سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ

فتح کسکر

نرسی پیشتر سے تیس ہزار فوج لیے ہوئے کسکر میں مقیم تھا‘ اب جابان اور اس کی ہزیمت خوردہ فوج بھی اس کے پاس آ گئی‘ دربار ایران کو جب جابان کی شکست کا حال معلوم ہوا تو رستم نے مدائن سے ایک عظیم الشان فوج جالنیوس نامی سردار کی سرکردگی میں نرسی کی امداد کے لیے کسکر کی جانب روانہ کی‘ مگر سیدنا ابوعبیدبن مسعود رضی اللہ عنہ ثقفی رضی اللہ عنہ نے جالنیوس کے پہنچنے سے پہلے ہی نشیبی کسکر کے مقام سقاطیہ میں نرسی کے ساتھ جنگ شروع کر دی‘ نرسی کے ساتھ شاہی خاندان کے دو اور ماتحت سردار تھے ان ایرانی شہزادوں نے قلب اور میمنہ و میسرہ کو اپنے ہاتھ میں لے کر حملہ کیا‘ مسلمانوں کی فوج میں قلب لشکر کو سیدنا ابوعبید رضی اللہ عنہ لیے ہوئے تھے‘ سیدنا سعد بن عبید رضی اللہ عنہ میمنہ کے سردار تھے اور سیدنا سلیط بن قیس رضی اللہ عنہ میسرہ کے‘ سیدنا مثنیٰ مقدمۃ الجیش کے افسر تھے۔ نہایت زور شور کے ساتھ لڑائی شروع ہوئی‘ مثنیٰ بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے جب دیکھا کہ لڑائی طول کھینچ رہی ہے تو انہوں نے اپنے دستے کو جدا کر کے اور چار کوس کا چکر کاٹ کر ایرانی فوج کے عقب میں پہنچ کر حملہ کیا‘ نرسی نے اس غیر مترقبہ حملہ کو روکنے کے لیے اپنی فوج کے ایک دستہ کو اس طرف متوجہ کیا‘ سیدنا سعدبن عبید رضی اللہ عنہ نے ایک زبردست حملہ کیا اور خاص نرسی کے سر پر جا پہنچے‘ ابوعبید رضی اللہ عنہ بھی صفوں کو چیرتے اور درہم برہم کرتے ہوئے ایرانی لشکر کے سمندر میں شناوری کرنے لگے‘ یہ حالت دیکھ کر مسلمانوں نے نعرہ تکبیر کے ساتھ ایک زبردست حملہ کیا کہ ایرانی میدان کو خالی کرنے لگے‘ نرسی سعد بن عبید رضی اللہ عنہ کے مقابلہ میں نہ جم سکا اور جان بچا کر پیچھے ہٹا‘ نرسی کے بھاگتے ہی تمام لشکر بھاگ پڑا۔ سیدنا مثنیٰ نے مفرورین کا تعاقب کیا اور باقی لشکر نے قیدیوں کو سنبھال کر ایرانیوں کے خیموں اور بازاروں پر قبضہ کیا‘ اس کے بعد ابوعبید رضی اللہ عنہ نے مثنیٰ رضی اللہ عنہ ‘ عاصم رضی اللہ عنہ ‘ اور سلیط رضی اللہ عنہ کو فوجی دستے دے کر اردگرد کے ان مقامات کی طرف روانہ کیا جہاں ایرانی لشکر کے موجود ہونے کی خبر پہنچی تھی‘ ان سرداروں نے ہر جگہ فتح حاصل کر کے تمام علاقہ سواد کو تسخیر کر لیا۔