مراکش و افریقہ

فتوحات

ادریس اصغر نے بہت جلد امور سلطنت سے واقف و آگاہ ہو کر قلم دان وزارت مصعب بن عیسیٰ ازدی کو سپرد کیا۔ اور رفتہ رفتہ اپنی حدود سلطنت کو وسیع کر کے قریباً تمام ملک مراکش پر قبضہ کر لیا۔ اور نہایت خوبی کے ساتھ حکومت کرنے لگا بہت سے عرب‘ اندلس و افریقہ اور مصر و شام سے آ آ کر ادریس اصغر کے پاس جمع ہونے لگے اور ان لوگوں کی وجہ سے حکومت و سلطنت میں رونق اور شان و شوکت کے آثار نمایاں ہو گئے اسحٰق بن محمد بن عبدالحمید کا ذکر اوپر آ چکا ہے۔ وہ اس سلطنت ادریسیہ کے اعلیٰ اراکین میں شامل تھا اور اسی کی ابتدائی امداد و اعانت سے ادریس اول کو اپنی حکومت کے قائم کرنے میں بڑی آسانی ہوئی تھی۔ مگر ۱۹۲ھ میں اس کو اس الزام میں قتل کر دیا گیا۔ کہ وہ ابراہیم بن اغلب سے ساز باز رکھتا ہے اور اسی کے اشارے سے راشد مقتول ہوا تھا۔ بولیلی یا بولیہ جہاں اب تک درالحکومت تھا۔ ایک چھوٹا سا مقام تھا۔ ۱۹۳ھ میں ادریس اصغر نے بولیلی سے مقام فاس میں آ کر اس کے قریب ایک جدید شہر کی بنیاد ڈالی اور اسی کو اپنا دارالحکومت بنایا۔ اس عرصہ میں تلمسان کا علاقہ اس کے قبضے سے نکل گیا تھا۔ ۱۹۷ھ میں اس نے تلمسان کو فتح کیا اور اس کے نواحی علاقے کو اپنے تصرف میں لا کر ۱۹۰ھ تک تلمسان میں مقیم رہا۔ اس کے بعد وہ جب فاس کی طرف گیا تو بربروں نے پھر اپنی جبلی عادت کے موافق بغاوت اختیار کی اور ابراہیم بن اغلب کی حکومت تسلیم کر لی اس طرح ابراہیم بن اغلب اور ادریس اصغر کے درمیان چند روز تک کشمکش جاری رہی۔ آخر ادریس اصغر اور ابراہیم بن اغلب کے درمیان صلح ہو گئی۔ اور مراکش کا ملک ہر طرح خلافت عباسیہ سے بے تعلق ہو گیا اور وہاں ایک مستقل ادریسیہ سلطنت قائم ہو گئی۔