مغولان چنگیزی
سلطان محمود غازان خان ابن ارغون خان ابن ابا قاخان
سلطان محمود خان نے تخت نشین ہو کر امیر نوروز بیگ اویرات کو اپنا وزیر و سپہ سالار بنایا۔ اور سکوں پر کلمہ طیبہ نقش کرایا۔ اسی طرح مہر اور فرامین کی پیشانیوں پر اللہ اعلیٰ لکھنے کا حکم دیا۔ نوروز بیگ کو چند روز کے بعد خراسان کا حاکم مقرر کر کے روانہ کیا۔ ایستیمور وارسلان دو مغل سرداروں نے آپس میں عہد کیا۔ کہ ہم میں سے ایک شخص سلطان محمود خان کو اور دوسرا امیر نوروز بیگ کو ایک ہی تاریخ میں قتل کرے۔ چنانچہ ان دونوں نے اپنے ارادے کو قوت سے فعل میں لانے کی کوشش کی۔ مگر عجیب اتفاق یہ ہوا کہ وہ اپنے ارادے میں کامیابی حاصل نہ کر سکے۔ اور عین وقت پر دونوں سلطان محمود خان اور امیر نوروز بیگ کے ہاتھ سے مارے گئے۔ اس کے بعض امراء وزرا نے امیر نوروز بیگ کے متعلق بدگوئی اور چغل خوری سے کام لے کر باشادہ کو بدگمان بنا دیا۔ اور طاہر کیا کہ امیر نوروز بیگ خراسان میں بغاوت و خود مختاری کے اعلان کا عزم رکھتا ہے ان پہیم سازشی کوششوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ سلطان محمود غازان خان امیر نوروز بیگ سے بدگمان ہو کر اس کے استیصال کے درپے ہوا۔ اور یہ امیر بزرگ مع خاندان ہلاک و برباد ہوا۔ اسی طرح خواجہ صدرالدین وزیر بھی امراء کی کوشش سے مقتول ہوا اور اس کی جگہ خواجہ رشید الدین مصنف جامع رشیدی کو قلمدان وزارت عطا ہوا۔ یہ واقعہ ۶۹۹ھ کو وقوع پذیر ہوا۔
اس کے بعد سلطان محمود غازان خان نے سلطان مصر کو لکھا کہ میرے بزرگوں نے ملک شام کو فتح کیا تھا۔ اور شام کا ملک ہمارا موروثی مقبوضہ ہے مصری فوجوں نے اس ملک پر غاصبانہ قبضہ جما رکھا ہے۔ میرے بزرگ چونکہ کافر تھے اور دین اسلام سے واقف نہ تھے۔ لہٰذا تمہاری مخالفت جو میرے بزرگوں سے تم نے کی‘ قابل معافی ہے۔ میں الحمد اللہ مسلمان ہوں اور تم کو مسلمان ہونے کی وجہ سے اپنا بھائی سمجھتا ہوں۔ لہٰذا اب تمہارا فرض ہے۔ کہ شام کا علاقہ میرے لیے خالی کر دو۔ اور میری بادشاہی اور سرداری کو تسلیم کرو۔ مصر سے اس پیغام کا جواب نامناسب وصول ہوا۔ اسی خط و کتابت کا نتیجہ یہ ہوا کہ مصریوں نے جو پہلے سے مغلوں پر چیرہ دست تھے۔ اپنی حدود سے نکل کر سلطان محمود غازان خان کے مقبوضہ علاقہ پر حملہ کیا۔ اور ساتھ ہی اس مصری فوج نے مسجدوں کی بے حرمتی اور مسلمانوں کے قتل عام سے بھی کوئی دریغ نہ کیا۔ یہ سن کر ۶۹۹ھ میں سلطان محمود غازان خان نے نوّے ہزار مغلوں کی فوج لے کر ملک شام پر حملہ کیا۔ سلطان مصر بھی فوج لے کر مقابلہ پر آیا۔ حمص کے قریب معرکہ کا رزار گرم ہوا۔ سلطان محمود غازان نے مصریوں کو شکست دے کر بھگا دیا۔ اور دمشق و شام پر قابض و متصرف ہو کر شام کے بڑے بڑے شہروں میں ایک ایک امیر بطور نائب السلطنت مقرر کیا۔ اور خود واپس چلا آیا۔ سلطان مصر ناصر نے فوج لے کر دوبارہ ملک شام پر فوج کشی کی۔ شام کے مغل سرداروں نے خوب جم کر مقابلہ کیا۔ مگر شکست یاب ہوئے اور امیر تیتاق میدان جنگ میں شجاعت و بہادری کی داد دیتا ہوا گرفتار ہوا۔ یہ سن کر سلطان غازان خان نے پھر ملک شام پر حملہ کا قصد کیا۔ لیکن انہی ایّام میں خبر پہنچی کہ جوجی خان کی اولاد جو قبچاق کی طرف بر سر حکومت ہے۔ دعویٰ کرتی ہے کہ ہلاکو خان اور اس کی اولاد کا کوئی حق نہیں ہے کہ وہ ایران و خراسان وغیرہ پر خود مختارانہ حکومت کرے یہ حق ہمارا ہے اور ہم غازان خان کو ملک سے بے دخل کر دیں گے۔ اس کے بعد آپس کی مخالفتوں نے غازان خان کو شام کی طرف متوجہ ہونے کا موقعہ نہ دیا۔