ہجرت کا گیارہواں سال

خوش طبعی

آپ کبھی خوش طبعی بھی فرما لیتے تھے‘ مثلاً ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی کو ایک اونٹ دینے کا وعدہ کیا‘ جب وہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میں تجھے اونٹنی کا بچہ دیتا ہوں‘ یہ سن کر وہ شخص کہنے لگا میں اونٹنی کا بچہ کیا کروں گا‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اونٹ اونٹنی کے بچے نہیں ہوتے تو اور کس کے بچے ہوتے ہیں؟۱؎ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے خوش طبعی کی راہ سے بجائے اونٹ کے اونٹنی کا بچہ کہا تھا‘ وہ سمجھا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے چھوٹے سے کم عمر بچہ کے لیے حکم دیا ہے‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم خوش طبعی فرماتے تھے لیکن خوش طبعی میں بھی کبھی صدق اور راستی کے سوا آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی زبان سے کوئی کلمہ غلط یا جھوٹ نہیں نکلتا تھا‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم لوگوں کو کھیلنے کودنے اور خوشی منانے سے بھی منع نہیں فرماتے تھے۔