دولت عبیدیین مصر و افریقہ میں

ابویزید سے جھڑپیں

ابویزید مخلد بن کیراد کے حالات مختصراً یہ ہیں کہ کیردا نامی ایک شخص شہر قسطیلہ کا باشندہ تھا۔ اور تجارت کی غرض سے اکثر سوڈان کے علاقے میں جایا کرتا تھا۔ وہیں اس کا بیٹا ابویزید پیدا ہوا۔ ابویزید نے سوڈان ہی میں پرورش پائی۔ اور وہیں اس کی ابتدائی تعلیم ہوئی۔ اہل سوڈان شیعوں کے مخالف اور خارجی مسلک کی طرف زیادہ مائل تھے۔ ابویزید بھی ان خیالات سے متاثر ہوا۔ اس کے بعد ابوعبداللہ شیعی نے ملک بربر میں آ کر اپنا کام شروع کیا تھا۔ ابویزید نے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے اور اپنے عقائد و خیالات کے شائع کرنے کی کوشش جاری رکھی۔ ابوعبداللہ شیعی کی کامیابیاں وہ خاموشی سے دیکھتا اور اپنے ہم خیالوں کی ایک جماعت کو قائم رکھ کر ترقی دیتا رہا۔ ابوعبداللہ اور عبیداللہ کو اس کا حال معلوم تھا۔ لیکن اہم معاملات اور جنگی کاموں کے سلسلے نے ان دونوں کو اس لڑکے کو پڑھانے والے شخص کے مخالفانہ خیالات کی بیخ کنی کی طرف متوجہ نہ ہونے دیا۔ جب عبیداللہ مہدی کا انتقال ہوا اور ملک میں کچھ ہل چل مچی تو ابویزید نے اپنے خیالات کی اشاعت اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے کاموں میں زیادہ مستعدی اور طاقت سے کام لینا شروع کر دیا۔ اور اپنے آپ کو شیخ المومنین کے لقب سے ملقب کیا۔ لوگ کثرت سے آ آ کر اس کے مرید ہونے لگے۔ اور اس نے اپنے مریدوں کی ایک فوج تیار کی۔ شہر باغایہ کے والی کو جب ابویزید کی جنگی تیاریوں کا حال معلوم ہوا تو اس نے اس پر چڑھائی کی ابویزید نے گورنر باغایہ کو شکست دے کر اور آگے بڑھ کر باغایہ کا محاصرہ کر لیا۔ عرصہ تک محاصرہ جاری رکھا۔ اور جب فتح سے مایوس ہوا تو واپس چلا آیا۔ بربری قبائل اس کی طرف متوجہ ہو گئے۔ اور اس نے خلیفہ اندلس ناصر کا خطبہ ممبروں پر پڑھا۔ قبائل زناتہ سب اس کے مطیع ہو گئے۔ غرض دم بہ دم ابویزید کی طاقت ترقی کرتی گئی اور ابوالقاسم کے قبضہ سے ایک کے بعد دوسرا شہر نکلتا گیا۔ ابوالقاسم نے بڑے بڑے سرداروں اور سپہ سالاروں کو ابویزید کے مقابلے پر روانہ کیا۔ مگر ہر ایک نے ابویزید سے شکست کھائی نتیجہ یہ ہوا کہ ۳۳۳ھ کے ماہ صفر میں ابویزید کی فوجوں نے قیروان پر قبضہ کر لیا۔ اور ابو القاسم مہدیہ میں محصور و قلعہ بند ہونے پر مجبور ہوا۔ اب ابویزید نے تمام ملک افریقہ میں اپنی فوجیں پھیلادیں۔ اور قتل و غارت کا بازار گرم ہوا۔ ابوالقاسم کے بعض گورنروں کے قبضے میں جو شہر و علاقے باقی تھے۔ ان کو ابوالقاسم نے امداد و اعانت کے لیے لکھا اہل کتامہ بھی ابوالقاسم کی امداد پر اٹھ کھڑے ہوئے۔ ماہ جمادی الاول ۳۳۳ھ میں اہل کتامہ کو شکست دے کر ابویزید نے بھگا دیا اور دوسری فوجوں کو بھی جو ابوالقاسم کی حمایت میں مقابلہ پر آئی تھیں۔ شکست ہوئی۔ ابوالقاسم نے مہدیہ کو خوب مضبوط کر لیا تھا۔ اور وہاں سامان رسد بہت کافی موجود تھا۔ ابویزید نے حملہ کر کے مہدیہ کی شہر پناہ تک اپنی فوجوں کو پہنچا دیا۔ مگر مہدیہ کے اندر داخل نہ ہو سکا۔ ابویزید نے بار بار مہدیہ کا محاصرہ کیا۔ مگر مہدیہ کی فتح پر قادر نہ ہوا۔ ۳۳۴ھ میں ابویزید مجبور ہو کر قیروان کی طرف لوٹا اور ابوالقاسم کی فوج نے مہدیہ سے نکل کر اس کے لشکر پر چھاپے مارنے شروع کیے۔