ہجرت کا ساتواں سال

فتح خیبر

صلح حدیبیہ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو مشرکین مکہ کی طرف سے اطمینان حاصل ہو گیا تھا‘ لیکن مدینے آ کر معلوم ہوا کہ خیبر کے علاقہ میں مسلمانوں کی بیخ کنی اور مدینہ پر حملہ آوری کے سامان مکمل ہو رہے ہیں۔ مدینے سے بنو قینقاع اور بنو نضیر جلا وطن ہو ہو کر خیبر ہی میں اقامت گزیں ہوئے تھے‘ ان یہودیوں کے دلوں میں مسلمانوں کی عداوت و دشمنی کے آتش کدے شعلہ زن تھے‘ انہوں نے خیبر کے یہودیوں کو بھی مسلمانوں کی عداوت پر بہت جلد مستعد و آمادہ کر لیا‘ مکہ کے بعد اب مسلمانوں کی مخالفت و عداوت کا سب سے بڑا مرکز خیبر تھا‘ یہود کے تقریباً تمام طاقت ور قبائل خیبر میں مجتمع ہو کر پہلے تو مشرکین مکہ اور عرب کے دوسرے طاقت ور قبائل کو مسلمانوں کے خلاف برانگیختہ کرنے میں مصروف رہے‘ اب انہوں نے مسلمانوں کے مقابلہ اور استیصال کے لیے خود جنگی تیاریاں شروع کر دی تھیں‘ عرب کے قبیلہ غطفان کو انہوں نے اس شرط پر اپنا شریک بنایا کہ مدینہ کی نصف پیداوار تم کو دی جائے گی۔ یہودیوں کی جنگی تیاریاں معمولی نہ تھیں‘ بلکہ ان کا دائرہ نہایت وسیع اور ان کی ریشہ دوانیاں نہایت خطرناک تھیں۔ چنانچہ انہوں نے مدینہ کے منافقین کو بھی اپنا شریک کار بنا لیا تھا‘ ان منافق جاسوسوں کے ذریعہ وہ خیبر میں دور کے فاصلے پر بیٹھے ہوئے مسلمانوں کی ایک ایک حرکت سے باخبر رہتے تھے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہودیوں کی ان تیاریوں کا حال سن کر محرم ۷ ھ میں پندرہ سو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے ساتھ جن میں دو سو سوار تھے مدینہ سے خیبر کی جانب کوچ فرمایا اور مدینے میں سیدنا سباع بن عرفطہ رضی اللہ عنہ کو عامل بنا کر چھوڑا۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے خیبر کے قریب پہنچ کر خیبر اور بنی غطفان کے درمیان مقام رجیع کو لشکر گاہ تجویز فرمایا‘ بنی غطفان کو یہ خوف ہوا کہ مسلمان ہماری بستیوں پر حملہ آور ہوں گے‘ اس لیے وہ اپنے ہی گھروں میں مدافعت اور مقابلہ کے لیے موجود رہے‘ خیبر کے یہودیوں کی مدد کو نہ جا سکے۔ خیبر کا علاقہ تین الگ الگ بستیوں پر مشتمل تھا جن میں یہودیوں کے پاس ایک دوسرے کے قریب قریب چھ زبردست قلعے تھے‘ یہودیوں نے اسلامی لشکر کے پہنچنے پر میدان میں نکل کر مبارزت طلبی کی‘ ان میں مرحب اور یاسر دو بہت بڑے بہادر اور پیل تن جنگ جو تھے‘ انہوں نے جب میدان میں نکل کر اپنا حریف طلب کیا تو مسلمانوں کی طرف سے محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ اور زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ نکلے‘ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے مرحب کو اور زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ نے یاسر کو قتل کیا‘ بعض روایات میں مرحب کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے مقتول ہونا بیان کیا گیا ہے۔ میدان جنگ میں یہودیوں نے مسلمانوں کا مقابلہ دشوار سمجھا تو انہوں نے قلعہ بند ہو جانا مناسب سمجھا‘ ان قلعوں میں صعب بن معاذ کا قلعہ سب سے زیادہ مضبوط اور ایسے موقعہ پر واقع تھا کہ اس سے دوسرے تمام قلعوں کو مدد پہنچتی تھی۔ لشکر اسلام نے سب سے پہلے قلعہ ناعم پر حملہ کیا جو مرحب کا قلعہ تھا۔ بالآخر سخت کوشش و مقابلہ کے بعد ناعم پر قبضہ کر لیا‘ اس کے بعد قلعہ صعب بن معاذ مفتوح ہوا۔ پھر خیبر کی دوسری بستی پر حملہ ہوا‘ اس کے قلعے بھی محاصرے اور جنگوں کے مفتوح ہوئے۔ اس کے تیسری بستی کی نوبت آئی۔ اور ابی الحقیق یہودی کے قلعہ قموص پر حملہ ہوا‘ یہ قلعہ بھی مسلمانوں کے قبضہ میں آ گیا‘ اسی قلعہ میں سے صفیہ بنت حیی بن اخطب اور دوسرے بہت سے قیدی مسلمانوں کے ہاتھ آئے‘ صفیہ بنت حیی کی شادی کنانہ بن الربیع بن ابی الحقیق سے ہوئی تھی‘ بعد گرفتاری وہ سیدنا دحیہ رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئی تھیں‘ ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے خرید کر آزاد کر دیا‘ پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی زوجیت میں آ گئیں۔ یہاں وطیح اور سلالم دو قلعے باقی رہ گئے‘ ان دونوں کا دس روز تک مسلمانوں نے محاصرہ کیا‘ محصور یہودی جب محاصرہ کی شدت سے تنگ آ گئے تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس پیغام بھیجا کہ ہم کو نصف پیداوار بطور مال گذاری لینے کی شرط پر اگر ہماری زمینوں پر بطور کاشتکار قابض رکھا جائے تو ہم اطاعت قبول کرتے ہیں۔ چنانچہ ان یہودیوں کو زراعت اور باغات کی نصف پیداوار کے خراج پر بطور رعایا ان کی اراضیات پر قابض اور آباد رہنے دیا گیا‘ جو سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے آخر عہد خلافت تک خیبر میں آباد رہے۔ خیبر کی اس جنگ میں پندرہ مسلمان شہید ہوئے‘ چار مہاجرین میں سے‘ گیارہ انصار میں سے‘ اور ۹۳ یہودی مارے گئے‘ اسی جنگ میں حمار اہلی (گھریلو گدھے) کے گوشت کو مسلمانوں کے لیے احرام قرار دیا گیا‘ ۱؎اسی جنگ میں متعہ کو ہمیشہ کے لیے حرام کیا گیا۔۲؎ یہودیوں کے ایک سردار سلام بن مشکم کی بیوی زینب بنت الحرث نے ایک سالم بکری بھنی ہوئی زہر آلود آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں بطور ہدیہ پیش کی‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ سیدنا بشربن البراء بن معردر نے اس کو کھانا شروع کیا‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کو چکھتے ہی تھوک دیا‘ اور فرمایا کہ مجھ کو اس بکری کی ہڈیاں خبر دیتی ہیں کہ اس میں زہر ملا ہوا ہے‘ مگر سیدنا بشر رضی اللہ عنہ اس کے گوشت میں سے کچھ چبا کر نگل چکے تھے چنانچہ وہ اسی وقت شہید ہو گئے۔۳؎ زینب یہودیا کو بلوایا گیا‘ اس نے زہر ملانے کا اقرار کیا اور وہ وارثان بشر کے حوالے کی گئی‘ مگر انہوں نے اس لیے اس کو قتل نہ کیا کہ وہ مسلمان ہو گئی تھی۴؎ ابھی خیبر سے روانگی کی تیاریاں ہو ہی رہی تھیں کہ ملک حبش سے واپس آنے والے مہاجرین کا ایک قافلہ معہ شاہ حبش کے خط اور ہدایا کے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا‘ اس قافلہ میں سیدنا جعفر بن ابی طالب‘ ان کی بیوی اسماء بنت عمیس‘ ان کے لڑکے عبداللہ رضی اللہ عنہ ‘ عون رضی اللہ عنہ ‘ محمد رضی اللہ عنہ اور سیدنا خالد بن سعید بن العاص بن امیہ‘ ان کی بیوی امینہ بنت خلف اور ان کے لڑکے سعید رضی اللہ عنہ اور سیدنا ام خالد رضی اللہ عنھا ‘ سیدنا عمرو بن سعید رضی اللہ عنہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ‘ جہم رضی اللہ عنہ بن قیس‘ حرث بن خالد رضی اللہ عنہ ‘ محینہ بن عذار رضی اللہ عنہ ‘ معمر بن عبداللہ‘ ابوحاطب رضی اللہ عنہ بن عمرو‘ ملک بن ربیعہ بن قیس رضی اللہ عنہ اور عمروبن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ اور جو ان لوگوں کو لینے کے لیے گئے تھے‘ شامل تھے۔ ان میں سے کچھ مدینہ گئے اور کچھ خیبر آئے‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم ان مومنین سے مل کر بہت مسرور ہوئے۔ خیبر سے مشرق میں میں فدک ایک مقام تھا جو خیبر سے دو دن کے فاصلے پر تھا۔ فدک کے یہودیوں نے خود پیغام بھیجا کہ ہم کو صرف ہماری جانوں کی امان دی جائے مال و اسبابسے ہم کو سروکار نہیں‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کی اس درخواست کو منظور فرما لیا چونکہ فدک پر حملہ نہیں کیا گیا اور نہ اس پر کسی سوار و پیادے کو تلوار یا نیزہ چلانے کا موقعہ ملا تھا لہذا بلا تقسیم جیسا کہ خدائے تعالی کا حکم تھا اللہ تعالیٰ اور رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا مال سمجھا گیا اور ملکیت بیت المال قرار دیا گیا۔ خیبر سے روانہ ہو کر وادی القریٰ کی طرف لشکر اسلام آیا تو وہاں کے یہودیوں نے مسلمانوں پر تیر اندازی شروع کی‘ چنانچہ ان کا بھی محاصرہ کیا گیا اور آخر انہوں نے بھی نصف بٹائی پر جیسا کہ خیبر والوں نے اطاعت قبول کی تھی اطاعت قبول کر لی‘ ۱؎وادی القریٰ میں صرف ایک صحابی سیدنا مدعم رضی اللہ عنہ شہید ہوئے‘ ۲؎وادی القریٰ کے قریب تیما یہودیوں کا ایک مقام تھا انہوں نے بھی وادی القریٰ والوں کی طرح اطاعت قبول کر لی۔