سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ

سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کا پیغام

حیرہ سے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے ایک خط ایرانی رئوساء کی طرف روانہ کیا اور منشور عام عراق کے ان امراء کے نام بھیجا جو زمینداروں ‘ یا جاگیرداروں کی حیثیت رکھتے اور ابھی تک مطیع و منقادنہ ہوئے تھے‘ ایرانی رئوسا کے نام جو خط انہوں نے بھیجا تھا اس میں لکھا تھا کہ۔: امابعد!تمام تعریف اس اللہ تعالیٰ کو ہے جس نے تمہارے نظام میں خلل ڈال دیا اور تمہارے مکر کو سست کر دیا‘ اور تمہارے اتحاد کو توڑ دیا‘ اگر ہم اس ملک پر حملہ آور نہ ہوتے تو تمہارے لیے برائی ہوتی‘ اب بہتر یہ ہے کہ تم ہماری فرمانبرداری کرو ہم تمہارے علاقے چھوڑ دیں گے اور دوسری طرف چلے جائیں گے‘ اگر تم ہمارے مطیع نہ ہوئے تو پھر تم کو ایسے لوگوں سے واسطہ پڑے گا جو موت کو ایسا دوست رکھتے ہیں جیسے تم زندگی کو محبوب رکھتے ہو۔‘‘دوسرے منشور عام کا یہ مضمون تھا کہ ’’تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے تمہاری شیخی کرکری کر دی اور تمہارے اتفاق کو توڑ دیا اور تمہاری شان و شوکت مٹا دی‘ پس تم اسلام قبول کرو کہ سلامت رہو گے یا ہماری حفاظت میں آ کر ذمی بن جائو اور جزیہ ادا کرو‘ ورنہ میں ایسی قوم تم پر لایا ہوں جو موت کو ایسا عزیز رکھتی ہے جیسا تم شراب خوری کو محبوب رکھتے ہو‘‘ ان خطوط و فرامین کا یہ اثر ہوا کہ دربار ایران میں جو بادشاہ کے متعلق جھگڑے پڑے ہوئے تھے وہ فوراً سلجھ گئے اور امیران در بار فوراً اپنا ایک بادشاہ منتخب کر لینے میں متفق ہو گئے‘ تاکہ اہل عرب کا تدارک دل جمعی کے ساتھ بہ آسانی ہو سکے۔