رومی سلطنت
سلطان مراد خان ثانی
سلطان مراد خان ثانی ۸۰۶ھ میں پیدا ہوا تھا۔ اٹھارہ سال کی عمر میں بمقام دارالسلطنت ایڈریا نوپل (اورنہ) باقاعدہ تخت سلطنت پر جلوس کیا اور اراکین سلطنت نے اطاعت و فرمان برداری کی بیعت کی۔ اس نوجوان سلطان کو تخت نشین ہوتے ہی مشکلات و خطرات سے سابقہ پڑا۔ یعنی قسطنطنیہ کے عیسائی بادشاہ نے سلطان محمد خان کے فوت ہونے کی خبر سنتے ہی اپنے قیدی مصطفیٰ کو اپنے سامنے بلا کر اس بات کا اقرار نامہ لکھایا کہ اگر میں سلطنت عثمانیہ کا مالک ہو گیا تو بہت سے مضبوط قلعے اور صوبے۔ (جن کی اقرار نامہ میں تفصیل درج تھی) قیصر قسطنطنیہ کے سپرد کروں گا اور ہمیشہ قیصر کا ہوا خواہ رہوں گا۔ اس کے بعد قیصر قسطنطنیہ نے اپنے جہازوں میں اس کے ساتھ ایک فوج سوار کرا کر سب کو سلطنت عثمانیہ کے یورپی علاقے میں اتار دیا تاکہ وہ سلطان مراد خان کے خلاف ملک پر قبضہ کرے چونکہ یہ مصطفیٰ اپنے آپ کو سلطان محمد خان کا بھائی اور بایزید یلدرم کا بیٹا بتاتا تھا اور اس کے اس دعوے کی تصدیق یا تکذیب میں ترک مترود تھے۔ لہٰذا بہت سے عثمانی سپاہی اس سے آ ملے اور اس کی طاقت بہت بڑھ گئی اس نے شہروں پر شہر فتح کرنے شروع کر دیئے۔ مراد خان نے جو فوج اس کے مقابلہ کو بھیجی اس کا اکثر حصہ مصطفیٰ سے آ ملا اور باقی شکست کھا کر بھاگ آیا۔ اس کے بعد سلطان مراد خان نے اپنے سپہ سالار بایزید پاشا کو ایک معقول جمعیت کے ساتھ اس باغی کی سرکوبی کے لیے روانہ کیا۔ لیکن معرکہ جنگ میں بایزید پاشا مارا گیا اور مراد کی فوج کو شکست فاش حاصل ہوئی اس فتح و فیروزی کے بعد مصطفیٰ کی ہمت بہت بڑھ گئی اور اس نے یہی مناسب سمجھا کہ میں پہلے تمام ایشیائے کوچک پر قابض ہو جائوں۔ کیونکہ یورپی علاقے میں اس کو توقع تھی کہ قیصر قسطنطنیہ اور مغربی حدود کے عیسائی سلاطین سے مجھ کو مراد خان کے خلاف ضروری امداد ملے گی اور ایشیاء پر قابض ہونے کے بعد یورپی علاقے سے مراد خان کا بے دخل کرنا بہت آسان ہو گا۔ چنانچہ اس نے آ بنائے کو عبور کر کے ایشیائے کوچک میں تاخت و تاراج شروع کر دی۔ مراد خان ثانی نے ان خطرناک حالات کو دیکھ کر تامل کرنا مناسب نہ سمجھ کر بذات خود مصطفیٰ کا تعاقب کرنا ضروری سمجھا اور فوراً ایشیائے کوچک میں پہنچ کر اس کو شکست دینے میں کامیاب ہوا۔ مراد خان کے میدان جنگ میں آتے ہی ترکی سپاہی جن کو اس عرصہ میں مصطفیٰ کے دعوے میں جھوٹ اور افتراکا یقین ہو گیا تھا اس کا ساتھ چھوڑ چھوڑ کر مراد خان کے پاس آنے لگے۔ مصطفیٰ اپنی حالت نازک دیکھ کر ایشیائے کوچک سے بھاگا اور گیلی پولی میں آ کر تھسلی وغیرہ پر قابض ہو گیا۔ مراد خان بھی اس کے پیچھے گیلی پولی پہنچا۔ یہاں ایک معرکہ میں اس کو شکست فاش دے کر اس کی طاقت کا خاتمہ کر دیا۔ مصطفیٰ یہاں سے ایڈریا نوپل کی طرف بھاگا۔ تاکہ دارالسلطنت پر قابض ہو جائے مگر ایڈریا نوپل میں وہ گرفتار کر لیا گیا۔ اور شہر کے ایک برج میں پھانسی پر لٹکا کر اس کا خاتمہ کر دیا گیا۔
اس کے بعد سلطان مراد خان نے جنیوا کی ریاست سے جو قیصر قسطنطنیہ سے رقابت رکھتی تھی۔ دوستی کا عہد نامہ کیا اور قسطنطنیہ پر اس لیے چڑھائی کی تیاریاں کیں کہ قیصر قسطنطنیہ نے ہی مصطفیٰ باغی سے یہ فتنہ برپا کرایا تھا۔ قیصر پلیولوگس والی قسطنطنیہ نے جب یہ سنا کہ سلطان مراد خان ثانی قسطنطنیہ پر حملہ کی تیاریاں کر رہا ہے تو اس کو بہت فکر پیدا ہوئی۔ اور اس نے اس فوری مصیبت کو ملتوی کرنے کے لیے قسم قسم کی تدابیر سوچیں؟ مینڈھے لڑانے اور سلطنت عثمانیہ کے خلاف بغاوتیں برپا کرا دینے میں اس کو بہت کمال حاصل تھا اور اسی تدبیر سے وہ عثمانیہ سلطنت کو مشکلات میں مبتلا رکھ کر اپنی حکومت کو اب تک بچائے ہوئے تھا مگر اس مرتبہ وہ بجز اس کے اور کچھ نہ کر سکا کہ اس نے اپنے سفیر سلطان کی خدمت میں روانہ کیے تاکہ قصور کی معافی طلب کر کے آئندہ صلح کا عہد نامہ دب کر کرے۔ لیکن سلطان مراد خان نے ان سفیروں کو نہایت حقارت کے ساتھ واپس کر دیا۔ اور اپنے دربار میں بازیاب نہ ہونے دیا۔
اس کے بعد شروع جون ۱۴۲۲ء مطابق ۸۲۶ھ میں بیس ہزار انتخابی فوج لے کر سلطان مراد خان ثانی قسطنطنیہ کے سامنے آموجود ہوا۔ بڑی سختی اور شدت سے شہر کا محاصرہ کیا گیا۔ خلیج قسطنطنیہ پر لکڑی کا ایک پل تیار کر کے محاصرہ کو مکمل کیا۔ شہر قسطنطنیہ کا فتح کرنا کوئی آسان کام نہ تھا مگر سلطان مراد خان نے ایسے عزم و ہمت سے کام لیا اور محاصرہ میں سرنگون۔ منجنیقوں و مدموں‘ متحرک میناروں کو اس طرح کام میں لایا کہ دم بہ دم فتح کی امید یقین سے تبدیل ہونے لگی۔ اس دوران محاصرہ میں قیصرہ بھی بے فکر نہ تھا اس نے ایک طرف تو مدافعت میں ہر قسم کی کوشش شروع کی اور دوسری طرف ایشیائے کوچک میں فساد برپا کرانے اور مراد خان ثانی کے لیے مشکلات پیدا کرنے کی ریشہ دوانیوں میں مصروف رہا۔ قسطنطنیہ کے فتح ہونے میں ہفتوں نہیں بلکہ دنوں اور گھنٹوں کی دیر رہ گئی تھی کہ مراد خان ثانی کو محاصرہ اٹھا کر اور اب تک کی تمام کوشش کو بلا نتیجہ چھوڑ کر اسی طرح ایشیائے کوچک کی طرف جانا پڑا جس طرح کہ اس کا دادا بایزید یلدرم عین وقت پر قسطنطنیہ سے محاصرہ اٹھا کر ایشیائے کوچک کی طرف تیمور کے مقابلہ کو روانہ ہو گیا۔
تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ سلطان محمد خان جب فوت ہوا ہے تو اس نے چار بیٹے چھوڑے تھے۔ جن میں دو تو بہت ہی کم عمر اور چھوٹے بچے تھے اور دو نوجوان کہے جا سکتے تھے جن میں ایک سب سے بڑا مراد خان ثانی تھا جس کی ۱۸ سال کی عمر اور دوسرا مصطفٰے نامی تھا جس کی عمر باپ کی وفات کے وقت پندرہ سال تھی مراد خان ثانی نے تخت نشین ہو کر اپنے دونوں چھوٹے بھائیوں کو تو بروصہ میں پرورش پانے کے لئے بھیج دیا تھا جہاں ان کے لئے تعلیم و تربیت اور راحت و آرام کا ہر ایک سامان موجود کر دیا تھا اور تیسرے بھائی مصطفٰے کو جو مراد ثانی سے تین سال عمر میں چھوٹا تھا ایشیائے کوچک میں بطور عامل یا بطور سپہ سالار عزت کے ساتھ مامور کیا تھا۔ مراد ثانی جب اپنے فرضی چچا مصطفٰے کے فتنے کو فرو کر چکا اور مصطفٰے ایڈریا نوپل میں پھانسی پا چکا تو قیصر پلیولوگس نے اس دوسرے مصطفٰے پر ڈورے ڈالنے شروع کئے اور اپنے جاسوسوں اور لائق سفیروں کے ذریعہ مراد ثانی کے بھائی مصطفٰے کو مسلسل یہ توقع دلاتا رہا کہ میں تم کو زیادہ مستحق سلطنت سمجھتا ہوں اور اگر تم سلطنت کے مدعی بن کر کھڑے ہو جائو تو تمھاری ہر ایک قسم کی امداد کو موجود ہوں۔ ادھر اس نے ایشیائے کوچک کے سلجوقی سرداروں کو جواب تک قونیہ اور دوسرے شہروں میں سلطنت عثمانیہ جاگیر داروں کی حیثیت سے موجود اور خاندان سلطنت سے رشتہ داریاں بھی رکھتے تھے مراد ثانی کے خلاف اور مصطفٰے خان برادر مراد خان کی اعانت پر آمادہ کرنے کی خفیہ تدبیریں جاری کر دی تھیں۔ آخر وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب ہوا۔
مصطفٰے خان نے سلجوقی امیروں کی امداد سے خروج کر کے علم بغاوت بلند کیا اور ٹھیک اس وقت جب کہ ادھر مراد خان قسطنطینہ کو فتح کرنے والا تھا۔ مصطفٰے خان نے ایشیائے کوچک کے بہت سے شہروں اور ضروری مقاموں پر قبضہ کر کے بروصہ کے حاکم کا بروصہ میں محاصرہ کر لیا۔ یہ خبر سن کر کہ ایشیائے کوچک کی فوج باغی ہو کر مصطفٰے کے ساتھ شامل ہو گئی ہے اور ایشیائے کوچک قبضہ سے نکلا جاتا ہے۔ مراد ثانی سراسیمہ ہو گیا۔ اور فوراً محاصرہ اٹھا کر اور مصطفٰے کا تدارک ضروری سمجھ کر ایشیائے کوچک کی طرف روانہ ہوا۔ مراد خان ثانی کے ایشیائے کوچک میں پہنچتے ہی فوج کے اکثر سپاہی مصطفٰے خان کا ساتھ چھوڑ چھوڑ کر مراد خان کے پاس چلے آئے مراد خان کی فوج نے مصطفٰے خان کو شکست دے کر قتل کر دیا۔ اور اس طرح بہت جلد ایشیائے کوچک کا فتنہ قابو میں آ گیا۔ اس کے بعد قریباً ایک سال تک مراد خان نے ایشیائے کوچک میں مقیم رہ کر وہاں کے تمام سرکش امراء کو قرار واقعی سزائیں دے کر اپنی حکومت و سلطنت کو مضبوط بنایا۔ ۸۲۸ھ میں سلطان مراد خان ثانی ایشیائے کوچک سے یورپ کی طرف آیا تو قیصر قسطنطنیہ سے تیس ہزار ڈاکٹ سالانہ بطور خراج اور کئی اہم مقامات لے کر صلح کر لی اور دوبارہ قسطنطنیہ کا محاصرہ نہیں کیا۔ اس کے بعد سلطان مراد خان اپنی سلطنت کے اندرونی انتظام اور فلاح و بہود رعایا کے کاموں میں مصروف ہوا۔ اور کسی عیسائی یا غیر عیسائی ریاست کو مطلق نہیں چھیڑا۔ ہاں اپنے عہد ناموں کی پابندی ان سے ضرور کراتا رہا۔
۸۳۱ھ میں سرویا کا بادشاہ اسٹیفین جو سلطنت عثمانیہ کا باج گزار اور وفادار تھا فوت ہوا اس کی جگہ جارج پر نیک وچ تخت نشین ہوا۔ سرویہ کا یہ نیا بادشاہ جارج چونکہ اپنے پیشرو کی طرح مآل اندیش و سنجیدہ مزاج نہ تھا اس لیے قیصر قسطنطنیہ کو اس طرف ریشہ دوانیوں کا موقعہ مل گیا اور وہ اندر ہی اندر جارج اور ہنگری والوں کو سلطان مراد خان کے خلاف برانگیختہ کرنے میں مصروف رہا۔ ہنگری والے بھی اب چونکہ نکوپولس کی شکست کے تلخ تجربہ کو بھول چکے تھے۔ لہٰذا وہ بھی عثمانی سلطنت کے خلاف تیاریاں کرنے لگے اور کئی سال تک ان تیاریوں کے سلسلے کو جاری رکھا۔ سلطان مراد خان ثانی نے ۸۳۴ھ میں جزیرہ زانٹی اور یونان کا جنوبی حصہ اور سالونیکا کا علاقہ فتح کر کے وینس والوں کو شکست فاش دی اور وینس کی ریاست نے نہایت ذلیل شرطوں پر دب کر سلطان سے صلح کر لی۔ وینس چونکہ بادشاہ قسطنطنیہ کا طرف دار تھا۔ اس لیے شاہ قسطنطنیہ کو اور بھی زیادہ ملال ہوا اور وہ اپنے سازشی کاموں میں پہلے سے دگنی توجہ کے ساتھ مصروف ہو گیا۔ ادھر سلطان مراد نے بہ تدریج اپنے مقبوضات کو یورپ میں ترقی دینی شروع کی۔ البانیا اور بوسنیا والوں نے بھی سرویا اور ہنگری کی طرح سلطان کے خلاف عیسائیوں کی سازش میں شرکت اختیار کی۔ سرویا اور رومانیا کے شمال میں صوبہ ٹرانسلونیا کے عیسائیوں نے ۸۴۲ھ میں علم مخالفت بلند کیا تو سلطان نے اس طرف حملہ آور ہو کر ستر ہزار عیسائیوں کو میدان جنگ میں قید کیا اور اپنی قوت و سطوت کی دھاک بٹھا کر وہاں سے واپس ہوا انہیں دنوں ہنگری میں لیڈ سلاس تخت نشین ہوا۔ وہ ترکوں کا سخت مخالف اور دشمن تھا اس کے تخت نشین ہونے سے عیسائیوں کی سازش کو بہت تقویت پہنچی۔ انہی ایّام میں مغربی یورپ کی بعض لڑائیوں میں شریک رہنے اور تجربہ حاصل کرنے کے بعد جان ہنی ڈیز یا جان ہنی داس ایک شخص جو شاہ سجمنڈ کا جائز بیٹا تھا ہنگری کی طرف واپس آیا۔ اس کا باپ سجمنڈ تھا۔ اور اس کی ماں الزبتھ مارسی نامی ایک حسین اور فاحشہ عورت تھی۔ ہنی داس نے ہنگری میں آ کر فوراً سپہ سالاری کا منصب حاصل کر لیا۔ اور ترکوں کے خلاف فوجیں لے کر اٹھ کھڑا ہوا۔ اس نے صوبہ ٹرانسلونیا سے ترکوں کو خارج کر دیا۔ ترکی جرنیل مزید بیگ جو اس نواح میں عامل و منتظم تھا۔ مع اپنے بیٹے کے مارا گیا۔ اور بیس ہزار ترکی فوج میدان میں کھیت رہی۔ جو ترک زندہ قید ہوئے تھے ان کے ساتھ ہنی داس نے یہ سلوک کیا کہ جب اس فتح کی خوشی میں ہنگری کے اندر ضیافتیں ہوتی تھیں تو ضیافت کے موقعہ پر ان ترک قیدیوں کی ایک تعداد لے جا کر ان لوگوں کے سامنے قتل کی جاتی تھی جو اس خوشی کی تقریب میں شریک ہوتے تھے۔ اس طرح گویا خوشی کے جلسوں میں ان ترک قیدیوں کا قتل کرنا ایک دل چسپ سامان تفریح سمجھا گیا تھا۔ سلطان مراد خان کے پاس ادھر اس مذکوہ شکست کی خبر پہنچی ادھر ایشیائے کوچک سے خبر آئی کہ قونیہ میں بغاوت کا جھنڈا بلند ہو گیا ہے جو سلطان کے لیے بے حد موجب خطر ہے۔ سلطان مراد خان نے ہنی داس اور ہنگریوں سے بدلہ لینے کے لیے اسی ہزار فوج دے کر اپنے ایک سپہ سالار کو روانہ کیا اور خود ایشیائے کوچک کی طرف روانہ ہوا یہ واقعہ ۸۴۷ھ کا ہے۔
ترکوں کی اس فوج کو شکست دینے اور ترکوں کو برّاعظم یورپ سے نکالنے کے لیے یورپ میں اب کی مرتبہ ایسا جوش پیدا ہوا کہ اس سے پہلے کبھی نہ دیکھا گیا تھا۔ ہنگری کا بادشاہ لیڈ سلاس اور ہنگری کا سپہ سالار ہنی داس اس قدر مشہور ہو گئے تھے اور ان کی بہادری کے افسافے اس طرح یورپ میں ہر جگہ پہنچ گئے تھے کہ ہر ایک ملک کے عیسائی نے ان کی فوج میں شریک ہونے اور مجاہد کہلانے کا شوق ظاہر کیا۔ روما کے پوپ جان اور اس کے سفیر کار ڈنیل جولین نے مجاہدین کے تیار کرنے اور اپنے وعظوں سے عیسائیوں کو اس لڑائی میں شریک کرنے کی بے حد ترغیب دی۔ ہنگری‘ سرویا‘ ولیشیا‘ پولینڈ‘ جرمنی‘ اٹلی‘ فرانس‘ آسٹریا‘ بوسینا‘ البانیہ وغیرہ کی فوجیں ہنی داس کے جھنڈے کے نیچے آ کر جمع ہو گئیں۔ عثمانیوں کی فوج سے جب مقابلہ ہوا تو عیسائیوں کی اس بے شمار فوج نے ترکی فوج کو شکست دی۔ چار ہزار ترک گرفتار اور بہت سے شہید ہوئے۔ ہنی داس نے تعاقب کر کے شہر صوفیہ پر قبضہ کر لیا۔ اور تمام رومیلیا کو تاخت و تاراج کر کے اور بے شمار مال غنیمت اور قیدی لے کر اپنے ملک کو واپس ہوا۔ حالانکہ اس کے لیے بہت آسان تھا کہ وہ آگے بڑھ کر ایڈریا نوپل پر قبضہ کر لیتا۔ مگر ایڈریا نوپل پر حملہ آور ہونے کی اس کو جرأت نہ ہوئی۔ سلطان مراد خان ثانی نے اس شکست اور اپنے علاقوں کی تباہی کا حال ایشیائے کوچک میں سنا۔ وہ بہت جلد ۸۴۷ھ میں ایشیائے کوچک کی بغاوت فرو کرنے کے بعد ایڈریا نوپل میں آیا اور عیسائیوں سے انتقام لینے کی تدبیر سوچنے لگا۔ انہی ایّام میں سلطان کا بڑا بیٹا علائو الدین فوت ہوا جس سے سلطان کو سخت صدمہ پہنچا اور اس کا دل سلطنت و حکومت سے برداشتہ ہو گیا۔ گذشتہ جنگ میں سلطان کا بہنوئی محمد چلپی ہنی ڈیز (ہنی داس) کی لڑائی میں گرفتار ہو گیا تھا لہٰذا اس کی بہن اور دوسرے عزیزوں نے سلطان کو مجبور کیا کہ جس طرح ہو محمد چلپی کو آزاد کرایا جائے۔ چنانچہ سلطان کو خط و کتابت کا سلسلہ ہنگری والوں کے ساتھ جاری کرنا پڑا۔ آخر اسی سلسلہ خط و کتابت نے یہ صورت اختیار کی کہ سلطان صلح پر آمادہ ہو گیا۔ سرویا کی آزادی کو سلطان نے تسلیم کر لیا وہاں کے بادشاہ جارج کو بادشاہ مان کر اپنے حقوق بادشاہی اس پر سے اٹھا لیے ولیشیا کا صوبہ ہنگری کو دے دیا اور ساٹھ ہزار ڈاکٹ زرفدیہ بھیج کر محمد چلپی کو قید سے آزاد کرایا۔ یہ عہد نامہ ہنگری اور ترکی دونوں زبانوں میں لکھا گیا۔ سلطان مراد خان ثانی اور لیڈ سلاس بادشاہ ہنگری کے اس پر دستخط ہوئے اور دونوں بادشاہوں نے قسمیں کھائیں کہ اس عہد نامہ کی پابندی کو احکام مذہبی کی طرح ضروری سمجھیں گے۔ وریا ڈینوب اس عہد نامہ کے بموجب سلطان کی عملداری کی حد قرار دیا گیا۔ اس طرح ۱۲ جولائی ۱۴۴۴ء مطابق ۸۴۸ھ کو دس برس کے لیے سلطان مراد خان ثانی اور عیسائیوں کے درمیان صلح قرار پا گئی۔ اس صلح نامہ کی تکمیل سے فارغ ہوتے ہی سلطان مراد خان نے یہ سمجھ کر کہ اب دس سال کے لیے امن و امان قائم رہے گا۔ نیز اپنے بیٹے کی وفات کے سبب افسردہ خاطر ہو کر سلطنت کو چھوڑ دینے پر آمادہ ہو گیا۔ چنانچہ اس نے اپنے دوسرے بیٹے محمد خان کو ایڈریا نوپل میں تخت نشین کیا۔ محمد خان چونکہ بہت ہی نو عمر تھا۔ اس لیے تجربہ کار اور بہادر وزیروں اور سپہ سالاروں کو اس کا مشیر بنایا اور خود ایشیائے کوچک میں جا کر درویشوں اور زاہدوں کی مجلس میں شریک ہوا اور گوشہ نشینی کی زندگی بسر کرنے لگا۔
سلطان مراد خان ثانی کی تخت سلطنت سے دست برداری اور ایک نو عمر شہزادے محمد خان کی تخت نشینی کا حال سن کر عیسائیوں کے دہان حرص میں پھر پانی بھر آیا اور انہوں نے اس موقعہ کو بہت مناسب سمجھ کر عہد شکنی پر آمادگی ظاہر کی اور ارادہ کیا کہ ترکوں کی نسلوں کو اس وقت یورپ سے نسیت و نابود کر دیا جائے۔ ہنگری کا بادشاہ لیڈ سلاس جس نے ابھی چند روز ہوئے قسم کھائی تھی۔ اور عہد نامہ پر دستخط کر کے اس بات کا اقرار کیا تھا کہ اس کی پابندی مذہبی احکام کی طرح کروں گا۔ عہد شکنی میں متامل تھا۔ لیکن پوپ اور اس کے نائب کارڈنل جولین نے اس کو یقین دلا کر کہ مسلمانوں کے ساتھ عہد و پیمان کا نباہنا گناہ ہے اور عہد شکنی موجب ثواب ہو گی اس کو آمادہ کر لیا۔ ادھر ہنی داس سپہ سالار ہنگری بھی اس قدر جلد عہد نامہ کے توڑنے کو موجب رسوائی سمجھتا تھا۔ لیکن اس کو دربار ہنگری کی طرف سے لالچ دیا گیا کہ بلگیریا کو فتح کر کے تم کو وہاں کا بادشاہ بنا دیا جائے گا۔ چنانچہ وہ بھی رضا مند ہو گیا۔ ابھی صلح نامہ کو لکھے ہوئے ایک مہینہ بھی نہیں ہوا تھا کہ اس کے توڑنے پر عیسائی متفق ہو گئے۔ سرویا سے ترک سپاہی عہد نامہ کی شرائط کے موافق جا رہے تھے اور سرویا کا تمام علاقہ ترکی سپاہ سے خالی ہو رہا تھا۔ اس تخلیہ کا چند روز انتظار کیا گیا اور عہد نامہ کی تحریر سے پورے پچاس دن کے بعد یکم ستمبر ۱۴۴۴ھ مطابق ۸۴۸ھ کو ہنگری کی فوجوں نے بڑھ کر بے خبر ترکی سرحدی چوکیوں کی فوج پر حملہ کیا اور بلگیریا کے راستے بحرا سود کے کنارے پہنچ کر وہاں سے جنوب کی جانب متوجہ ہو کر شہر وارنا کا محاصرہ کر لیا اور بالآخر وارنا کو ہنی داس نے فتح کر لیا۔ اس سے پہلے عیسائیوں نے بڑی بے رحمی اور سفاکی مسلمانوں کے قتل عام میں دکھائی۔ عیسائیوں کی اس فوج کشی اور عہد شکنی کا حال فوراً ایشیائے کوچک میں سلطان مراد ثانی سے جو ترک سلطنت کے بعد گوشۂ نشین ہو چکا تھا جا کر بیان کیا گیا۔ اور اس سے استدعا کی گئی کہ آپ گوشہ عزلت سے قدم باہر نکالیں اور سلطنت عثمانیہ کو بچائیں۔ چنانچہ مراد خان ثانی بلا تامل ایڈریا نوپل پہنچا اور وہاں سے وارنا کی طرف روانہ ہوا۔ عیسائی فتح مند لشکر وارنا کے قریب میدان میں خیمہ زن تھا۔ اور اپنی فتح مقصدوری کا اس کو کامل یقین تھا کہ ہنی داس کے مخبروں نے آ کر اس کو خبر سنائی کہ سلطان مراد خان گوشہ عزلت سے نکل کر اور چالیس ہزار بہادر سپاہیوں کو لے کر خود مقابلہ پر آ پہنچا ہے اور یہاں سے چار میل کے فاصلہ پر آ کر خیمہ زن ہوا ہے یہ سنتے ہی ہنی داس اور شاہ ہنگری نے مجلس مشورت منعقد کی اور اس کے بعد صفوف جنگ کی آراستگی میں مصروف ہو گئے عیسائیوں کی فوج کے میسرہ میں ولیشیا کی فوج تھی ہنگری کے انتخابی سپاہی میمنہ پر مامور کیے گئے۔ کارڈنل جولین کے زیر اہتمام عیسائی مجاہدین کا ایک لشکر عظیم تھا۔ بادشاہ ہنگری اپنے ملک کے سرداروں اور بہادر سواروں کے ساتھ قلب لشکر میں تھا پولینڈ کی فوج سب سے پیچھے ایک مشہور بشپ کے زیر کمان تھی۔ ہنی داس اس تمام لشکر عظیم کا سپہ سالار اعظم تھا۔ سلطان مراد خان ثانی نے بھی اپنے میمنہ و میسرہ کو درست کیا اور اس صلح نامہ کی نقل کر کے نیزہ کی نوک پر رکھ کر اپنا علم بنایا جو شاہ ہنگری نے لکھ کر سلطان مراد خان کو دیا تھا۔ ۱۰ نومبر کو وارنا کے میدان میں یہ لڑائی شروع ہوئی جب کہ دو مہینے اور دس روز عیسائیوں کو عہد نامہ توڑے اور سلطنت عثمانیہ کے شہروں کو برباد کرتے ہوئے گذر چکے تھے۔ ہنی داس نے داہنی طرف سے عثمانی فوج کے ایشیائی دستوں پر اس زور شور کا حملہ کیا کہ ترکی لشکر کے پائوں اکھڑ گئے دوسری طرف والیشیا والوں نے بھی اسی طرح پر جوش حملہ کیا اور عثمانی فوج کا دوسرا بازو بھی قائم نہ رہ سکا۔ سلطان مراد خان ثانی جو اپنی رکابی فوج کے ساتھ پشت لشکر پر کھڑا ہوا یہ رنگ دیکھ رہا تھا سخت مضطرب ہوا اسی اثنا میں ہنگری کے بادشاہ لیڈ سلاس نے قلب عثمانی پر نہایت سخت حملہ کیا۔ اور صفوں کو چیرتا ہوا اس مقام تک پہنچ گیا جہاں سلطان مراد خان ابھی تک اپنی جگہ پر قائم اور اپنی فوج کی ہزیمت اور عیسائیوں کے زبردست حملوں کو پریشانی کے عالم میں دیکھ رہا تھا۔ سلطان کو اپنی شکست فاش کا کامل یقین ہو چکا تھا اور وہ یہ سوچ رہا تھا کہ گھوڑا بھگا کر میدان جنگ سے اپنی جان بچا کر لے جائے یا دشمنوں کے لشکر پر حملہ آور ہو کر جام شہادت نوش کرے کہ سامنے سے لیڈ سلاس شاہ ہنگری سلطان کو بڑے کبرو نخوت کے ساتھ اپنے مقابلہ پر للکارتا ہوا نمودار ہوا۔ سلطان نے فوراً کمان میں ایک تیر جوڑ کر مارا جس سے شاہ ہنگری کا گھوڑا زخمی ہو کر گر پڑا اور نیگ چری فوج کے ایک بوڑھے سپہ سالار خواجہ خیری نے فوراً آگے بڑھ کر لیڈ سلاس کا سر کاٹ لیا۔ اور ایک نیزہ کی انی پر رکھ کر اس عہد نامہ کے ساتھ ہی بلند کر دیا۔ شاہ ہنگری کے اس کٹے ہوئے سر کو دیکھ کر عیسائی لشکر میں ابتری اور ہل چل مچ گئی اور وہ ترک جو پسپا ہوتے چلے جا رہے تھے اب ہمت کر کے آگے بڑھنے لگے۔ ہنی داس نے اس سر کو دیکھ کر اس کے چھیننے کی کوشش میں کئی زبردست حملے سلطانی لشکر کے اس حصہ پر کیے جہاں شاہ ہنگری کا وہ سر نیزہ پر رکھا ہوا تھا مگر اس کو ہر مرتبہ شکست ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے مسلمانوں نے عیسائیوں سے میدان خالی کرا لیا۔ اس لڑائی میں کارڈنل جولین بھی جو پوپ کا نائب اور عیسائی مجاہدین کا سپہ سالار اور مسلمانوں کا سخت دشمن تھا مارا گیا۔ بشپ اور دوسرے تمام سردار بھی اس لڑائی میں مقتول ہوئے۔ ایک ہنی داس اپنی جان بچا کر میدان سے بھاگا۔ ہنگری کی تمام فوج ترکوں کے ہاتھ سے مقتول ہوئی۔ اس فتح مبین کے بعد عثمانی فوج نے سرویا کو فتح کر کے اپنی حکومت میں شامل کیا اسی طرح بوسینیا بھی مفتوح اور وہاں کا شاہی خاندان نیست و نابود ہو کر سلطنت عثمانیہ میں شامل ہوا۔ عیسائیوں کی اس عہد شکنی کا بعض عیسائی خاندانوں پر یہ اثر پڑا کہ سرویا اور بوسنیا میں بہت سے عیسائی خود بخود مسلمان ہو گئے۔ سلطان مراد خان نے اپنی طرف سے مذہب کے معاملے میں کسی کو بھی مجبور نہیں کیا تھا۔ بلکہ اس نے اپنی تمام عیسائی رعایا کو مثل دوسرے سلاطین عثمانی کے وہی آزادانہ حقوق دے رکھے تھے جو مسلمانوں کو حاصل تھے۔
چند مہینے کی کوشش کے بعد سلطان مراد خان ثانی نے عیسائی باغیوں کو قرار واقعی سزائیں دے کر حدود سلطنت کو پہلے سے زیادہ وسیع اور مضبوط کر کے دوبارہ پھر خلوت نشینی اور زہد و عبادت اختیار کر کے اپنے بیٹے محمد خان کو تخت سلطنت پر بٹھا دیا۔ محمد خان کے دوبارہ تخت نشین ہونے کے بعد ینگ چری فوج نے اپنی تنخواہوں اور وظیفوں میں اضافہ کا مطالبہ کیا اور جب ان کے اس نامناسب مطالبہ کے پورا کرنے میں پس و پیش ہوا تو انہوں نے بغاوت کی دھمکیاں دینی شروع کیں اور لوٹ مار پر آتر آئے۔ اس طرح فوج کے خود سر ہونے سے سلطنت عثمانیہ میں دوبارہ سخت خطرناک اور نہایت پیچیدہ حالات پیدا ہو گئے۔ اراکین سلطنت نے یہ رنگ دیکھ کر دوبارہ سلطان مراد خان کی خدمت میں حاضر ہو کر التجا کی کہ بغیر آپ کی توجہ کے حالات درست نہ ہوں گے۔ چنانچہ سلطان مراد کو مجبوراً پھر اپنے خلوت خانے سے نکلنا اور ایشیائے کوچک سے ایڈریا نوپل آنا پڑا۔ یہ ۸۴۹ھ کا واقعہ ہے۔ جب سلطان مراد خان ثانی ایڈریا نوپل پہنچا تو فوج اور رعایا نے اس کا نہایت شاندار اور پرتپاک خیر مقدم کیا۔ اس مرتبہ تخت پر جلوس کرنے کے بعد سلطان مراد خان نے اپنے بیٹے محمد خان کو جو سال بھر کے اندر دو مرتبہ تخت نشین ہو چکا تھا ایشیائے کوچک میں اس لیے بھیج دیا کہ وہ وہاں رہ کر سلطنت کے متعلق زیادہ تجربہ حاصل کرے۔ تخت پر جلوس فرمانے کے بعد سلطان مراد خان نے بغاوت و سرکشی کے اماموں کو گرفتار کرا کر خوب سزائیں دیں اور ملک کے نظم و نسق میں مصرورف ہو کر اب تیسری مرتبہ تخت کا چھوڑنا مناسب نہ سمجھا۔ مراد خان ثانی نے اس مرتبہ عنان سلطنت ہاتھ میں لے کر عیسائیوں کو پھر سر اٹھانے کا موقعہ نہیں دیا۔ لیکن بلاوجہ اس نے کسی کو ستایا بھی نہیں۔ شاہ قسطنطنیہ اگرچہ اپنی شرارتوں اور فساد انگیزیوں کے سبب عثمانیوں کا سب سے بڑا دشمن اور سب سے زیادہ منبع فساد تھا اور ساتھ ہی اس کا قلع قمع کر دینا بھی مراد کے لیے شاید کچھ زیادہ دشوار نہ تھا۔ لیکن اس نے اس کے حال پر رہنے دیا اور کوئی تعرض نہیں کیا۔ ۸۵۲ھ میں ہنی داس مذکور نے پھر عیسائی فوجیں فراہم کر کے ترکوں کے استیصال کی تیاریاں کیں اور اسی طرح عیسائی فوجیں فراہم ہوئیں جیسے کہ اس سے پہلے کئی مرتبہ ترکوں کے خلاف جمع ہو چکی تھیں۔ اس مرتبہ مقام کسودا میں معرکہ عظیم برپا ہوا اور سلطان مراد خان ثانی نے اپنے اس پرانے حریف کو تین دن کی لڑائی کے بعد شکست فاش دے کر بہت سے علاقے پر قبضہ کر لیا اور سلطنت عثمانیہ کی وسعت میں اور اضافہ ہوا۔
اس کے بعد سلطان مراد خان ثانی کا بہت سا وقت البانیہ کا فساد مٹانے میں صرف ہوا۔ لیکن وہ اپنی وفات یعنی ۸۵۵ھ تک اس فساد کا بکلی استیصال نہ کر سکا۔ البانیہ کے اس فساد کا حال اس طرح ہے کہ صوبہ البانیہ کو اگرچہ ترکوں نے بہت عرصہ پہلے فتح کر لیا تھا مگر اس صوبہ پر وہیں کا قدیم فرماں روا خاندان حکومت کرتا تھا جو ترکوں کا خراج گذار اور ہر طرح ماتحت تھا۔ جان کسٹرائٹ والی البانیہ نے سلطان مراد خان ثانی کے تخت سلطنت پر متمکن ہونے کے بعد اپنے آپ کو مور دالطاف سلطانی بنانے کے لیے اپنے چار خورد سال بیٹے سلطان کی خدمت میں اس لیے بھیج دیئے تھے کہ وہ بطور یرغمال سلطان کے پاس رہیں اور سلطان ان کو اپنی ینگ چری فوج میں داخل کرنے کے لیے تربیت دے۔ ایڈریا نوپل کی تربیت گاہ میں اتفاقاً تین چھوٹے لڑکے بیمار ہو کر مر گئے۔ یہ خبر سن کر جان کسٹرائٹ والی البانیہ نے اپنے بیٹوں کے اس طرح فوت ہونے کو شبہ کی نظر سے دیکھا اور سلطان کو لکھا کہ میرے بیٹوں کو ممکن ہے کہ کسی میرے دشمن نے زہر دیا ہو۔ سلطان مراد خان ثانی کو بھی ملال ہوا اور چوتھے لڑکے کو جو سب سے بڑا تھا اور جس کا نام جارج کسٹرائٹ تھا بہ نظر احتیاط خاص اپنے سلطانی محل میں پرورش دینے لگا۔ سلطان کو اس کا بہت خیال رہتا تھا۔ چنانچہ اس کو بطور ایک اسلامی بچہ کے شہزادوں کی طرح تربیت دی گئی۔ جب یہ لڑکا جارج کسٹرائٹ اٹھارہ سال کا ہو گیا تو سلطان نے اس کو ایک فوجی دستہ کی سرداری سپرد کی۔ اس نے نہایت ہوشیاری اور خوبی کے ساتھ اپنی مفوضہ خدمات کو انجام دیا۔ اب وہ ایک پر جوش مسلمان سردار تھا۔ سلطان نے جارج کسٹرائٹ کا نام سکندر بیگ رکھا۔ اور وہ سکندر بیگ اور لارڈ سکندر بے کے نام سے مشہور ہوا۔ ۸۳۶ھ میں اس کے باپ جان کسٹرائٹ کا البانیہ میں انتقال ہوا اس وقت سکندر سلطانی خدمات اور بعض اضلاح کی حکومت پر مامور تھا۔ سلطان نے اس کو اس کے باپ کی جگہ فرماں روائے البانیہ مقرر کرنا مناسب نہ سمجھا مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ البانیہ کے حاکم کی حیثیت سے بہت زیادہ اچھی حالت میں تھا سلطان اس کو اپنے بیٹے کی طرح سمجھتا اور وہ بڑے بڑے صوبوں کی فرماں روائی پر سلطان کی طرف سے مامور ہوتا رہتا تھا۔ سلطان مراد خان ثانی کو بھول کر بھی اس بات کا خیال نہ آتا تھا کہ سکندر بیگ کسی وقت بغاوت و سرکشی پر بھی آمادہ ہو سکتا ہے۔ لیکن ۸۴۷ھ میں ترکی فوج کو جب ہنی داس کے مقابلے میں شکست حاصل ہوئی تو سکندر بیگ نے اپنے آبائی ملک البانیہ پر بزور قبضہ کر لینے کا مصمم ارادہ کیا۔ اور وہ یکایک سلطانی میر منشی کے خیمے میں گھس گیا اور اس کے گلے پر تلوار رکھ کر اس سے زبردستی البانیہ کے صوبہ دار کے نام اس مضمون کا فرمان لکھایا کہ تم سکندر بیگ کو جو سلطان کی طرف سے بطور وائسرائے تمہارے پاس پہنچتا ہے۔ البانیہ کے دارالسلطنت اور تمام علاقے کا چارج دے دو۔ یہ فرمان لکھا کر اور مہر سلطانی سے بھی مزین کرا کر اس میر منشی کو قتل کر دیا اور وہاں سے نکل کر سیدھا البانیہ کے دارالسلطنت کی طرف چل دیا۔ تو وہاں کے صوبہ دار نے بلا تامل اس کو البانیہ کی حکومت سپرد کر دی اور رعایا نے اطاعت قبول کر لی۔ البانیہ پر اس طرح قابض ہونے کے بعد اس نے باشندگان البانیہ میں اعلان کیا کہ میں دین اسلام سے مرتد ہو کر دین عیسوی قبول کرتا ہوں اور آئندہ تمام تر کوشش اس امر میں صرف کروں گا کہ اپنے ملک کو ترکوں کی ماتحتی سے آزاد رکھوں اس اعلان کے سنتے ہی عیسائیوں میں عید ہو گئی اور البانیہ کے اندر یک لخت ترکوں کا قتل عام شروع ہو گیا۔ جس قدر ترک وہاں موجود تھے عیسائیوں نے سب کو قتل کر ڈالا۔ اور سکندر بیگ البانیہ کا خود مختار فرماں روا بن گیا۔ سکندر بیگ نے چونکہ خاص سلطانی محل میں رہ کر اعلیٰ سے اعلیٰ جنگی تربیت حاصل کی تھی اور سلطانی قرب نے اس کو ذی حوصلہ اور باہمت بنا دیا تھا۔ شہزادوں کی طرح رہنے کے سبب وہ ترکوں کو بھی خاطر میں نہ لاتا تھا خود نہایت ذہین و ذکی اور جری بھی تھا۔ نیز البانیہ کے پہاڑی ملک ہونے کے سبب وہاں کے راستے بھی چونکہ سخت دشوار گزار تھے اور حملہ آور فوج کا اس ملک میں داخل ہونا آسان کام نہ تھا ان سب وجوہات نے جمع ہو کر سکندر بیگ کو البانیہ میں فرمان روا بنا دیا۔ ادھر سلطان مراد خان ثانی کو دوسرے مکروہات سے ایسی فرصت نہیں ملی کہ وہ اپنی مکمل توجہ کے ساتھ اس کے استیصال پر آمادہ ہوتا۔ کئی مرتبہ البانیہ پر چڑھائیاں ہوئیں لیکن سکندر بیگ کی غیر معمولی بہادری اور غیر معمولی قابلیت جنگی کے سبب سلطانی فوجوں کو ناکام واپس آنا پڑا۔ سکندر بیگ نے البانیہ میں سلطانی فوج کے مقابلے میں ایسی ایسی حیرت انگیز بہادریاں دکھائیں اور اپنے آپ کو ایسا قابل جرنیل ثابت کیا کہ خود ترکوں کی بہادر قوم نے اس کی بہادری و قابلیت جنگی کا اعتراف کیا۔ سلطان مراد خان کے عہد حکومت میں وہ مغلوب و اسیر نہ ہو سکا اور البانیہ کے پہاڑوں نے اس کی خوب امداد و اعانت کی لیکن جب ۸۷۲ھ میں وہ وینس کے علاقے میں جا کر مر گیا تو ترکی سپاہیوں نے اس کی قبر کھود کر اس کی ہڈیوں کے ٹکڑوں کو محض اس لیے تلاش کیا کہ ان کو بطور تعویز گلے میں ڈالا جائے تاکہ ویسی ہی بہادری اور جنگی قابلیت اس کی ہڈیوں کے اثر سے ہم میں پیدا ہو سکے سلطان مراد نے چونکہ اس کو بیٹوں کی طرح پرورش کیا تھا اس لیے وہ سکندر بیگ کا قتل یا بربادی نہیں چاہتا تھا اور سلطان کو توقع تھی کہ وہ کسی وقت راہ راست پر آ کر اطاعت و فرماں برداری کو اختیار کر لے گا۔ سلطان کی وفات کے بعد جب سلطان محمد خان ثانی تخت نشین ہوا چونکہ وہ بھی سکندر بیگ کو بھائیوں کی طرح عزیز رکھتا تھا اس لیے اس نے سکندر بیگ سے صلح کر کے اس کو البانیہ کا حاکم تسلیم کر لیا تھا۔ لیکن سکندر بیگ نے جب پھر بھی بغاوت اختیار کی تو سلطان محمد خان ثانی نے حملہ آور ہو کر البانیہ کو فتح کر لیا اور سکندر ریاست وینس کے علاقے میں چلا گیا جہاں اس کا ۸۷۲ھ میں انتقال ہوا۔ اس کے بعد البانیہ سلطنت عثمانیہ کا صوبہ تھا۔
سکندر بیگ کا چونکہ ذکر آ گیا تھا اس لیے اس کو یہیں ختم کر دیا گیا۔ سلطان مراد خان ثانی نے ۸۵۵ھ میں وفات پائی اور لاش بروصہ میں لے جا کر دفن کی گئی۔ اس سلطان نے تیس سال حکومت کی۔ اس سلطان کے عہد حکومت میں بھی بڑے بڑے عظیم الشان واقعات رونما ہوئے اور بحیثیت مجموعی سلطنت عثمانیہ کی بنیادیں پہلے سے زیادہ استوار ہو گئیں۔ یہ سلطان بہت نیک دل۔ خدا پرست اور رحم دل تھا۔