ہجرت کا گیارہواں سال
اخلاق حمیدہ
آپ صلی اللہ علیہ و سلم جب بیٹھتے تو لوگوں کے اندر اس طرح گھل مل جاتے ہوتے کہ کوئی نووارد آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو پہچان نہ سکتا تھا‘ اور پوچھنے کی ضرورت پیش آتی تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کون ہیں‘ ایسی چیز جس کے کھانے منہ بدبودار ہو جائے آپ صلی اللہ علیہ و سلم پسند نہ فرماتے تھے‘ پیوند لگا ہوا کپڑا پہن لیتے‘ اور اچھا کپڑا مل جائے تو اسے پھینک نہ دیتے تھے‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا لباس سادہ مگر صاف ہوتا تھا‘ دن میں کئی کئی مرتبہ مسواک کرتے تھے‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس بیٹھنے والے یہ شہادت دیتے ہیں کہ کبھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے جسم یا لباس یا منہ سے بو نہیں آئی۔
جہاں عفو سے اصلاح ہوتی وہاں آپ صلی اللہ علیہ و سلم عفو کرتے ‘ مگر جہاں سزا کی ضرورت ہوتی وہاں سزا بھی دیتے‘ کیونکہ ان شریروں کو جو شرارت سے باز نہ آتے تھے سزا نہ دینا بدی کی اعانت کرنا تھا۔
مسلمانوں کی خیرات کو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے مسلمانوں ہی تک محدود نہیں رکھا‘ عیسائی‘ یہودی مشرک سب سے فیاضی کا برتائو کرتے‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم پر جو بڑی سے بڑی مصیبت آتی اسے آسانی سے برداشت کر لیتے‘ مگر دوسروں کی مصیبت پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا دل بے چین ہو جاتا تھا‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم اسباب سے کام لیتے تھے اور نتیجے کو اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیتے تھے‘ اور کبھی اس بات سے نہیں گھبراتے تھے‘ کہ نتیجہ خلاف امید ہوا‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم میں تواضح تھی‘ انانیت نہ تھی ‘ ہیبت تھی مگر درشتی نہ تھی‘ سخاوت تھی مگر اسراف نہ تھا‘ جو شخص آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے یکایک آ جاتا وہ ہیبت زدہ ہو جاتا اور جو پاس آ بیٹھتا وہ فدائی بن جاتا‘ متعدی امراض سے بچائو رکھتے‘ تندرستوں کو محتاط رہنے کا حکم دیا کرتے اور نادان طبیب کو طبابت سے منع کرتے‘ حرام اشیاء کو بطور دوا استعمال کرنا نا پسند فرماتے تھے‘ جب کسی معاملہ میں دو صورتیں سامنے آتیں تو آسان صورت کو اختیار فرما لیتے۔۱؎ اسیران جنگ کی خبر گیری مہمانوں کی طرح فرماتے‘ تیر اندازی‘ نشانہ بازی‘ گھوڑ دوڑ وغیرہ مردانہ ورزشوں میں بھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم شریک ہوا کرتے تھے غرض کہ۔
وامان نگہ تنگ و گل حسن تو بسیار
گلچین بہار تو زدامان گلہ دار
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی کے نہایت حالات جو اوپر درج ہو چکے ہیں ان کے ساتھ ہی ضرورت تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے خاتم النبیین رحمۃ للعالمین‘ سید البشر‘ خیر الاولین والآخرین ہونے کے دلائل و براہین بھی لکھے جاتے‘ نیز قرآن کریم کا خاتم الکتب‘ نور و ہدایت‘ کامل و مکمل ہدایت نامہ ہونا بھی ثابت کیا جاتا‘ یہ دو ضروری مضمون رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی تاریخ لکھنے والا ہر مؤرخ ضرور لکھنا چاہتا ہو گا‘ مگر چونکہ تاریخ اور علم الکلام و فلسفہ جدا جدا حدود رکھتے ہیں‘ بنابریں مورخین نے ان مضامین کو دوسروں کے لیے چھوڑ دیا ہے اور یہی مناسب بھی تھا‘ جس شخص کو کتاب و نبوت کی بحث دیکھنی منظور ہو وہ میری کتاب حجۃ الاسلام کا مطالعہ کرلے۔