مغولان چنگیزی

فرا تاتار

مغول و تاتار ایک دوسرے سے جدا ہو کر اور جدا جدا ملکوں میں سکونت اختیار کر کے ہمیشہ ایک دوسرے سے لڑتے اور چڑھائیاں کرتے رہے۔ جب تک کیانی خاندان ملک توران پر حکمران رہا۔ اس نے تاتاریوں کا ساتھ دیا اور مغول ہمیشہ مغلوب و مقتول ہوتے رہے اور ان کو کبھی تاتاریوں پر چیرہ دستی حاصل کرنے کا موقعہ نہیں ملا۔ ان لڑائیوں میں مغلوں کی اکثر عورتیں تاتاریوں کے قبضے میں آ جاتی تھیں۔ ان عورتوں سے جو اولاد پیدا ہوتی تھی اس اولاد کو تاتاری لوگ باندی کا بچہ سمجھتے اور اپنے ترکہ کا وارث نہیں بناتے تھے۔ رفتہ رفتہ اس قسم کے لوگوں کی کثرت ہوئی اور ان کی شادیاں اسی قسم کے پرستار زادوں میں ہونے لگیں۔ اس طرح ایک الگ قوم تیار ہو گئی جس کو قرا تاتار کا خطاب دیا گیا۔ بعض مؤرخین کا خیال ہے کہ انہی لوگوں کو ترکمان کہا جاتا ہے۔ یہ تاتاریوں کی مغلوں سے نفرت کا نتیجہ تھا۔ کہ انہوں نے مغل عورتوں کی اولاد کو اپنا ہمسر نہ سمجھا ورنہ حقیقتاً مغل اور تاتار ایک ہی باپ کی اولاد ہیں۔