سلطنت عثمانیہ
عثمان خان
باب : ۲۰سلطنت عثمانیہ
اوپر کے باب میں ہم پھر دسویں صدی ہجری کے شروع تک پہنچ گئے تھے۔ سلسلۂ مضامین کو مکمل رکھنے کی غرض سے ہم کو لوٹ کر پھر ساتویں صدی ہجری کے ابتدائی زمانے اور ایشیائے کوچک کے میدانوں میں واپس آنا چاہیے۔ جب کہ سلطنت عثمانیہ کا سنگ بنیاد رکھا جا رہا تھا۔ سلطنت عثمانیہ کے ابتدائی تین سو سال کی تاریخ بیان کرنے کے بعد یعنی دسویں صدی ہجری کے شروع تک پہنچ کر ہم کو غالباً پھر پیچھے واپس ہونا پڑے گا۔ تاکہ تیمور اور ایران کے صفوی خاندان کی تاریخ سے بھی فارغ ہو کر پھر دسویں صدی ہجری میں داخل ہوں اور سلطنت عثمانیہ کے بقیہ تین سو سال کی تاریخ کسی آئندہ باب میں ختم کریں و باللہ التوفیق۔
ترکوں کے ان غارت گر قبائل نے جو ترکان غز اور غزان کے نام سے مشہور ہیں خراسان و ایران میں داخل ہو کر سلطنت سلجوقیہ کے اعتبار وقار کو صدمہ پہنچایا تھا۔ ان ترکان غز کی ترک و تاز کا پتہ ملک چین کے صوبہ منچوریا سے لے کر مراکش تک تاریخوں میں ملتا ہے انہوں نے سلطان سنجر سلجوقی کو گرفتار کر کے بہت کچھ اپنی دہشت لوگوں کے دلوں میں بٹھا دی تھی۔ مگر جب چنگیز خان نے خروج کیا تو ان کا زور بہت کچھ گھٹ چکا تھا۔ رہا سہا رعب چنگیزی کشت و خون کے آگے مٹ گیا پہلے بھی یہ لوگ مختلف قبائل پر منقسم تھے۔ جب گرم بازاری جاتی رہی تھی اور بھی زیادہ تشتت اور پراگندگی نے ان میں راہ پائی کوئی قبیلہ مصر کی طرف جا کر وہاں کی فوج میں بھرتی ہو گیا۔ کوئی شام میں اور کوئی ارمینیا و آذر بائیجان میں رہنے لگا۔ چونکہ ان کے اندر کوئی ایک زبردست بادشاہ پیدا نہیں ہوا تھا۔ اس لیے ان لوگوں کے حالات تاریخوں میں بھی بالتفصیل نہیں لکھے گئے مگر ان کے اندر عرصہ دراز تک خراسان و ایران میں فاتحانہ حیثیت سے رہنے کے سبب تہذیب و شائستگی نے ضرور ترقی کی تھی اور اولوالعزمی و بلند ہمتی کی شان ان کے ہر قبیلہ اور ہر خاندان میں موجود تھی۔ حکومت و فتح مندی کے عالم میں بھی انہوں نے اپنے ریوڑوں کی محبت نہیں چھوڑی تھی۔ اس لیے اب خروج چنگیزی کے وقت کچھ تو چنگیز خان کی فوج میں داخل ہو گئے۔ اور اکثر خراسان و ایران اور دوسرے ملکوں کی سر سبز و شاداب چراگاہوں اور جنگلوں میں رہنے لگے انہی ترکان غز کا ایک قبیلہ جو خراسان میں اقامت گزیں تھا۔
ساتویں صدی ہجری کے شروع ہوتے ہی جب کہ چنگیزی مغلوں کی حملہ آوری خراسان پر شروع ہوئی خراسان سے روانہ ہو کر آرمینیا کے علاقے میں چلا آیا اور بیس پچیس سال تک آرمینیا میں مقیم رہا۔ اس قبیلہ کے سردار کا نام سلیمان خان تھا اور اس کے ساتھی سلجوقیوں کی طرح نہایت سچے مسلمان تھے۔ سلیمان خان کی قابلیت اور اپنے ہمراہیوں کے ساتھ اس کا سلوک دیکھ کر نتیجہ یہ ہوا کہ آرمینیا میں ترکان غز کے اور بھی آوارہ و پریشان پھرنے والے افراد آ آ کر اس کے گرد جمع ہو گئے اور اس جمعیت میں معتدبہ اضافہ ہوتا رہا۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ چنگیز خان کی ترک و تاز کے سبب ملکوں کا امن و امان معرض خطر میں تھا۔ اور ہر شخص کو اپنی اور اپنے اہل و عیال و اموال کی حفاظت کے لیے اپنے ہی قوت بارو پر بھروسہ کرنا پڑتا تھا۔ اور ہمہ اوقات آفتوں اور مصیبتوں کے مقابلہ پر مستعد رہنا ازبس ضروری تھا۔ لہٰذا سلیمان خان کے گروہ کو بھی جو آرمینیا کے پہاڑوں میں اقامت گزین تھا۔ اپنی طاقت و عصبیت کے محفوظ رکھنے کا خیال رہتا تھا۔ خلاصہ کلام یہ کہ آرمینیا کے زمانہ قیام میں جب کہ ہر طرف بربادی اور ہلاکت برپا تھی۔ سلیمان خان نے اپنی طاقت کو خوب بڑھایا اور اپنے گروہ کو بلا ضرورت نقصان پہنچے سے بچایا دولت خوارزم شاہیہ کی بربادی نے اور بھی سلیمان خان کو اس بات کا موقعہ دیا کہ وہ جنگ جو افراد اور جنگجوئی کے سامانوں کو اپنے گرد آزادانہ فراہم کر لے۔
ابھی چنگیز خان کے مرنے میں تین سال باقی تھے کہ اس نے ۶۲۱ھ میں ایک زبردست فوج سلجوقیوں کی اس سلطنت پر جس کا دارالسلطنت قونیہ تھا۔ حملہ آوری کے لیے روانہ کی۔ قونیہ میں علائو الدین کیقبا سلجوقی فرماں روا تھا۔ اوپر کے صفحات میں ذکر آ چکا ہے کہ اس سلجوقی حکومت کے فرماں روائوں یعنی سلاجقہ روم کو ہمیشہ رومیوں یعنی عیسائیوں سے برسر پیکار رہنا پڑتا تھا۔ اب امتداد زمانہ سے یہ سلطنت بہت ہی کمزور ہو چکی تھی۔ سلیمان خان کو جب یہ خبر پہنچی کہ مغلوں نے علائو الدین کیقباد پر حملہ کیا ہے تو اس کو بہت ملال ہوا۔ کیونکہ قونیہ کا سلطان مسلمان اور مغل کافر تھے۔ قونیہ کی سلطنت عیسائیوں کے مقابلے میں ہمیشہ برسر جہاد رہتی تھی۔ اور مغلوں نے عالم اسلام کو تہ و بالا کر ڈالا تھا۔ سلیمان خان نے علائو الدین کیقباد کو امداد پہنچانے اور اس لڑائی میں شریک ہو کر شہادت حاصل کرنے کا بہترین موقعہ سمجھ کر اپنے قبیلہ کو کوچ کی تیاری کا حکم دیا۔ سلیمان خان کی اس جمعیت کی صحیح تعداد تو نہیں معلوم ہو سکی مگر سلیمان خان نے اس جمعیت کا ایک حصہ جو اپنے بیٹے ارطغرل کو دے کر بطور ہر اول آگے روانہ کیا تھا۔ اس کی تعداد ۴۴۴ھ تھی۔ دنیا کے بڑے بڑے اور اہم واقعات میں جس طرح حیرت انگیز طور پر جس اتفاق کا معائنہ ہوتا رہا ہے۔ اسی طرح اس موقعہ پر بھی عجیب حسن اتفاق پیش آیا۔ ادھر آرمینیا کی جانب سے یہ مجاہدین کی فوج جا رہی تھی ادھر مغلوں کی فوج علائو الدین کیقباد سلجوقی کی فوج کے مقابل پہنچ گئی تھی۔ عین اس وقت جب کہ سلجوقی لشکر اور مغلوں کی فوج میں ہنگامہ کا رزار گرم تھا اور مغل بہت جلد علائو الدین کے لشکر کو مغلوب کیا چاہتے تھے۔ سلیمان خان کا بیٹا ارطغرل اپنے ہمراہی دستے کو لیے ہوئے نمودار ہوا۔ اس نے دیکھا کہ دو فوجیں بر سر پیکار ہیں اور ایک فوج بہت جلد مغلوب ہو کر میدان کو خالی کرنے والی ہے ارطغرل کو معلوم نہ تھا کہ کہ دونوں لڑنے والے کون کون ہیں۔ لیکن اس نے یہی مناسب سمجھا کہ کمزور فریق کی مدد کروں چنانچہ ارطغرل اپنے ۴۴۴ھ ہمراہیوں کو لے کر کمزرو فریق کی طرف سے زبردست فریق پر ٹوٹ پڑا۔ یہ حملہ اس شدت اور بے جگری کے ساتھ کیا گیا کہ مغلوں کے پائوں اکھڑ گئے اور میدان میں اپنی بہت سی لاشیں چھوڑ کر بھاگ گئے۔ علائو الدین کیقباد سلجوقی ذرادیر پہلے اپنی شکست اور ہلاکت کو یقینی سمجھ رہا تھا۔ اس غیر مترقبہ امداد اور فتح کو دیکھ کر بہت مسرور ہوا۔ اور میدان جنگ میں ارطغرل سے جو فرشتہ رحمت بن کر نمودار ہوا تھا۔ بغل گیر ہو کر ملا۔ ارطغرل کو بھی بے حد مسرت حاصل ہوئی کہ وہ عین وقت پر پہنچا اور جس مقصد کے لیے یہ سفر اختیار کیا گیا تھا وہ بحسن و خوبی حاصل ہو گیا ابھی ارطغرل اور علائو الدین کیقباد اس مسرت و شادمانی کا لطف اٹھا رہے تھے کہ سلیمان خان بھی اپنی جمعیت کے ساتھ اسی میدان میں پہنچ گیا۔ علائو الدین سلجوقی نے سلیمان خان اور اس کے بیٹے ارطغرل کو خلعت گراں بہا عطا کیے۔ ارطغرل کو شہر انگورہ کے قریب جاگیر عطا کی اور سلیمان خان کو اپنی فوج کا سپہ سالار بنایا۔
علائو الدین سلجوقی کے فہم و فراست کی داد دینی پڑتی ہے کہ اس نے ارطغرل کو جاگیر عطا کرنے کے لیے بہترین علاقہ کا انتخاب کیا۔ قونیہ کی سلطنت پہلے بہت وسیع تھی اب صورت یہ پیدا ہو گئی تھی کہ ایشیائے کوچک کے شمالی و مغربی علاقے پر رومیوں نے چیرہ دست ہو کر قبضہ کر لیا تھا۔ اور وہ بتدریج اس سلجوقی سلطنت کے حدود کو محدود کرتے اور آگے بڑھتے آتے تھے۔ دوسری طرف و مشرقی علاقے مغلوں کی دست بردنے جدا کر لیے تھے اور وہ دم بدم آگے بڑھ رہے تھے۔ اس طرح سلطنت قونیہ دو پاٹوں کے درمیان پسی جا رہی تھی اور محدود ہوتے ہوتے ایک ریاست کی شکل میں تبدیل ہو گئی تھی۔ جس کے بہت جلد فنا ہونے کی توقع تھی۔ اس بہادر گروہ اور ان بہادر سرداروں کو دیکھ کر علائو الدین نے سلیمان کے بیٹے کو ایسے موقعہ پر جاگیردی جو رومی سلطنت کی سرحد پر واقع تھا۔ اور باپ کو فوج کا سپہ سالار بنا کر مشرق کی جانب مغلوں کی روک تھام پر مامور کیا۔ چند روز کے بعد ارطغرل نے رومیوں کی ایک فوج کو شکست فاش دے کر اپنی جاگیر کو رومی علاقہ کی طرف وسیع کیا اور اس حسن خدمت کے صلے میں علائو الدین سلجوقی نے بھی اپنی طرف سے اور علاقہ اسی نواح میں عطا فرما کر ارطغرل کی طاقت اور علاقے کو بڑھا دیا۔ اور ارطغرل کے اس طرح طاقتور ہونے سے رومی سرحد کا خطرہ بالکل جاتا رہا مگر چند روز کے بعد سلیمان خان جو دریائے فرات کے کنارے مع فوج سفر کر رہا تھا اور مغلوں کے خارج کرنے میں مصروف تھا۔ دریائے فرات کو عبور کرتے ہوئے دریا میں غرق ہو کر راہی ملک بقا ہوا۔ ارطغرل اپنے علاقے پر حکمران رہا۔ اور دم بہ دم اپنی طاقت کو ترقی دینے میں مصروف رہا چونکہ ارطغرل عیسائیوں کے ساتھ مسلسل مصروف جنگ اور عیسائیوں کے علاقے چھین چھین کر اپنے ملک وسیع کر رہا تھا لہٰذا اس کا اس نواح میں طاقت ور ہونا شاہ قونیہ کے لیے بہت کچھ باعث اطمینان تھا اور وہ ارطغرل کی بڑھتی ہوئی طاقت کو بہ نظر اطمینان معائنہ کرتا تھا۔
۶۳۴ھ میں علائو الدین کیقباد کا انتقال ہوا اور اس کی جگہ اس کا بیٹا غیاث الدین کیخسرو قونیہ میں تخت نشین ہوا۔ غیاث الدین کیخسرو کو مغلوں نے اپنی بار بار کی حملہ آوری سے بہت تنگ کیا اور ۶۴۱ھ میں غیاث الدین کیخسرو نے مغلوں کو خراج دینا منظور کر لیا۔ سلطنت قونیہ کے اس طرح باج گزار ہونے کا ارطغرل پر کوئی اثر نہ پڑا۔ کیونکہ وہ ایک ایسے صوبہ کا گورنر اور فرماں روا تھا جو بظاہر مغلوں کی دست برد سے محفوظ و مامون تھا۔ مغلوں کو اس کے بعد ایشیائے کوچک کی طرف زیادہ متوجہ ہونے کی فرصت بھی نہ تھی۔ ۶۵۶ھ میں چنگیز خان کے پوتے ہلاکو خان نے بغداد کی خلافت عباسیہ کا چراغ گل کیا۔
۶۵۷ھ میں ارطغرل جاگیردار انگورہ کے گھر ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام عثمان خان رکھا گیا۔ یہی وہ عثمان خان ہے جس کے نام سے ترکوں کے بادشاہوں کو سلاطین عثمانیہ کہا گیا۔ ۶۸۷ھ میں جب کہ عثمان کی عمر تیس سال کی تھی۔ ارطغرل نے وفات پائی اور شاہ قونیہ نے ارطغرل کا تمام علاقہ عثمان کے نام مسلم رکھ کر سند حکومت بھیج دی عثمان خان کی قابلیتوں سے واقف ہو کر اسی سال غیاث الدین کیخسرو بادشاہ قونیہ نے عثمان خان کو اپنی فوج کا رئیس العسکر بنا کر اپنی بیٹی کی شادی عثمان خان سے کر دی اب عثمان خان شہر قونیہ میں رہنے لگا۔ اور بہت جلد وزیر اعظم اور مدار المہام سلطنت کے مرتبہ کو پہنچ گیا حتیٰ کہ جمعہ کے دن قونیہ کی جامع مسجد میں عثمان خان ہی بجائے غیاث الدین کیخسرو کے خطبہ بھی سنانے لگا۔
عثمان خان
۶۹۹ھ میں غیاث الدین کیخسرو مغلوں کے ایک ہنگامہ میں مقتول ہوا اس کے کوئی بیٹا نہ تھا۔ صرف ایک لڑکی تھی۔ جو عثمان خان کے عقد میں تھی۔ لہٰذا اراکین سلطنت نے متفقہ طور پر عثمان خان کو قونیہ کے تخت سلطنت پر بٹھا کر اپنا بادشاہ تسلیم کیا۔ اس طرح اسرائیل بن سلجوق کی اولاد نے جو سلطنت ۴۷۰ھ میں قائم کی تھی وہ ۶۹۹ھ میں ختم ہو کر اس کی جگہ سلطنت عثمانیہ قائم ہوئی جو ہمارے اس زمانہ تک قائم رہی۔ اسرائیل بن سلجوق وہی شخص تھا جس کو سلطان محمود غزنوی کے حکم سے سات برس تک ہندوستان کے قلعہ کا لنجر میں قید رہنا پڑا تھا۔
عثمان خان کی تخت نشینی کے وقت سلطنت قونیہ کی بہت ہی کمزور حالت تھی۔ اور رومیوں نیز مغلوں کے حملوں سے اس ضعیف تر اور برائے نام سلطنت کا مٹ جانا یقینی تھا لیکن عثمان خان کے تخت نشین ہوتے ہی اس تن بے جان میں جان پڑنی شروع ہوئی جس کا سب سے بڑا راز یہ تھا کہ عثمان خان کے ساتھی اور اراکین سلطنت اور فوج کے سپاہی اور رعایا سب عثمان خان کے حسن سلوک سے خوش اور اس کو محبوب رکھتے تھے۔ عثمان خان میں ایک طرف دینداری اور دوسری طرف شجاعت بدرجہ کمال موجود تھی عثمان خان نے سب سے پہلے رومیوں سے شہر قرا حصار فتح کر کے اپنا دار السلطنت بنایا اور اس نئی سلطنت کا نیا دارالسلطنت تجویز ہونا بھی بہت ہی مبارک و میمون ثابت ہوا۔ عثمان خان کو اپنی تخت نشینی کے بعد ہی حاسدوں اور رقیبوں کی عداوتوں اور سازشوں کا بھی مقابلہ کرنا پڑا تھا۔ جن پر وہ انجام کار غالب آیا اور سب کو طاقت کے ذریعہ خاموش کر دیا تاہم سلجوقیوں کے پرانے خاندان کے افراد عثمان خان کی حکومت و سلطنت کو رشک و رقابت کی نظر سے دیکھتے تھے۔ اور اس پر کوئی تعجب بھی نہیں ہونا چاہیے۔ اگر عثمان خان کسی موقعہ پر بھی اپنی کمزوری یا خوف کا اظہار کرتا تو اس کے رقیب یقیناً اس کے خلاف فوراً اٹھ کھڑے ہوتے۔ لیکن عثمان خان نے ہر موقعہ پر اپنے آپ کو بے خوف اور نڈر ثابت کیا۔ چنانچہ جب عیسائیوں نے شروع ہی میں قونیہ پر حملہ آوری کے لیے فوجیں فراہم کیں۔ تو عثمان خان نے امرائے سلطنت کو جمع کر کے مجلس مشورت منعقد کی۔ اس موقعہ پر عثمان خان کا چچا یعنی ارطغرل کا بھائی بھی جو بہت بوڑھا تھا موجود تھا۔ اس نے اپنی رائے ظاہر کی کہ عیسائیوں کے مقابلے میں ہم کو فوج کشی نہیں کرنی چاہیے۔ بلکہ جہاں تک ممکن ہو صلح و آشتی کے ذریعہ اس جنگ کو ٹال دینا چاہیے۔ اگر جنگ برپا ہوئی تو اندیشہ ہے کہ مغلوں اور دوسرے ترک سرداروں کی فوجیں بھی عیسائیوں کے حملہ کو کامیاب بنانے کے لیے ہمارے ملک پر چڑھائیاں کر دیں گی ہم ان سب کا بیک وقت مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔ عثمان خان نے اپنے چچا کی زبان سے یہ پست ہمتی پیدا کرنے والا مشورہ سن کر فوراً بلا تامل اپنی کمان میں تیر جوڑ کر اس بوڑھے چچا کا کام تمام کر دیا۔ اس نظارہ کو دیکھ کر کسی کو بھی جرأت نہ ہوئی کہ جنگ اور حملہ آوری کے خلاف رائے ظاہر کرے چنانچہ عثمان خان نے حملہ کیا اور عیسائیوں کو شکست فاش دے کر قرا حصار پر قابض و متصرف ہو گیا۔ اور اس کے بعد بجائے قونیہ کے قرا حصار ہی کو اپنا دارالسلطنت بنایا۔ اس کے بعد عثمان خان نے پہیم عیسائی علاقوں پر حملے شروع کر دیئے اور ایک کے بعد دوسرا شہر فتح کرتا اور عیسائیوں کو ایشیائے کوچک سے نکالتا گیا۔ عیسائیوں کے بادشاہ قیصر قسطنطنیہ نے جب دیکھا کہ عثمان خان کا سیلاب بڑھتا ہی چلا آتا ہے تو اس نے مغلوں سے خط و کتابت اور پیام و سلام شروع کر کے اس بات کی کوشش شروع کی کہ مغل مشرق کی جانب سے عثمان خان پر حملہ آور ہوں۔ تاکہ وہ عیسائیوں کی طرف سے منہ موڑ کر مغلوں کی طرف متوجہ ہو۔ چنانچہ قیصر کو ایک حد تک اپنی اس کوشش میں کامیابی بھی حاصل ہوئی۔ مغلوں نے قیصر کے ابھارنے سے عثمان خان کے ملک پر حملے شروع کر دیئے۔ مگر چونکہ عثمان خان کو عیسائیوں کے مقابلے میں پہیم فتوحات حاصل ہوئی تھیں۔ اس لیے اس کی فوج کے دل خوب بڑھ گئے تھے اور فتوحات ہی ایسی چیز ہیں جو جنگ جو قوموں میں ہمت اور جوش پیدا کر دیا کرتی ہیں چنانچہ عثمان خان نے اپنے بیٹے ار خان کو جو صف شکنی میں اپنا نظیر نہیں رکھتا تھا اپنی فوج کا ایک حصہ دے کر مغلوں کے حملوں کو روکنے پر مامور کیا اور خود بقیہ فوج لے کر رومیوں پر پہلے سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ حملے کرنے لگا۔ جنگ جو اور سپاہی پیشہ قوموں کے لیے جنگ کے ایام عید کی خوشی لے کر آیا کرتے ہیں۔ رعایا نے بھی اپنے بہادر فرماں روا کا دل سے ساتھ دیا اور ارخان نے مغلوں کے ہر ایک حملہ کو بڑی خوبی کے ساتھ روکا اور ہر مرتبہ ان کو شکست دے کر پیچھے ہٹا دیا۔ یہاں تک کہ مغل تھک کر بیٹھ رہے اور اپنی حملہ آوری کے اس ناستودہ سلسلہ کو ترک کر دیا۔ ار خان اس طرف کا انتظام کر کے باپ سے جا ملا۔ دونوں باپ بیٹوں نے عیسائیوں کو مار مار کر پیچھے ہٹانا اور بھگانا شروع کر دیا۔ عثمان خان ایشیائے کوچک کو فتح کرتا ہوا شمال میں بحراسود کے ساحل تک پہنچ گیا۔ ادھر ار خان نے عیسائیوں کو مغرب کی طرف بھگاتے ہوئے بروصہ کو فتح کر لیا۔ بروصہ قیصر روم کا ایک زبردست شہر ایشیائے کوچک کے مغربی ساحل کے قریب تھا۔ اس شہر کو جب ار خان نے فتح کیا ہے۔ تو عثمان خان ساحل بحرا سود تک پہنچ کر قرا حصار میں سالماً غانماً واپس آ گیا اور تھا اتفاق سے بیمار تھا۔ بروصہ کی فتح کا حال سن کر عثمان خان نے فوراً بروصہ کا قصد کیا اور اپنے سرداروں کو حکم دیا کہ اگر میں بروصہ پہنچنے سے پہلے راستے ہی میں فوت ہو جائوں تو تم میری لاش کو بروصہ لے جا کر دفن کرنا اور وہیں میرا مقبرہ بنانا اور آئندہ میرے بیٹے ار خان کو بروصہ ہی میں رکھنا اور اسی شہر کو دارالسلطنت بنانا چاہیے۔ چنانچہ عثمان خان بروصہ پہنچ کر کئی روز کے بعد فوت ہوا اور اسی شہر میں اس کی وصیت کے موافق اس کا مقبرہ بنایا گیا۔ یہ واقعہ ۷۲۷ھ کا ہے۔:
عثمان خان نے مرتے وقت اپنے بیٹے ار خان کو وصیت کی کہ مجھ کو اپنے مرنے کا کوئی غم اس لیے نہیں ہے کہ تجھ جیسا لائق بیٹا میرا جانشین ہو گا۔ تجھ کو چاہیئے کہ دین داری‘ نیکی‘ رحم دلی اور عدل کو کبھی ترک نہ کرے۔ رعیت کی حفاظت کرنا اور احکام شرع کو رواج دینا تیرا سب سے ضروری اور مقدم کام ہونا چاہیے۔ آخر میں اس نے بیٹے کو تاکید کی کہ بروصہ ہی کو اپنا دارالسلطنت بنایا جائے۔ اس وصیت سے بھی عثمان خان کی مآل اندیشی کا بہت بڑا ثبوت ملتا ہے وہ جانتا تھا کہ کہ قونیہ میں ایسے افراد موجود ہیں جو کسی نہ کسی وقت میرے خاندان کی بیخ کنی پر آمادہ ہو سکتے ہیں۔ ادھر اس کو معلوم تھا کہ مغلوں کو مسلمانوں سے محض اسلام کی وجہ سے کوئی دشمنی نہیں ہے اور وہ خود اسلام قبول کرتے جاتے ہیں۔ اگر دارالسطنت قونیہ رہا تو خواہ مخواہ مغلوں اور دوسرے سرداروں کے ساتھ جھگڑے برپا رہیں گے حالانکہ مسلمانوں کے لیے سب سے بہتر میدان عیسائی ممالک ہیں۔ لہٰذا بروصہ کے دارالسلطنت ہونے سے عیسائیوں کو لازماً ایشیائے کوچک کے خیال سے دست بردار ہونا پڑے گا۔ اور وہ در دانیال سے اس طرف آنے کی کبھی جرأت نہ کر سکیں گے نیز بروصہ کے بادشاہوں کو بآسانی یورپ پر حملہ آور ہونے اور بلقان کے فتح کرنے موقعہ ملے گا۔ عثمان کا یہ خیال بہت صحیح تھا۔ اس کے جانشینوں نے اس عثمانی اصول کو مد نظر رکھا اور اسی اصول پر کار بند رہنے کا نتیجہ تھا کہ چند روز کے بعد عثمانیوں کا دارالسلطنت اور نہ یعنی ایڈریا نوپل ہوا۔ جس کے بعد وہ قسطنطنیہ پر قابض ہو سکے۔
عثمان خان کی نسبت مشہور ہے کہ وہ غیر معمولی بہادری رکھتا تھا۔ جس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ اس کے ہاتھ جب کہ وہ سیدھا کھڑا ہوتا تھا تو گھٹنوں تک پہنچ جاتے تھے۔ وہ اعلیٰ درجہ کا شہسوار اور خوبصورت شخص تھا۔ اس کی قوت فیصلہ بہت زبردست تھی وہ پیچیدہ اور اہم امور کے متعلق فوراً ایک رائے قائم کر لیتا تھا۔ اور وہی رائے درست اور صائب ہوتی تھی۔ وہ بلا کا ذہین اور ذکی تھا۔ رحم دلی اور فیاضی کی صفات میں بھی وہ خاص طور پر بلند مرتبہ رکھتا تھا۔
قونیہ کے سلجوقی بادشاہوں کے جھنڈوں پر ہلال کی شکل بنی ہوئی ہوتی تھی۔ اس ہلال کے نشان کو عثمان خان نے بھی بدستور اپنے فوجی جھنڈوں میں قائم رکھا اور یہی ہلال کا نشان عثمانی سلاطین کا قومی نشان سمجھا گیا۔ اور آج تک وہ مسلمانوں کے لیے سب سے زیادہ محبوب نشان ہے۔ عثمان خان ۶۹ سال اور چند مہینے کی عمر میں ۲۷ سال کی حکومت کے بعد فوت ہوا اس کے زہد و اتقا کا اندازہ شاید اس طرح ہو سکے کہ مرتے وقت عثمان کی ذاتی ملکیت میں زرہ‘ سلوار اور ٹپکے کے سوا اور کوئی چیز نہ تھی۔ یہی وہ تلوار ہے جو ہر عثمانی سلطان کی تخت نشینی کے وقت اس کی کمر سے باندھی جاتی رہی ہے۔ اس جگہ یہ بتا دینا ضروری ہے کہ عثمان خان نے جب قونیہ کو ترک کیا تو پرانے سلجوقی خاندان کے افراد کو قونیہ کا عامل اور حکمران مقرر کر کے ان مراسم و اعزازات کو ان کے لیے جائز قرار دے دیا تھا جو سلجوقی سلاطین کے لیے مختص تھے۔ دوسرے لفظوں میں کہا جا سکتا ہے کہ قونیہ میں عثمان خان نے ایک ماتحت ریاست قائم کر دی تھی جو پرانے سلاجقہ روم کے خاندان میں سلطنت عثمانیہ کی ماتحت عرصہ تک قائم رہی۔ اس طرز عمل سے بھی عثمان خان کی شرافت اور پاک باطنی و مآل اندیشی کا ایک ثبوت بہم پہنچتا ہے۔
باب : ۲۱رومی سلطنت
عثمان خان کے بعد اس کا بیٹا ارخان تخت نشین ہوا جو دوسرا عثمانی سلطان ہے۔ ارخان کا تذکرہ لکھنے سے پیشتر ضروری معلوم ہوتا ہے کہ رومی سلطنت کا مجمل تذکرہ کر دیا جائے تاکہ ان حالات اور ان فتوحات کے سمجھنے میں آسانی ہو جو ارخان کے عہد حکومت میں وقوع پذیر ہوئے۔
حضرت عیسیٰ u کی پیدائش سے پونے چھ سو سال پیشتر ملک اطالیہ کے اندر سلویا نامی ایک کنواری لڑکی کے پیٹ سے دو توام لڑکے پیدا ہوئے۔ ایک کا نام رومولس اور دوسرے کا نام ریموس رکھا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ دونوں بچے مریخ دیوتا کے نطفہ سے پیدا ہوئے تھے۔ سلویا نامی کنواری لڑکی ولسٹا دیوی کے مندر کی پجارن تھی۔ جہاں مریخ دیوتا نے آ کر اس کو حاملہ کیا تھا۔۱؎ رومولس اور ریموس کو پیدا ہونے کے بعد کسی کشتی یا ٹوکری میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا گیا تھا۔ پانی کی موجوں نے ان کو جنگل یا پہاڑ کے دامن میں ساحل پر ڈال دیا وہاں ایک مادہ گرگ نے آ کر ان کو دودھ پلایا اور ان کی حفاظت کرنے لگی۔ اس طرح بھیڑیئے کا دودھ پی پی کر ان دونوں بچوں نے پرورش پائی۔ اتفاقاً بادشاہ کا ایک گڈریا اس طرف کو آ نکلا۔ اور اس نے ان دونوں بچوں کو دیکھ کر اٹھا لیا۔ اور اپنے بادشاہ کے سامنے لایا۔ بادشاہ بیگم نے ان کو محبت کے ساتھ لے کر پرورش کیا۔ بڑے ہو کر ان دونوں بھائیوں نے ایک شہر کی بنیاد رکھی۔ یہ شہر روم یا روما کے نام سے موسوم ہوا اور ان کی اولاد میں ایک ایسی عظیم الشان سلطنت قائم ہوئی جو دنیا کی عظیم و مہیب سلطنتوں میں شمار ہوتی ہے۔ شہر روما آج کل بھی ملک اٹلی کا دارالسلطنت ہے۔ مگر رومولس اور ریموس کی قائم کی ہوئی رومن سلطنت کا اب نام و نشان باقی نہیں رہا۔
یہ سلطنت جب اپنے انتہائی عروج کو پہنچ گئی تو اس کے دو ٹکڑے ہو گئے ایک کو مشرقی روم اور دوسری کو مغربی روم کہتے تھے۔ مغربی روم کا دارالسلطنت تو شہر روما ہی ہے اور مشرقی روم کا دارالسلطنت قسطنطنیہ قرار پایا۔ مغربی روم پر شمالی یورپ اور روس کی وحشی قوموں نے بار بار حملے کر کے اس کو بے حد
۱؎ایسی ’’دیومالائی‘‘ داستانیں تاریخ میں خصوصاً باطل مذاہب اور گمراہ فرقوں کی تاریخ میں بہت سی موجود ہیں‘ جن کی صحت کا کچھ پتہ نہیں چلتا۔
کمزور و ناتواں بنا دیا اور بالآخر مغربی روم کی سلطنت محدود ہو کر دو حصوں میں منقسم ہو گئی جنیوا اور وینس میں الگ الگ سلطنتیں قائم ہوئیں اور پھر وہ بھی مختلف صورتوں میں تبدیل ہو کر معدوم ہوئیں۔ اور ان کی جگہ نئی حکومتیں قائم ہو گئیں۔ مگر مشرقی روم پر شمالی حملہ آوروں کی آفتیں بہت ہی کم نازل ہوئیں اور اس کو یورپی و حشیوں کے ہاتھ سے کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ ایک زمانہ ایسا بھی آیا کہ قسطنطنیہ کے بادشاہ کا شہر روما پر بھی عمل دخل ہو گیا تھا۔ عرب اور ایران والے مغربی روم سے تو ناواقف تھے جس کے نام پر سلطنت روم موسوم تھی وہ مشرقی روم کو جانتے تھے۔ مشرقی روم یعنی قسطنطنیہ کے فرماں روائوں نے عیسائی مذہب قبول کر کے اس کی اطاعت شروع کی تو یورپ کی تمام وہ قومیں جو عیسائی مذہب قبول کرتی تھیں قسطنطنیہ کے بادشاہ کو عزت و عظمت کی نظر سے دیکھتی تھیں۔ یہاں تک کہ قریباً تمام یورپ عیسائی مذہب میں داخل ہو گیا۔ اور اسی لیے قیصر روم کو یورپ میں خصوصی وقار حاصل ہوا۔ جب قسطنطنیہ کا دربار عیسائی ہو گیا اور اس کے مقبوضہ ممالک میں عیسوی مذہب پھیل گیا تو عرب و ایران کے لوگ ہر ایک عیسائی کو رومی کے نام سے یاد کرنے لگے۔ قسطنطنیہ کے قیصر کی سلطنت چونکہ یونان کی شہنشاہی کے کھنڈروں پر تعمیر ہوئی تھی اور قیصر روم سکندر یونانی کے مقبوضہ ممالک کا مالک تھا لہٰذا قسطنطنیہ کی سلطنت کو یونانی سلطنت بھی کہا جاتا تھا‘ اسی لیے مؤرخین نے رومی اور یونانی دونوں الفاظ مترادف اور ہم معنی سمجھ کر استعمال کیے ہیں۔ قیصر قسطنطنیہ کی سلطنت میں چونکہ ایشیائے کوچک اور شام کا ملک بھی شامل تھا۔ اس لیے اسلام کے ابتدائی زمانے میں ایشیائے کوچک کو روم کا ملک کہا جاتا تھا۔ ملک شام سے تو عیسائی حکومت بہت جلد اٹھا دی گئی تھی۔ مگر ایشیائے کوچک میں قیصر روم کی حکومت عہد اسلامیہ میں بھی عرصہ دراز تک قائم رہی اس لیے ایشیائے کوچک کو عام طور پر ملک روم کہا جانے لگا۔ جب سلجوقیوں کی ایک سلطنت ایشیائے کوچک کے ایک حصہ میں قائم ہوئی تو اس کو ملک روم کی سلجوقی سلطنت کہا گیا۔ اور اس سلطنت کے سلاطین سلاجقہ روم کے نام سے پکارے گئے ان سلاجقہ روم کے بعد عثمان خان اول نے اپنی سلطنت سلطنت ایشیائے کوچک میں قائم کی اور قریباً تمام ایشیائے کوچک پر قابض ہو گیا تو وہ بھی سلطان روم کہلایا پھر اس کے بعد سے آج تک عثمانی سلاطین سلطان روم ہی کہلائے جاتے ہیں۔
قسطنطنیہ کے قیصر نے جب عیسوی مذہب قبول کیا تو اس عیسوی سلطنت اور ایران کی مجوسی سلطنت میں بار بار لڑائیاں ہوئیں۔ ان لڑائیوں کا سلسلہ جاری ہی تھا کہ ملک عرب میں اسلامی سلطنت نے قائم ہو کر مجوسیوں اور عیسائیوں کو مبہوت کر دیا۔ مجوسی سلطنت تو پاش پاش ہو کر معدوم ہو گئی۔ لیکن قسطنطنیہ کی عیسائی سلطنت عرصہ دارز تک قائم رہی۔ ہم جس زمانے کی تاریخ بیان کر رہے ہیں اس زمانے میں بھی یہ عیسائی سلطنت موجود ہے۔ خلفائے راشدین کے عہد سعادت میں شام و فلسطین و مصر سے قیصر روم کی عیسائی حکومت بالکل مٹا دی گئی تھی۔ اس کے بعد خلفائے بنو امیہ اور خلفائے بنو عباس کے زمانے میں قیصر روم کے ساتھ برابر لڑائیوں کا سلسلہ جاری رہا۔ جس کا مختصر طور پر خلفاء کہ حالات میں کہیں کہیں ذکر آتا رہا ہے۔ ایشیائے کوچک کا ایک ملک قریباً سات سو سال سے برابر مسلمانوں اور عیسائیوں کا میدان جنگ بنا ہوا تھا کسی زمانے میں مسلمانوں کو دھکیلتے ہوئے در دانیال اور بحیرہ مار مورا تک لے جاتے تھے۔ اور کبھی عیسائی مسلمانوں ریلتے ہوئے ایران و کردستان تک چلے آتے تھے۔ عیسائیوں کی اس سلطنت کو قدرتی طور پر مسلمانوں کے مقابلہ میں دیر تک زندہ رہنے کا اس لئے موقعہ مل گیا کہ آپس کی نااتفاقیوں اور خانہ جنگیوں سے مسلمانوں کو ایسا موقعہ میسر ہی نہ آیا کہ وہ اس عیسائی رومی سلطنت کا قصہ پاک کرتے۔
اس رہے سہے کام کو ترکان عثمانی نے پورا کیا اور اسی لئے وہ عالم اسلام کے محبوب و مقتدا سمجھے گئے۔ ہم جس زمانے کا ذکر کر رہے ہیں یہ وہ زمانہ ہے کہ یورپ کے صلیبی سیلاب شام و فلسطین کے میدانوں میں بار بار موج زن ہو چکے ہیں عیسائیوں کے مجاہدین مسلمانوں کے مقابلے میں شکست پاپا کر اور مسلمانوں کی علمی و اخلاقی ترقیات سے متاثر ہو ہو کر یورپ میں واپس جا کر اور یورپ کے تمام ملکوں میں پھیل کر عیسائی ممالک کو بیدار اور ترقی کی طرف مائل و متوجہ کر چکے ہیں۔ اس زمانہ کی نسبت عیسائیوں کا یہ کہنا کہ رومی سلطنت بہت ہی غافل اور کمزور تھی۔ سراسر غلط ہے۔ عیسائیوں میں مسلمانوں کی مخالفت کے لئے اتفاق اور جوش بہ درجہ اتم پیدا ہو چکا تھا۔ قسطنطنیہ کا دربار سب سے زیادہ متاثر ہوا تھا۔ قسطنطنیہ کی سلطنت نسبتاً سب سے زیادہ طاقتور اور فنون جنگ سے واقف اور مقابلہ کی اہلیت رکھتی تھی اس سے پہلے زمانے میں یورپ کی دوسری سلطنتیں قسطنطنیہ کی سلطنت سے رقابت بھی رکھتی تھیں۔ لیکن لڑائیوں کے بعد تمام یورپ کی ہمدردی قسطنطنیہ کے قیصر سے متعلق تھی۔ قیصر قسطنطنیہ کے تعلقات صرف یورپ کے سلاطین تک محدود نہ تھے۔ بلکہ وہ مسلمانوں کے ہر ایک دشمن کو اپنا دوست سمجھ کر اس سے محبت و مودت کے تعلقات رکھتا تھا۔ چنگیز خان اور اس کی اولاد کو فاتح اور نامسلمان دیکھ کر قیصر قسطنطنیہ کے سفیر مغلوں کے دربار میں قراقورم اور چین تک پہنچے ہوئے تھے اور ابھی آگے چل کر معلوم ہو گا کہ قسطنطنیہ کے فرماں روا کو اس میں بھی تامل نہ تھا۔ کہ وہ اپنے مد مقابل اور حریف کو اپنی بیٹی دے کر اپنا موافق بنانے کی کوشش کرے اور اس کے خطرہ سے محفوظ ہو جائے اور اپنا کام نکال لے۔ مسلمانوں کی جمعیت میں پھوٹ ڈال کر ان کو کمزور و برباد کر دینے کی حکمت عملی کچھ ہمارے موجودہ زمانے کے عیسائیوں کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ اس حکمت عملی پر قیصر قسطنطنیہ نے بارہا عمل کیا ہے اور وہ ہر زمانے میں نہایت چوکس اور مستعد نظر آیا ہے۔۱؎ مگر مسلمان اگر آپس کی خانہ جنگی کو چھوڑ دیں اور متفق و متحد ہو کر دشمانان اسلام کے مقابلے پر مستعد ہو جائیں تو دنیا کی کوئی طاقت مسلمانوں کے مقابلے پر قائم نہیں رہ سکتی اور اس کو لازماً مغلوب و محکوم ہی ہونا پڑے گا عثمان خان اور اس کی اولاد نے اس حقیقت کو خوب اچھی طرح سمجھ لیا تھا۔ اسی لئے انھوں نے خانہ جنگی اور اپنے مسلمان رقیبوں کے مقابلے سے اپنا پہلو ہمیشہ بچایا اور اپنے آپ کو حتی المقدور عیسائیوں کے مقابلہ کے لئے مستعد رکھا۔ چنانچہ وہ اس عظیم الشان کام کو انجام دے سکے جو ان کے متقدمین سے انجام پذیر نہ ہو سکا۔ اب ہم کو عثمان خان کے بیٹے ارخان کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔