دولت عبیدیین مصر و افریقہ میں

ابوالقاسم نزار

ابوالقاسم نے تخت نشین ہو کر اول تو ان معمولی بغاوتوں کو جو عبیداللہ کی وفات کی خبر سے برپا ہوئی تھیں فرو کیا۔ پھر مراکش کی طرف متوجہ ہوا۔ یہاں موسیٰ بن ابی العافیہ آ کر پھر قابض ہو گیا تھا۔ ۳۲۴ھ تک سوائے فاس کے تمام ملک مراکش پر ابوالقاسم کی حکومت یا سیادت پھر قائم ہو گئی اس کے بعد ابوالقاسم نے ابن اسحٰق نامی ایک سردار کو زبردست بحری فوج اور جنگی بیڑہ دے کر بحر روم کے شمالی ساحلوں پر تاخت و تاراج کرنے کے لیے روانہ کیا۔ ابن اسحٰق نے ساحل پر اتر کر شہر جنیو اتک تاخت و تاراج کر کے جینوا کو فتح کر لیا۔ پھر وہاں سے رخصت ہو کر جزیرہ سردانیہ کو فتح کیا۔ اس کے بعد ساحل شام کی طرف متوجہ ہوا اور وہاں کے ساحلی علاقوں کو دھمکیاں دے کر ساحل شام پر جو کشتیاں ملیں ان کو جلا دیا۔ پھر ابن اسحٰق نے اپنے ایک خادم زیران نامی کو فوج دے کر ساحل مصر کی جانب روانہ کیا۔ زیران نے اسکندریہ پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد ابوالقاسم کو ابویزید کے ہنگاموں سے کسی دوسری طرف متوجہ ہونے کی فرصت نہیں ملی۔