سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ
عمال خلافت صدیقی
سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں امین الملت سیدنا ابوعبیدہ ابن الجراح رضی اللہ عنہ بیت المال کے افسر اور مہتمم تھے‘ محکمہ قضاء سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے سپرد تھا‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو کتابت اور دفتر کا کام سپرد تھا‘ ان حضرات میں سے جب کوئی موجود نہ ہوتا تو دوسرا جو کوئی موجود ہوتا اس کام کو انجام دے لیتا تھا‘ مکہ معظمہ میں سیدنا عتاب رضی اللہ عنہ بن اسید عامل تھے جن کا انتقال اسی روز ہوا‘ جس روز سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے وفات پائی‘ طائف کے عامل سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ تھے‘ صنعا میں مہاجر بن ابی امیہ اور سیدنا موت میں زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ عامل تھے‘ صوبہ خولان میں یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ ‘ یمن میں ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ‘ نجد میں معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ‘ بحرین میں علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ ‘ دومتہ الجندل میں عیاض رضی اللہ عنہ بن غنم رضی اللہ عنہ ‘ عراق میں مثنی بن حارثہ رضی اللہ عنہ عامل یا گورنر کے عہدے پر مقرر تھے‘ ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ آخر میں سپہ سالاری کی خدمت میں مامور ہو کر شام کی طرف بھیجے گئے تھے‘ یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ ‘ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ‘ شرجیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ بھی سپہ سالاری کی خدمت پر ملک شام میں مصروف تھے‘ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ خلافت صدیقی میں سپہ سالار اعظم کے عہدے پر فائز اور خلافت صدیقی سے وہی نسبت رکھتے تھے جو رستم کو کیکائوس و کی خسرو کی سلطنت سے تھی۔