفہ ہونے کے بعد ابتداء مدتوں تک بیت المال سے ایک حبہ بھی نہیں لیا‘ رفتہ رفتہ نوبت یہاں تک پہنچی کہ آپ پر افلاس مستولی ہونے لگا اور فقرو فاقہ کی نوبت پہنچنے لگی‘ تب آپ نے اصحاب کرام کو مسجد نبوی میں جمع کر کے فرمایا کہ میں کاروبار خلافت میں اس قدر مصروف رہتا ہوں کہ اپنے نفقہ کا کوئی فکر نہیں کر سکتا‘ آپ سب مل کر میرے لیے کچھ مقرر کر دیجئے‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ صبح شام کا کھانا آپ کو بیت المال سے ملا کرے گا‘ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے اسی کو منظور فرما لیا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ فاروق اعظم کو غصہ آیا ہو اور کسی نے اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا ہو‘ یا اللہ تعالیٰ کا خوف یاد دلایا ہو‘ یا قرآن شریف کی کوئی آیت پڑھی ہو اور آپ کا غصہ فرونہ ہو گیا ہو‘ سیدنا بلال نے ایک مرتبہ سیدنا اسلم رضی اللہ عنہ سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا حال دریافت کیا‘ انہوں نے کہا اس میں شک نہیں کہ آپ تمام آدمیوں سے بہتر ہیں لیکن جب آپ کو غصہ آ جاتا ہے تو غضب ہی ہو جاتا ہے‘ سیدنا بلال نے کہا کہ اس وقت تم کوئی آیت کیوں نہیں پڑھ دیا کرتے کہ سارا غصہ اتر جائے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر روایت کرتے ہیں کہ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک حصہ فوج پر ساریہ نامی ایک شخص کو سپہ سالار بنا کر بھیجا تھا‘ ایک روز خطبہ میں آپ نے تین مرتبہ بلند آواز سے فرمایا کہ ’’اے ساریہ پہاڑ کی طرف جا‘‘ چند روز (ایک ماہ) کے بعد ایک ایلچی آیا اور اس نے جنگ کے حالات سناتے ہوئے کہا کہ ہم کو شکست ہوا چاہتی تھی کہ ہم نے تین مرتبہ کسی شخص کی آواز سنی کہ ’’ساریہ پہاڑ کی طرف جا‘‘ چنانچہ ہم نے پہاڑ کی طرف رخ کیا اور خدائے تعالیٰ نے ہمارے دشمنوں کو شکست دی‘ جس روز خطبہ میں فاروق اعظم نے یہ الفاظ فرمائے تھے‘ اس روز لوگوں نے کہا کہ آپ یہاں ساریہ کو پکار رہے ہیں وہ تو نہاوند کے مقام پر کفار کے مقابلہ میں مصروف ہے‘ آپ نے فرمایا اس وقت میں نے ایسا ہی نظارہ دیکھا کہ مسلمان مصروف جنگ ہیں اور پہاڑ کی طرف متوجہ ہونا ان کے لیے مفید ہے‘ لہذا بے ساختہ میری زبان سے یہ الفاظ نکل گئے‘ جب ساریہ کا خط اور ایلچی آیا‘ ٹھیک جمعہ کے روز عین نماز جمعہ کے وقت اسی تاریخ کا واقعہ اس خط میں لکھا گیا اور ایلچی نے زبانی بھی بیان کیا۔ ایک مرتبہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف نے فاروق اعظم سے کہا کہ لوگ آپ سے بہت ڈرتے ہیں اور آپ کی طرف نگاہ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتے‘ اور نہ آپ کے سامنے لب ہلا سکتے ہیں‘ فاروق اعظم نے فرمایا کہ واللہ جس قدر یہ لوگ مجھ سے ڈرتے ہیں اس سے زیادہ میں ان لوگوں سے ڈرتا ہوں۔ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے صوبوں کے عاملوں اور گورنروں کو حکم دے رکھا تھا کہ ایام حج میں سب آ کر شریک حج ہوں‘ آپ خود بھی ہر سال حج کو جاتے رہے‘ عاملوں کے شریک حج کرنے میں ایک خاص مصلحت یہ تھی کہ حج کے موقعہ پر ہر ملک اور ہر صوبے کے لوگوں کو موقع حاصل ہے کہ وہ آ کر مجھ سے ملیں اور اپنے عامل میں اگر کوئی نقص دیکھتے ہیں تو اس کی شکایت کریں اور اسی وقت اس عامل سے بھی جو وہاں موجود ہے جواب طلب کیا جا سکے‘ اس طرح عاملوں کو اپنی عزت بچانے کا بہت خیال رہتا تھا کہ اگر ذرا سی بھی لغزش ہو گئی‘ تو حج کے مجمع عام میں بڑی فضیحت اور رسوائی ہو گی۔ آپ مساوات و جمہوریت کے حقیقت مفہوم سے واقف‘ اور اس کو قائم کرنا چاہتے تھے‘ نہ یہ کہ آپ آج کل جیسی یورپی جمہوریت کے دل دادہ تھے جو تعلیم اسلامی اور اصول اسلامی کے خلاف ہے‘ ایک مرتبہ سر منبر ایک عورت نے آپ کو ٹوک دیا اور آپ کے قول کو غلط بتایا‘ عورت نے چونکہ صحیح بات کہی تھی لہذا آپ نے مجمع عام میں فوراً اپنی غلطی کو تسلیم کر لیا‘ آج کل جبہ پوش نفس پرور مولویوں کی طرح اپنے قول کو صحیح ثابت کرنے کے لیے تاویلیں اور دوراز حقیقت باتیں بنانے کی مطلق کوشش نہیں کی۔