مراکش و افریقہ
دولت اغالبہ افریقہ
دوسری جلد میں خلافت عباسیہ کے حالات بیان کرتے ہوئے یہ ذکر ہو چکا ہے کہ سب سے پہلے ملک اندلس حکومت و خلافت عباسیہ سے الگ ہو گیا تھا۔ اور وہاں ایک خود مختار حکومت و سلطنت بنو امیہ کی قائم ہو گئی تھی۔ جس کا حال اوپر بیان ہو چکا ہے۔ اندلس کے بعد مراکش کا ملک خلافت عباسیہ سے جدا ہوا اور وہاں ایک خود مختار ادریسہ سلطنت قائم ہوئی۔ اس ادریسیہ حکومت کا حال بھی مختصر طور پر اوپر بیان ہو چکا ہے۔ مراکش کے بعد افریقیہ یا تونس یا طرابلس الغرب کا ملک خلافت عباسیہ سے جدا ہوا اور وہاں حکومت اغالبہ قائم ہوئی۔ اس حکومت اغالبہ کا حال اب مختصر طور پر بیان ہوتا ہے۔ افریقہ کا ملک۱؎ بھی علاقہ بربر میں شامل ہے۔ خلافت امیہ کے زمانے میں ممالک بربر شمالی افریقہ کے تمام ملکوں کا نگران وائسرائے اسی ملک افریقہ یا طرابلس کے شہر قیروان میں رہتا تھا۔ اور مراکش و اندلس کے گورنر اسی قیروان کے وائسرائے کی تجویز سے مقرر ہوئے تھے۔ خلافت عباسیہ کے زمانے میں جب اندلس و مراکش کے ملک دائرہ حکومت عباسیہ سے خارج ہو گئے۔ تو قیروان کے وائسرائے کی حیثیت ایک معمولی صوبہ دار یا گورنر کی رہ گئی تھی۔ رعایا‘ اور آب و ہوا کے اعتبار سے یہ ملک بھی چونکہ ملک
۱؎اس وقت افریقہ کو ملک ہی کہا جاتا تھا۔ اب یہ ایک بہت بڑا براعظم ہے‘ جس کو عالمی طاغوت نے تقریباً چالیس ممالک میں تقسیم کر رکھا ہے۔
مراکش سے مشابہت رکھتا تھا۔ اور یہاں بھی بربری لوگ ہی زیادہ آباد تھے۔ لہٰذا یہ صوبہ بھی ہمیشہ معرض خطر ہی میں رہتا تھا۔ اور یہاں جلد جلد عامل یا گورنر تبدیل ہوتے رہتے تھے۔ بغاوتوں اور سرکشیوں کا سلسلہ بھی برابر جاری تھا۔