رومی سلطنت
سلطان محمد خاں ثانی‘ فاتح قسطنطنیہ
سلطان مراد خان کی وفات کے وقت اس کا بیٹا محمد خان ایشیائے کوچک میں تھا جس کی عمر اس وقت اکیس سال چند ماہ کی تھی۔ اس سے پیشتر محمد خان ثانی دو مرتبہ جب کہ اس کی عمر صرف پندرہ سولہ سال کی تھی۔ باپ کی زندگی میں تخت نشین ہو چکا تھا جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا ہے۔ مراد خان ثانی کی وفات کے بعد اراکین سلطنت نے ایشیائے کوچک میں محمد خان ثانی کے پاس خبر بھیجی اور وہ بلا توقف وہاں سے روانہ ہو کر درہ دانیال کو عبور کر کے ایڈریا نوپل پہنچا اور وہاں مراسم تخت نشینی ادا کیے گئے۔ شاہ سرویا کی بیٹی سے مراد ثانی کا ایک اور بیٹا تھا جو ابھی صرف آٹھ مہینے کا بچہ تھا۔ جب محمد خان ثانی کی تخت نشینی کے مراسم ادا ہو رہے تھے اور اراکین سلطنت اطاعت و فرماں برداری کی بیعت کر رہے تھے تو ینگ چری فوج کے سردار نے یہ حرکت کی کہ سلطان محمد خان ثانی کی اطاع کے بغیر اس بچے کو حمام میں لے جا کر قتل کر دیا غالباً یہ کام اس نو مسلم سردار نے محمد خان ثانی کی حمایت میں کیا اور اپنے نزدیک اچھی خدمت بجا لایا کیونکہ یہ لڑکا جوان ہو کر اپنی ماں یعنی سروین شہزادی کے سبب سرویا والوں اور دوسرے عیسائیوں سے مدد پا کر سلطان محمد ثانی کے لیے باعث تکلیف ہو سکتا تھا۔ لیکن سلطان محمد خان ثانی نے ینگ چری سردار کے اس ظالمانہ و سفاکانہ فعل کو سخت ناپسند کیا اور اپنے اس سوتیلے بھائی کے قصاص میں اس کو قتل کیا چونکہ چھ سال پہلے محمد خان ثانی اپنے باپ کے زمانے میں دو مرتبہ تھوڑے تھوڑے وقفہ کے لیے تخت نشین ہو کر کسی اولوالعزمی اور بلند ہمتی کا اظہار نہ کر سکا تھا اس لیے لوگوں کا خیال تھا کہ وہ کمزور اور سست رائے سلطان ثابت ہو گا۔ حالانکہ یہ قیاس کرنا ایک غلطی تھی اس زمانے میں وہ پندرہ سولہ سال کا لڑکا اور اب اکیس بائیس سال کا نوجوان تھا۔ یہ چھ سال اس نے کھیل کود میں نہیں گزارے تھے بلکہ وہ حکومت و سلطنت کی قابلیت کے بڑھانے میں برابر ترقی کرتا رہا تھا۔ عالموں اور روحانی لوگوں کی صحبتوں نے اس کے اخلاق اور قوت ارادہ کو بہت کچھ پختہ کر دیا تھا۔
یورپی مؤرخ عام طور پر اس کو اپنے صغیر سن سوتیلے بھائی کا قاتل تباتے ہیں مگر وہ اپنی اس غلط بیانی میں اس لیے معذور ہیں کہ محمد خان ثانی قسطنطنیہ کا فاتح ہے اور اس کو ملزم قرار دینا شاید عیسائی مورخ ثواب سمجھتے ہیں حالانکہ اس بات پر سب متفق ہیں کہ ینگ چری فوج کے سردار نے اس بچے کو قتل کیا تھا۔ اس کا بھی سب کو اقرار ہے کہ سلطان محمد خان نے اس سردار کو قصاص میں قتل کرایا۔ مگر وہ کہتے ہیں کہ اس سردار نے محمد خان ثانی کے حکم سے اس کو قتل کیا تھا لیکن سوچنے اور غور کرنے کی بات یہ ہے کہ سلطان محمد خان کو سردست اس چھوٹے بچے سے کسی قسم کا بھی کوئی اندیشہ نہ تھا۔ وہ اپنی تخت نشینی کے مراسم سے فارغ ہونے کے بعد بھی اس لڑکے کی جان لینے کی تدابیر عمل میں لا سکتا تھا۔ اس شیر خوار بچے کو تخت نشین کرنے کا کسی رکن سلطنت کو مطلق خیال تک بھی نہیں آیا تھا بلکہ سب ایڈریا نوپل میں محمد خان کا انتظار کر رہے تھے۔ ینگ چری فوج کا سردار ایشیائے کوچک سے سلطان محمد خان کے ساتھ نہیں آیا تھا بلکہ پہلے ہی سے ایڈریا نوپل میں موجود تھا۔ اگر یہ کام سلطان محمد خان کو کرانا تھا تو وہ اپنے ان سرداروں میں سے کسی کو اس کام پر مامور کرتا جو اس کے ساتھ ایشیائے کوچک سے آئے تھے اور جن پر اس کو ہر طرح کا بھروسہ تھا۔ ایڈریا نوپل میں آتے ہی ایک ایسے سردار کو جو اس کے لئے کوئی مانوس شخص نہ تھا یہ ظالمانہ حکم دینا معمولی احتیاط کے بھی خلاف تھا۔ پھر یہ کہ وہ سرادر جب اپنے اس ناشدنی کام کی پاداش میں قتل کیا گیا تو اس نے اپنی جان بچانے کے لئے اس راز کو فاش نہ کیا۔ سروین شہزادی یعنی محمد خان کی سوتیلی ماں خود ان لوگوں میں شامل تھی جو تخت نشین کی مبارک باد دینے آئے سلطان محمد خان ثانی کی آئندہ زندگی میں اس قسم کی کوئی مثال نظر نہیں آتی۔ اور اس باحوصلہ‘ نیک دل اور باخدا سلطان سے ہرگز اس قسم کی احمقانہ حرکت کی توقع نہیں ہو سکتی بات دراصل یہ ہے کہ ینگ چری فوج چونکہ سلطنت عثمانیہ کی بڑی لاڈلی فوج سمجھی جاتی تھی اس لئے اس فوج اور اس فوج کے سرداروں میں عام طور پر خود سرائی و خود سری کے علامات پیدا ہونے لگے تھے۔ سلطان مراد خان ثانی کے زمانے میں بھی ان لوگوں سے اس قسم کی حرکات سرزد ہو چکی تھیں‘ اس نوجوان سلطان کو اپنے قابو میں رکھنے کے لئے اس سردار نے اسی قسم کا احسان اس پر کرنا مناسب سمجھا یہی دھوکا قسطنطنیہ کے قیصر قسطنطین کو ہوا جس کی وجہ سے اس کو قسطنطنیہ اور اپنی جان دینی پڑی تفصیل اس اجمال کی آگے آتی ہے۔
۸۵۲ھ میں سلطان مراد ثانی سے تین سال پیشتر قیصر جان پلیلیوگس کے فوت ہونے پر قیصر قسطنطین دوازدہم قسطنطنیہ میں تخت نشین ہوا تھا۔ قسطنطین دوازدہم بھی اپنے پیشرو کی مانند خوب چالاک و چوکس آدمی تھا اس نے سلطان مراد ثانی کی وفات اور سلطان محمد خاں ثانی کی تخت نشینی پر ایشیائے کوچک کے سرکش اور باغیانہ خیالات رکھنے والے امیروں کو سہارا دے کر فوراً ایک بغاوت برپا کرا دی جس کے سبب سلطان محمد خان کو ایشیائے کوچک میں جا کر باغیوں کو ٹھیک اور وہاں کے انتظام کو درست کرنا پڑا۔ ابھی سلطان ایشیائے کوچک کے انتظام سے فارغ نہ ہوا تھا کہ قیصر قسطنطین نے سلطان کے پاس پیغام بھیجا کہ سلطان مراد خان ثانی کے زمانے سے خاندان عثمانیہ کا ایک شہزادہ ارخان نامی ہمارے پاس نظر بند ہے اس کے اخراجات ضروریہ کے لئے جو رقم سلطانی خزانہ سے آتی ہے اس میں اضافہ کرو ورنہ ہم اس شہزادہ کو آزاد کر دیں گے اور وہ آزاد ہو کر تم سے ملک چھین لے گا۔ قیصر چونکہ سلطان محمد خان ثانی کو ایک کمزور طبیعت کا سلطان تصور کئے ہوئے تھا اس لئے اس نے اس دھمکی کے ذریعہ سلطان سے روپیہ اینٹھنا اور اس کود بانا چاہا۔ اگر واقعی سلطان محمد خان ایسا ہی کمزور اور پست ہمت ہوتا جیسا قیصر نے سمجھا تھا تو وہ ضرور ہی اس دھمکی سے ڈر جاتا۔ اور قیصر قسطنطین کے نہ صرف اسی بلکہ آئندہ مطالبات کو پورا کرنے کی کوشش کرتا۔ لیکن سلطان محمد خان ثانی‘ سکندر یونانی اور نپولین فرانسیسی سے زیادہ قوی قلب وارادہ کا مالک تھا۔ وہ سمجھ گیا کہ اس طرح کام نہ چلے گا اور جب تک اس عیسائی سلطنت کا قصہ پاک نہ کر دیا جائے گا سلطنت عثمانیہ کا قیام و استحکام ہمیشہ معرض خطر ہی میں رہے گا۔ اس وقت سلطان نے قیصر کے ایلچیوں کو ٹال دیا اور کوئی صاف جواب نہ دیا۔
ایشیائے کوچک سے واپس آ کر سلطان محمد خان نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ ہنی داس یا ہنی ڈیز بادشاہ ہنگری سے تین سال کے لئے صلح کا عہدنامہ کر لیا۔ اس عہدنامہ کے مکمل ہو جانے سے سلطان کو اپنی سلطنت کے شمالی حدود کی جانب سے اطمینان حاصل ہو گیا۔ اسی دوران میں ینگ چری فوج اور اس کے سرداروں کی طرف سے بدعنوانیاں ملاخطہ کر کے سلطان نے ان کو قرار واقعی سزائیں دے کر ان کی اصلاح کی۔ قیصر قسطنطین نے دوبارہ اپنے ایلچی ایڈریا نوپل میں سلطان کے پاس بھیجے اور پھر شہزادہ ارخان کے نفقہ کے اضافے ورنہ اس کے آزاد کر دینے کی دھمکی دی۔ اور نہایت سفیہانہ انداز سے اصرار کیا۔ اس کا جواب بجز اس کے اور کیا ہو سکتا تھا کہ سلطان محمد خان ثانی نے ارخان کا نفقہ بالکل بند کر دیا۔ اور قیصر کے سفیروں کو نہایت ذلت کے ساتھ اپنے دربار سے نکلوا کر قسطنطنیہ پر حملہ کی تیاریوں میں مصروف ہو گیا۔ اب قیصر کی آنکھیں کھلیں اور اس کو اپنی غلطی کا احساس ہوا کہ میں جس کو روباہ سمجھا تھا وہ درحقیقت شیر ہے۔ چونکہ قیصر قسطنطین اپنی شجاعت اور ہوشیاری میں ممتاز اور بہت باہمت شخص تھا۔ اس نے یہ دیکھ کر کہ مجھ کو سلطان محمد خان سے ضرور دو‘ دو ہاتھ کرنے پڑیں گے بلاتوقف جنگی تیاریاں شروع کر دیں۔ قسطنطین کی روشن خیالی اور مآل اندیشی کی داد دینی پڑتی ہے کہ اس نے عیسائیوں کے دو بڑے بڑے گروہوں میں اتفاق پیدا کرنا ضروری سمجھا۔ اس زمانے تک عیسائیوں کا فرقہ پراٹسٹنٹ۱؎ پیدا ہوا تھا جس کو رومن کیتھولک۲؎ عیسائیوں سے بہت سخت اور اہم اختلاف ہے بلکہ اس زمانے میں تمام عالم عیسائیت عقیدہ کے اعتبار سے دو حصوں میں منقسم سمجھا جاتا تھا۔ ایک گروہ شہر روما کے پوپ کو اپنا پیشوا مانتا اور رومن چرچ کا ماتحت سمجھا جاتا تھا۔ دوسرا گروہ گریک چرچ یعنی یونانی گرجے کا پیرو اور قسطنطنیہ کے بشپ اعظم کو اپنا مذہمی پیشوا سمجھتا تھا۔ جس کی سرپرستی کا فخر قیصر قسطنطنیہ کو حاصل تھا۔ ان دونوں گروہوں میں عقیدہ کا کچھ بہت بڑا فرق نہ تھا۔ عشائے ربانی۳؎ میں رومن طریقے کے پیرو شراب کے ساتھ فطیری روٹی استعمال کرتے تھے اور قسطنطنیہ کے پیرو پادریوں کی وہی حالت تھی جو اس جہالت و تاریکی کے زمانے میں ہم اپنے پیشہ ور مولویوں کی دیکھ رہے ہیں کہ ذرا ذرا سی باتوں مثلاً آمین و رفع یدین پر کفر کے فتوے بلاتامل قلعہ شکن توپوں کی طرح داغتے اور اپنی بہادری پر مسرور ہوتے ہیں۔ قیصر قسطنطین نے روما کے پوپ کو لکھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے مذہبی اختلاف کو مٹا دیں اور سب متحدو متفق ہو کر مسلمانوں کا مقابلہ کریں۔ میں بخوشی آپ کے عقائد کو تسلیم کرتا ہوں اور آئندہ قسطنطنیہ کا گرجا بھی آپ ہی کے ماتحت ہو گا۔ لہٰذا جس طرح بیت المقدس اور شام کی فتح کے لئے تمام برّاعظم یورپ میں جہاد کا اعلان کیا گیا تھا اور عیسائی مجاہدین جوق در جوق جمع ہو کر مسلمانوں کے مقابلے کو پہنچ گئے تھے اسی اہتمام کے ساتھ اب بھی قسطنطنیہ کے بچانے اور عثمانیہ سلطنت کو نیچا دکھانے کے لئے آپ کی طرف سے اعلان اور ترغیب ہونی چاہیے۔ قیصر قسطنطین کی یہ تجویز بہت کارگر اور مفید ثابت ہوئی۔ پوپ نے جس کا نام نکلسن پنجم تھا پوری سر گرمی کے ساتھ عیسائیوں کو جہاد پر آمادہ ہونے کی ترغیب دی۔ چنانچہ ہسپانیہ (اندلس) کے شمالی صوبوں
۱؎اگرچہ یہ فرقہ بھی کفریہ تعلیمات کا پابند ہے لیکن یہ عیسائیوں کا اصلاحی یا اعتدال پسند فرقہ سمجھا جاتا ہے۔ جس کا آغاز ۱۵۱۷ء میں ہوا۔
۲؎Catholic۔ قدیم رومی عیسائی مذہب کا پابند عیسائی فرقہ۔ یہ لوگ متشدد‘ کٹر اور راسخ العقیدہ کہلاتے ہیں۔ عیسائیوں کا تیسرا بڑا فرقہ آرتھو ڈوکس کہلاتا ہے۔
۳؎وہ آخری کھانا جو عیسیٰ u نیاپنے حواریوں کے ساتھ کھایا تھا عشائے ربانی کہلاتا ہے۔ اب یہ عیسائیوں کے ہاں عیسیٰ مسیحu کی یاد میں کھانے کی ایک رسم ہے جو بعض گرجوں میں ہفتہ میں ایک بار‘ بعض میں مہینہ میں ایک بار‘ بعض میں ہر تین ماہ کے بعد اور بعض میں سال بھر میں تین بار منائی جاتی ہے۔
اراگون و قسطلہ سے عیسائی مجاہدین کی زبردست اور کار آزمودہ فوجیں قسطنطنیہ پہنچیں۔ اسی طرح پوپ نے خود ایک زبردست فوج اپنے ایک نائب کارڈ نیل کی ماتحتی میں جہازوں پر روانہ کی۔ وینس اور جنیوا کی بحری طاقتیں اور بری فوجیں بھی قسطنطنیہ کی طرف روانہ ہو گئیں۔ ادھر قسطنطین نے شہر قسطنطنیہ کی فصیل کو مضبوط اور بندرگاہ کو حفاظتی سامانوں سے محفوظ کرنا شروع کر دیا۔ خاص شہر قسطنطنیہ کی آبادی میں ایک لاکھ سے زیادہ آدمی موجود تھے۔ باشندوں سے چندے وصال کئے گئے اور عام طور پر عیسائیوں کو ترغیب دی گئی کہ اب وہ آرام طلبی کو چھوڑ کر شہر کی حفاظت اور دشمن کے حملہ کی مدافعت میں اپنی تمام طاقتیں صرف کر دیں۔ یورپ کے عیسائی مؤرخ حتیٰ کہ اڈمنڈ اولیور اور ای ایس کریسی بھی جو اپنی بے تعصبی اور راست گفتاری کے لئے شہرت رکھتے ہیں۔ فتح قسطنطنیہ کے حالات بیان کرتے ہوئے اپنے یورپی اور عیسائی تعصب سے مغلوب ہو جاتے ہیں یہ لوگ کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح سلطان محمد خان ثانی کے اس کارنامہ کو حقیر کر کے دکھائیں اور جس طرح ممکن ہو سلطان محمد خان ثانی کی ذات پر کوئی نہ کوئی الزام لگائیں۔ چنانچہ یہ لوگ قسطنطین کی فوج اور اس کی جنگی تیاریوں کو بیان کرتے ہوئے ہچکچاتے ہیں کیونکہ اس طرح ان کو سلطان محمد خان ثانی کی غیر معمولی شجاعت اور حیرت انگیز استقلال کا اقرار کرنا پڑتا ہے۔ بہرحال سلطان محمد خان ثانی کے آفتاب سے زیادہ روشن کارنامے ان منصف مزاج عیسائی مورخوں نے بھی خون کے گھونٹ پی پی کر لکھے ہیں۔
سلطان محمد خان ثانی نے اپنے ایک ہوشیار آہنگر اربان نامی نومسلم کو جو ہنگری کا قدیم باشندہ اور اسلام قبول کرنے سے پیشتر قسطنطین کا نوکر رہ چکا تھا حکم دیا کہ وہ بڑی بڑی زبردست مار کی توپیں بنانا شروع کرے چنانچہ متعدد توپیں تیار ہوئیں جن میں بعض بہت ہی بڑی اور وزنی گولہ پھینکنے والی تھیں۔ چند سال پیشتر یعنی سلطان مراد خان ثانی کے عہد حکومت سے سلطنت عثمانیہ نے لڑائیوں میں توپوں کا استعمال شروع کر دیا تھا۔ مگر ابھی تک یہ کوئی بہت کار آمد آلہ جنگ نہ تھا قلعوں کی دیواریں مسمار کرنے میں توپ کا مرتبہ منجنیق سے کچھ زیادہ بلند نہ تھا چنانچہ یہ توپیں جو سلطان محمد خان نے اربان سے تیار کرائیں اور جن کی نقل و حرکت اور ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے میں بڑی دقت اور دشواری پیش آتی تھی۔ وہ ایسی تھیں کہ ایام محاصرہ میں صبح سے شام تک ان سے صرف سات آٹھ مرتبہ فائر ہو سکتے تھے۔ چنانچہ اسی لئے محاصرہ قسطنطنیہ میں یہ کچھ بہت مفید ثابت نہیں ہوئیں۔ اسی طرح قسطنطین نے بھی اپنے توپ خانہ کو بہت مکمل و مضبوط بنا لیا تھا۔ فتح قسطنطنیہ کے بعد تھوڑے ہی دن گزرے تھے کہ یورپ کے عیسائی سلاطین اور عثمانیہ سلاطین نے لڑائیوں میں توپ کے استعمال کو بہت ترقی دی اور یہ بہترین آلہ جنگ متصور ہونے لگا۔
سلطان محمد خان ثانی نے اپنی سلطنت کے ہر ایک حصہ میں نظم و انتظام اور امن و امان قائم رکھنے کے لئے سب سے پہلے اپنی کوشش و توجہ منعطف کی اور جب اس طرف سے اطمینان کلی حاصل ہو گیا تو قسطنطنیہ کے محاصرے کے لئے پچاس ہزار سوار اور بیس ہزار پیدل کی ایک پرجوش اور بہادر فوج منتخب کی۔ سلطان محمد خان ثانی کی فوج کا ستر ہزار ہونا کریسی نے بیان کیا ہے جو یقیناً مبالغہ سے خالی نہیں کیونکہ دوران محاصرہ میں جو ۶ اپریل سے ۲۹ مئی ۱۴۵۳ء تک یعنی سات ہفتے قائم رہا اس ستر ہزار فوج کے لئے سامان رسد کا مہیا ہونا ان حالات میں کوئی آسان کام نہ تھا۔
۸۵۶ھ مطابق ۱۴۵۲ء سے طرفین کی جنگی تیاریاں علانیہ شروع ہو گئی تھیں قیصر قسطنطین نے قسطنطنیہ کے اندر سامان رسد اور غلہ وغیرہ حد سے زیادہ جمع کر لیا تھا۔ یورپ کے ملکوں سے نہ صرف جنگ جو لوگوں کے جہاز آ رہے تھے بلکہ سامان جنگ اور سامان خوردو نوش سے لدی ہوئی کشتیوں کا بھی تانتا بندھا ہوا تھا۔ اٹلی اور دوسرے ملکوں سے معمار و انجینئر اور تجربہ کار جنگی سردار شہر قسطنطنیہ کی مضبوطی کے سامانوں کو مکمل کرنے کے لئے موجود ہو گئے تھے۔ سمندر کی جانب بندرگاہ کے دہانہ پر ایک مضبوط آہنی زنجیر اس طرح دونوں طرف باندھی گئی تھی کہ کسی جہاز کا بندرگاہ میں داخل ہونا ممکن نہ تھا۔ ہاں جب شہر والے خود چاہتے تھے کہ جہاز کو اندر آنے دیں تو اس زنجیر کو سمندر کی گہرائی میں ڈھیلا کر کے ڈال دیتے تھے۔ اور جہاز اندر داخل ہو جاتا تھا اس کے بعد زنجیر کو کھینچ دیا جاتا تھا اور پھر کسی غیر جہاز کا داخل ہونا غیر ممکن ہوتا تھا۔ شہر کی فصیل چودہ میل کے قطاع دائرہ میں نہایت مضبوط اور ناقابل تسخیر تھی سمندر کی جانب یعنی جس طرف بندرگاہ تھی فصیل کسی قدر نیچی اور کمزور تھی کیونکہ اس طرف سے کسی حملہ یا محاصرہ کی توقع نہیں ہو سکتی تھی۔ فصیل کے چاروں طرف گہری خندق جو ناقابل گذر تھی کھدی ہوئی تھی۔ فصیل کے باہر بھی جابجا مضبوط برجوں کے ذریعہ خندق و فصیل کی حفاظت کے لئے توپیں اور مضبوط فوجی دستے تیر اندازوں کے مامور تھے۔ پرانی تعمیر کے برجوں اور دیوار کے ان حصوں کو جو بھاری توپوں کے چڑھانے اور ان سے فائر کرنے کی حالت میں شکستہ ہو جانے کی استعداد رکھتے تھے ازسر نو مضبوط و مستحکم بنایا گیا۔ اس طرح قسطنطنیہ کی حفاظت کا جس قدر سامان اور اہتمام ہو سکتا تھا وہ بہ درجہ اتم پورا کر لیا گیا تھا۔
سلطان بایزید یلدرم نے آ بنائے باسفورس کے تنگ ترین مقام کے ایشیائی ساحل پر ایک قلعہ بنایا تھا۔ سلطان محمد خان ثانی نے جب قسطنطنیہ کی فتح کا ارادہ کیا تو اس قلعہ کے مقابل یورپی ساحل پر ایک قلعہ بنانا شروع کیا اور یہی گویا اس کی سب سے پہلی علی الاعلان جنگی تیاری تھی۔ یہ قلعہ بہت جلد بن کر تیار ہو گیا اور اس پر توپیں چڑھا دی گئیں جیسا کہ مقابل کے ایشیائی قلعہ پر بھی توپیں موجود تھیں۔ اس طرح آبنائے باسفورس کا دروازہ سلطان محمد خان ثانی نے بند کر دیا اور بحر اسود کو بحر مار مورہ سے جدا کر کے قیصر کے جہازوں کو بحراسود میں آنے سے روک دیا۔ لیکن اس سے قسطنطیں کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا تھا کیونکہ اس کو در دانیال کے ذریعہ یورپی ممالک یعنی اٹلی واسپین وغیرہ سے امداد پہنچ رہی تھی۔ سلطان محمد ثانی کے پاس کل تین سو کشتیاں بتائی جاتی ہیں جو قریباً سب بہت چھوٹی چھوٹی تھیں اور ان میں سے ایک بھی ایسی بڑی نہ تھی جو قسطنطین کے چودہ بڑے بڑے جنگی جہازوں میں سے کسی چھوٹے سے چھوٹے جہاز کے برابر ہو۔