سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ

فتح حیرہ

جنگ لیس سے فارغ ہو کر سیدنا خالد رضی اللہ عنہ بن ولید نے حیرہ کا محاصرہ کیا جب محاصرہ کو طول ہوا اور شہر والے عاجز ہو گئے تو حیرہ کا رئیس عمروبن عبدالمسیح معہ دوسرے روئساء کے سیدنا خالدبن ولید رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا‘ ایرانی سردار اور ایرانی لشکر جو حیرہ میں موجود تھا ارد شیرکسریٰ کی موت کا حال سن کر پہلے ہی فرار ہو چکا تھا ‘ عبدالمسیح نے قریباً دو لاکھ روپیہ خراج ادا کر کے صلح کر لی‘ فتح حیرہ کے بعد سیدنا خالد رضی اللہ عنہ بن ولید نے ضرار بن الازور‘ ضرار بن الخطاب رضی اللہ عنہ ‘ قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ ‘ مثنیٰ بن حارثہ رضی اللہ عنہ ‘ عیینہ بن الشماس رضی اللہ عنہ وغیرہ سرداران لشکر کو حیرہ کے اطراف و جوانب میں چھوٹے چھوٹے فوجی دستوں کے ساتھ روانہ کیا‘ ہر ایک قبیلہ اور ہر ایک بستی نے جزیہ یا اسلام قبول کیا اور اس طرح دجلہ تک کا تمام علاقہ سیدنا خالد بن رضی اللہ عنہ ولید کے ہاتھ پر فتح ہو گیا‘ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ بن ولید حیرہ میں مقیم رہ کر اردگرد کی مہمات کا اہتمام و انصرام فرماتے رہے۔